Main Menu

مجھے اپنے میاں کی طرح فارغ رہنا بالکل بھی اچھا نہیں لگتا :نینا اکبر

nina akbar jp 1

C.E.O…SUKH CHAN WELLNESS CLUB

ٓٓانٹرویو:اشفاق مغل
اہتمام : شہباز احمد ککو
تصاویر: آصف جٹ

سکھ چین ویلنس کلب کا آئیڈیا کیسے آیا اور اتنا پیارا اور منفردنام کس کے کہنے پر منتخب کیا؟
سکھ چین ویلنس کلب کا آئیڈیا میرے ذہن میں میرے میاں محمود اکبر کی مصروفیت کے سبب آیا وہ دن بھر اپنے کام میں مگن رہتے تھے تو میں گھر میں خود کو اکیلی محسوس کرتی تھی پھر ماشاءاللہ سے بیٹی ہوئی تو اس کی طرف توجہ ہوئی لیکن جب وہ سکول اور کالج جانے لگی تو میں خود کو مصروف رکھنے کے لیئے سوچا کرتی تھی۔ مجھے اپنے میاں کی طرح فارغ رہنا بالکل بھی اچھا نہیں لگتا میں ان کی طرح اپنے آپ کو مصروف رکھنا چاہتی تھی اور جب میری بیٹی جوان ہوگئی تو میرے پاس کافی ٹائم تھا تب میرے ذہن میں ایک خاکہ سا ابھراکہ کیونکہ میں کوئی ایسی جگہ بناو¿ں جہاں میں خود کو مصروف بھی رکھ سکوں اورمجھے وہاں سکون ملے اور دوسرے لوگ بھی اس جگہ سے فائدہ اٹھا سکیںجب میں نے اپنے ذہن میں سوچ لیا کہ کوئی ایسی جگہ بنائی جائے جہاں لوگ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت گزارسکیں اور انہیںپرسکون ماحول بھی میسر آسکے تب میرے ذہن میں کافی عرصے سے بننے والا ایک خاکہ اور خیال سکھ چین کی صورت میں حقیقت بنا کر سامنے آیا اور میں نے اس پر کام شروع کردیا۔سکھ چین نام بھی میں نے خود منتخب کیا لیکن اس کے لیئے مجھے بہت سوچنا پڑا۔ویلنس کلب کے لیئے میں نے بہت سارے نام سوچے ، انگلش نام تو بہت تھے مگر میں کوئی ایسا دیسی نام رکھنا چاہتی تھی جس سے میرے ویلنس کلب کا سارا منظر لوگوں کے سامنے آجائے۔ وہ نام مجھے میرے پرسکون ماحول والے آئیڈیا سے ملااور میں نے سکھ چین نام اپنے ویلنس کلب کے لیئے منتخب کرلیا۔

سکھ چین ویلنس کلب کیا ہے اور اس کی پاکستان میں کتنی برانچیں ہیں؟
سکھ چین بنیادی طور پر ایک کمیونٹی سینٹر ہے جہاںتمام سہولیات بین الاقوامی معیار کے مطابق ہیں،یہاں ایکسرسائز کے لیئے جم اور ٹریننگ انسٹرکٹرز موجود ہیں جم سٹاف کینیا کے ماہر انسٹرکٹرز پر مشتمل ہے اور ان کا ساتھ دینے کے لیئے فلمسٹار رنگیلا کے بیٹے جو مسٹر پاکستان رہ چکے ہیں ان کی معاونت کرتے ہیں، ہماری مس عابدہ بہت اچھی انسٹرکٹر ہیں جو یوگاکلاسسز لے رہی ہیں ، سینماگھر، سوئمنگ پول، سکوائش کورٹ ، شادی ہال ، لیڈیز اینڈ جینٹس بیوٹی سلون ،مساج سینٹربنا چکے ہیں۔ سکھ چین کی لاہورمیں ابھی صرف ایک برانچ کام کررہی ہے اور دوسری برانچ ڈیفنس (فیرزiv)میں اس سال کے اختتام تک مکمل ہوجائے گی ۔مستقبل میں ہیلتھ فارم بنانے کابھی ارادہ ہے۔

سکھ چین ویلنس کلب کو کامیابی کے ساتھ چلانے والے سٹاف کی قابلیت کیا ہے اور یہ کتنے لوگ ہیں؟
الحمدوللہ! ہمارے پاس ہائی کوالیفائیڈ سٹاف موجود ہے۔ میرے پاس 135 کا سٹاف موجود ہے اور ان میں سے زیادہ سٹاف تھالی لینڈ سے ہے جنھیں میں خاص طور پر خود وہا ںسے ان کی قابلیت ان کی ڈگریاں اور ان کے کام کو دیکھتے ہوئے تلاش کرکے لائی ہوں ۔

