Main Menu

پی سی بی نے نیا ڈومیسٹک اسٹرکچر متعارف کرا دیا

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا نیا ڈومیسٹک اسٹرکچر متعارف کرا دیا گیا ہے جس کے تحت کھلاڑیوں کی تنخواہ اور میچ فیس میں واضح اضافہ کیا گیا ہے۔

پی سی بی ڈومیسٹک سیزن 2020-2019 میں ایک ارپ روپے سے زائد کی رقم خرچ کرے گا۔

سیزن میں ہر کھلاڑی کی سالانہ آمدن 20 لاکھ روپے ہو گی جبکہ ڈومیسٹک سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑی سالانہ چھ لاکھ روپے تنخواہ وصول کریں گے۔

قائد اعظم ٹرافی کی میچ فیس 50 ہزار سے بڑھا کر 75 ہزار روپے کر دی گئی ہے جبکہ پاکستان کپ کی میچ فیس 40 ہزار روپے مقرر کر دی گئی ہے۔

نان فرسٹ کلاس میچز کی فیس آٹھ ہزار سے بڑھا کر تیس ہزار کر دی گئی۔تین روزہ کرکٹ میں انڈر نائنٹین کھلاڑیوں کو دس ہزار اور ایک روزہ کرکٹ میں پانچ ہزار روپے ملیں گے۔ڈومیسٹک سیزن کے دوران کھلاڑی تھری اور فور سٹار ہوٹل میں قیام کریں گے۔

نئے ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر کے خدوخال پر نظر دوڑائیں تو اس میں سابق کرکٹرز کے لیے کوچنگ اور منیجمنٹ کے مواقع پیدا کیے جارہے ہیں جبکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں بہترکارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کی مراعات میں اضافہ کیا جارہا ہے۔

پہلے درجے میں 90 سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز اسکول اور کلب کرکٹ مقابلوں کا انعقاد کریں گی، دوسرے درجے میں سٹی کرکٹ ٹیمیں انٹرا سٹی مقابلوں میں شرکت کریں گی جبکہ تیسرے درجے میں 6 ایسوسی ایشنز کی ٹیمیں پی سی بی کے زیراہتمام ٹورنامنٹس میں شرکت کریں گی۔

نئے ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر میں ہر کرکٹ ایسوسی ایشن 32 کھلاڑیوں کو سالانہ کنٹریکٹ دے گی، یہ کھلاڑی پی سی بی کے سنٹرل کنٹریکٹ کاحصہ نہیں ہوں گے۔

اس ضمن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے کہا کہ کرکٹ کے معیار میں بہتری لانا پی سی بی کی اولین ترجیح ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر کے نفاذ سے قومی کھلاڑیوں کی کارکردگی میں تسلسل آئے گا، اس کی تیاری میں پی سی بی صوبائی ایسوسی ایشنزکی مکمل معاونت کرے گا۔

اس موقع پر چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ٹیسٹ کرکٹ کی اہمیت پر یقین رکھتا ہے، یہ اسٹرکچر ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے لیے پاکستان کو بہترین ٹیم کے انتخاب میں مدد دے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر 450 کھلاڑی، کوچز اور دیگر اسٹاف ممبران اس ڈومیسٹک اسٹرکچر میں شرکت کریں گے۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*