Main Menu

احسان مانی کے بیان کے بھارت میں چرچے

نئی دہلی:  پاکستانی موقف نے بھارتی تن بدن میں آگ لگا دی، ورلڈکپ کیلیے پی سی بی کے ویزوں کی یقین دہانی کے بیان کو بچکانہ قرار دے دیا۔

بی سی سی آئی کے آفیشل کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے ہی غیرملکی ایتھلیٹس کے حوالے سے اپنی پالیسی واضح کرچکی، ایک کرکٹ بورڈ حکومتی معاملات کی یقین دہانی کیسے کرا سکتا ہے؟ اس طرح کی باتیں ہمارے لیے حیران کن ہیں، ہوسکتا ہے کہ احسان مانی خود ہی اپنی ٹیم کو ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ سے باہر کرنے کے بہانے ڈھونڈ رہے ہوں۔

انھیں سیاسی بیانات کے بجائے دونوں ممالک میں کرکٹ تعلقات کو بہتر بنانے پر کام کرنا چاہیے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نے گذشتہ دنوں ایک بار پھر واضح کیا تھا کہ ہم نے آئی سی سی کو خط لکھا ہے جس میں بھارتی بورڈ سے پاکستانی کھلاڑیوں، آفیشلز اور صحافیوں کو ویزوں کے اجرا کی ضمانت طلب کرنے کو کہا گیا، بصورت دیگر ایونٹ کو متحدہ عرب امارات منتقل کرنے کے مطالبے کا عندیہ دیا۔

اس پر بی سی سی آئی کے ایک آفیشل نے بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں احسان مانی کے بیان پر حیرت ہوئی، خاص طور پر اس لیے بھی کہ وہ حالیہ کچھ عرصے میں سارو گنگولی کے ساتھ آئی سی سی میں مل کر کام کرتے رہے اور ان کی رہنمائی بھی کی، وہ ایک شریف انسان ہیں مگر ان کا ویزوں سے متعلق بیان بچکانہ ہے، وہ اپنی ٹیم کو ٹورنامنٹ سے باہر کرنا چاہتے ہیں یا پھر ایسی باتوں سے اپنے ملک میں مقبولیت حاصل کرنے کی خواہش ہے، اگر  اس کو سیاسی ایشو بنانا چاہتے ہیں تو آپ کی مرضی ہے۔

ہماری حکومت پہلے ہی غیرملکی ایتھلیٹس کے بارے میں اپنی پالیسی واضح کرچکی، کرکٹ بورڈ حکومتی معاملات کی ضمانت کیسے دے سکتا ہے، مانی کو دونوں بورڈز میں مزید فاصلے بڑھانے کے بجائے کرکٹ تعلقات کو معمول پر لانے کیلیے کام کرنا چاہے۔ یاد رہے کہ 2019 میں بھارت نے جب پاکستانی شوٹرز کو ایک ایونٹ کیلیے اپنے ملک کے ویزے نہیں دیے تھے تب انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے آئندہ اسے کسی ایونٹ کی میزبانی نہ دینے کا اعلان کیا تھا، جس پر بھارتی حکومت نے آئی او سی کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ کسی بھی اسپورٹس ایونٹ کیلیے کسی ملک کے ایتھلیٹس کی شرکت میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*