سکھ چین ویلنس کی ممبر شپ کا کیا طریقہ کار ہے اور سکھ چین کے ممبران کو کیا سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں؟
ہمارے کلب میں ممبر شپ حاصل کرنے والوں کو خوش دلی سے خوش آمدید کہا جاتا ہے اور یہاں تین طرح کی ممبر شپ دی جاتی ہے ۔ جن میں مستقل ممبرشپ ،سنگل اور فیملی ممبر شپ شامل ہیں۔ سکھ چین میںتمام قسم کی ممبر شپ حاصل کرنے کی صورت میں ہمارے تمام ریسٹورنٹس پر 15 فیصد رعایت دی جاتی ہے۔پارکنگ اور اپنے بوڑھے والدین کو ویلنس کلب کی سیرکرانے کی سہولت بھی دی جاتی ہے ۔

جس طرح آپ بتا رہی ہیں کیالاہور میں کسی اور کلب میںبھی اس طرح کی سہولیات میسر ہیں؟
دوسرے کلبوں میں سنگاپور کے سٹاف زیادہ ہوتا ہے لیکن ہمارے پاس تھائی لینڈ کا ماہر سٹاف موجود ہے جو کسی اور کلب کے پاس موجود نہیں اس کے علاوہ بھی جو سٹاف ہے وہ پاکستان کا بیسٹ سٹاف ہے ۔ ہمارے مقابلے میں رائل پام گالف اینڈکنٹری کلب ہے جسے رقبہ زیادہ ہونے کا پلس پوائنٹ حاصل ہے اس کے علاوہ شیپس بھی آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے مقابلے کا ہے لیکن وہاں سٹاف ہمارے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ۔

سالٹ اینڈ پیپرگزشتہ 13 سال سے اپنے معیار اور لذت کو برقرار رکھے ہوئے ہے اس کا راز کیا ہے اور لاہور کے علاوہ کن شہروں میں سالٹ اینڈ پیپر کی برانچیں موجود ہیں؟
سالٹ اینڈ پیپر کوتیرہ سال پہلے میرے میاں محمود اکبر نے مال روڈ سے شروع کیا ۔آج الحمدو للہ اس کی 8 برانچیں ہیں جن میں سے چھ برانچیں لاہور میں ایک کراچی اور ایک یوکے میں کام کررہی ہے۔ فیصل آباد سمیت پاکستان کے دیگر شہروں میںمزید برانچیں بنانے کا ارادہ ہے ۔ جہاں تک بات ذائقے اور معیار کی ہے تو ہماری تمام چیزیں کوالٹی کی ہوتی ہیں ۔صحت مند جانور خرید کر ان سے گوشت حاصل کرتے ہیں ، ہمارے سادہ کھانوں میں استعمال ہونے والے تمام مصالحہ جات بھی ثابت ہوتے ہیں جنھیں ہم صاف کرنے کے بعدپیسکراستعمال کرتے ہیں۔nina akbar jp

محمود اکبر صرف گھر سے کھانا بناتے ہوئے اس فیلڈ میں آگئے یا انہوں نے کوکنگ کا کوئی سرٹیفکیٹ بھی حاصل کیا ؟
میرے میاں امریکہ سے ہوٹل مینجمنٹ کا چار سالہ ڈپلومہ رکھتے ہیںدوران ڈپلومہ جب انہیں پاکستان میں ہیلٹن ہوٹل کے لیئے منتخب کیاگیا تو وہ امریکہ چھوڑ کرپاکستان آگئے ۔اس کے بعد انہوں نے اپنے چند دوستوں کے ساتھ مل کر برگرالیون کے نام سے شروع کیا وہ پہلے دن سے ہی بہت اچھا چلا مگر تین ماہ کے بعد ہمیں اس لیئے چھوڑنا پڑگیا کیونکہ باقی پارٹنرز نے زیادہ شیئرز کی ڈیمانڈ کردی۔میں نے اپنے میاں کے اندر ٹیلنٹ دیکھا تو انہیں مشورہ دیااور انہوں نے پہلے سالٹ اینڈ پیپرکے بعد ویلج، پھر ایم ایم عالم روڈ پر اٹلیانواور حویلی شروع کیئے جو بعد میں بند کرنے پڑے۔ اب سالٹ اینڈ پیپراور ویلج اچھے چل رہے ہیں۔

