Main Menu

انگلینڈ ورلڈ کپ: شاہینوں نے کیا کھویا کیا پایا

ورلڈ کپ میں کپتان سرفراز سمیت سینئر کھلاڑیوں شعیب ملک، فخرزمان، آصف علی اور حسن علی کی ناقص کارکردگی نے قوم کو انتہائی مایوس کیا۔۔۔

ورلڈ کپ میں گرین شرٹس کی قیادت کرنے والے سرفراز احمد میگا ایونٹ میں قابل ذکر کامیابی نہ دکھا سکے۔۔۔

کپتان سرفراز نے ورلڈ کپ کے 8 میچز میں 143 رنز بنائے جبکہ آخری پانچ میچز میں صرف 40 رنز بناسکے۔۔۔

سرفراز احمد نے ورلڈ کپ کے اہم میچز میں ساتویں اور آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کی اور دو بار رن آؤٹ ہو کر ٹیم کو مشکلات کا شکار کیا۔۔۔

آصف علی نے ورلڈ کپ کے دو میچز میں صرف 19 رنز بنائے۔۔۔

شعیب ملک کو ورلڈ کپ میں تین میچز ملے اور وہ صرف 8 رنز ہی بناپائے۔۔۔

محمد حفیظ بھی ملی جلی کارکردگی ہی دکھا سکے۔۔۔

پاکستان کے اہم بلے باز فخرزمان 8 میچز میں 23 رنز کی اوسط سے صرف 186 رنز بناسکے۔۔۔

محمد عامر اور حارث سہیل نے اپنی سلیکشن کو درست ثابت کرتے ہوئے جاندار پرفارمنس دی۔۔۔

ورلڈ کپ سکواڈ میں جنید خان کی جگہ شامل ہونے والے محمد حسنین جنید خان کی طرح بدقسمت رہے اور بغیر میچ کھیلے واپس لوٹ آئے۔۔۔

مشن ورلڈ کپ میں ناکامی نے پاکستانی شائقین کو کرکٹ کا ایک اور داغ دے دیا ہے۔۔۔ ٹیم میں ایک جانب تجربہ کار کھلاڑی ناکامیوں کی داستان رقم کرتے نظر آئے تو دوسری جانب پاکستان کو بابراعظم اور شاہین شاہ آفریدی کی صورت میں بہترین ٹیلنٹ بھی میسر آ گیا۔۔۔

بابراعظم نے اپنا پہلا ورلڈ کپ کھیلتے ہوئے لیجنڈری بلے باز جاوید میانداد کا 437 رنز بنانے کا ریکارڈ اپنے نام کرلیا ہے۔۔۔

شاہین آفریدی نے بنگلادیش کے خلاف چھ وکٹیں لے کر ورلڈ کپ کے کم عمر ترین باولر کا اعزاز حاصل کیا۔۔۔

وہاب ریاض نے زخمی ہونے کے باوجود سابق کپتان عمران خان کا ورلڈ کپ میں 34 وکٹوں کا ریکارڈ توڑ دیا۔۔۔

قومی ٹیم نے ورلڈ کپ میں پاکستانی قوم کی امنگوں کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ تو نہیں کیا لیکن پھر بھی پی سی بی کو چاہئے کہ وہ ٹیم اور مینجمنٹ کو گریس پیریڈ دیتے ہوئے انہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ خود ہی کرنے دے۔۔۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*