Main Menu

یواے ای ٹیسٹ سیریز: کپتان سرفراز بمقابلہ ولیمسن

کرکٹ کے اہم فارمیٹ میں سرفراز احمد کا قائدانہ صلاحیت سے عاری ہونا شائقین کے لئے اذیت کا باعث بننے لگا۔۔۔ کپتانی کسے کہتے ہیں سرفراز کو ولیمسن سے سیکھنے کا مشورہ دے دیا۔۔۔

کسی بھی کرکٹ ٹیم کے کپتان میں چستی، پھرتی اور ذہانت ہونا ضروری ہے لیکن اس سے بھی ضروری چیز کپتان کی قائدانا صلاحیت ہوتی ہے جس کے بل بوتے پر وہ اپنی ٹیم کو تگڑے حریف کے خلاف فتحیاب ہونے کا حوصلہ پیدا کردیتا ہے۔۔۔

یہاں حساب الٹا ہے۔۔۔ ٹیم اچھا کر جائے تو کریڈٹ کپتان کا لیکن اگر ٹیم مشکل میں پڑ جائے تو کپتان اپنے کھلاڑیوں کے پیچھے چھپتا پھرتا ہے۔۔۔۔ کپتان کا ساتویں نمبر پر بیٹنگ کرنا اس کی مثال ہے۔۔۔

قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی اپنی جگہ لیکن سرفراز کی ناقص کارکردگی اور کپتانی نے شائقین کو انتہائی مایوس کیا۔۔۔ کپتان کیویز کے خلاف 5 اننگز میں 17رنز کی اوسط سے 88 رنز بنا سکے۔۔۔ سیریز کے آخری میچ کوئی اسٹمپ کیا نہ کیچ پکڑسکے۔۔۔

اوسط درجے کی کیپنگ اور بیٹنگ شائقین کے لئے قابل قبول لیکن سرفراز کی کپتانی میں جیتے میچ ہارنے سے ان کے ٹیسٹ کیریئر پر بدنما داغ بنتے جارہے ہیں۔۔۔

دوسری جانب کیوی کپتان ولیمسن ہیں جنھوں نے کیپٹن اننگز کھیل کر نہ صرف اپنی ٹیم کو شکست سے بچایا بلکہ نیوزی لینڈ کو تاریخی فتح سے بھی ہمکنار کیا۔۔۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*