اپنی ابتدائی زندگی اور اپنی فیملی بارے کچھ بتانا پسند کریں گی ؟
میری پیدائش واہ کینٹ راولپنڈی میں ہوئی اور میں نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنی باقی کی تعلیم کراچی سے حاصل کی۔ 1980 میں شادی ہوئی، ہماری ایک بیٹی ہے جواپنے میاں کے ساتھ بیروط میں ہوتی ہے۔میری فیملی 1977 میں کینیڈا شفٹ ہوگئی تھی لیکن مجھے وطن کی محبت تین سال بعد ہی پاکستان کھینچ لائی ۔ شادی کے بعد میں اپنے میاں کے پاس لاہو رآگئی اور تب سے میں یہیں لاہور میں ہی ہوں اور اپنا پیسہ بھی اپنے ملک میں لگا رہی ہوں ۔

کیا آپ اپنے سالٹ اینڈ پیپر اور ویلج کو بھی وقت دیتی ہیں ؟
میرے میاں لندن ہوں تو میں ویلج میں جاکر بیٹھ جاتی ہوں وہاں کا نظام سنبھالتی ہوں اور اگر وہ یہاں موجود ہوں تو بہت کم جاتی ہوں۔

سکھ چین ویلنس کلب کے علاوہ کس چیز سے لگاو¿ رکھتی ہیں؟
مجھے سوئمنگ کا شوق ہے، گانے کا شوق ہے آج کل غزلیں اور پنجابی گیت سیکھ رہی ہوں، کتابیں پڑھنے کا شوق ہے خاص کر ایسی کتابیں جن سے کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ملے۔ اس کے علاوہ پولو دیکھنے کا شوق ہے کیونکہ میری فیملی میں پولو بہت مقبول ہے ، نامور پولو پلیئرسکندر بیگ میرے خالو تھے ، میرے فرسٹ کزنزبھی پولو سے بہت لگاو¿ رکھتے ہیں اسی لیئے اکثر پولوکلب پولو مقابلے دیکھنے جاتی ہوں۔

پاکستان کے موجودہ حالات میں کھیلوں کی سرگرمیاں بہت کم ہوکررہی گئیںہیں اس بارے کچھ کہنا چاہیں گی ؟
پاکستان میں کھیل کے ماحول کوپروان چڑھانا چاہیے کیونکہ ان حالات میں کھیل ہی قون جو یکجا رکھنے کا واحدذریعہ ہیں۔

مسلم لیگ ن کی حکومت سے آپ کی توقعات کیا ہیں؟
بس یہ کہ اللہ کرے میاں نواز شریف کی حکومت مایوس نہ کرے ۔ سیاست دان اپنا پیسہ باہر کے ممالک میں رکھنے کی بجائے ہماری طرح اپنے ملک میں لگائیں تاکہ یہاں خوشحالی آئے ۔ بڑے افسوس کے ساتھ کہہ رہی ہوں کہ موجودہ اور پچھلی حکومت کے دور میں ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکا۔

اگر آپ کو عوام کی قسمت سنوارنے کا موقع ملے تو سیاست کے میدان میں اتریں گی؟
سیاست کرنے اورپارلیمنٹ میں جانے کاشوق ہے لیکن اس کے لیئے روایتی زبان استعمال نہیں کرنا چاہتی کوئی دھونس دھاندلی کا نظام نہیں چاہتی مجھے صرف شرافت کی زبان آتی ہے اور سیاست میں اس کی کوئی وقعت نہیںکیونکہ یہ زبان کسی کی سمجھ میں نہیں آئے گی ۔

جیت پاکستان کے پلیٹ فارم سے کسی کے لیئے کوئی پیغام دینا چاہیں گی ؟
بالکل میں کہنا چاہوں گی کہ جو بھی پاکستانی ہے وہ ملک کے لیئے ضرور سوچے اور اپنے شعبے میں مہارت حاصل کرکے ملک کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرے ، سیاست دان ، سائنس دان ، ڈاکٹر، انجینئر، وکلاء، پولیس اور سٹوڈنٹس سب مل کر ملک کے لیئے پلان تیار کریں کہ آئندہ دس بیس سالوںمیںپاکستان کے لیئے بجلی ، پانی ، گیس ، سولڈاینڈ ویسٹ مینجمنٹ ، ڈیم اور دیگر ترقیاتی منصوبے کیسے پایہ تکمیل پہنچانے ہیں ،صحت اور تعلیم کے شعبوں کو کیسے ٹھیک کرنا ہے ۔ حکومت سے کہوں گی کہ وہ 150 بلین ڈالر ان چیزوں پر لگائیں لاءاینڈ آرڈر کو ٹھیک کریں اور بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے لیئے فوج کو ڈیمز کی حفاظت پر مامور کرکے ڈیم بنائیں۔nina akbar jp 2






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*