Main Menu

پولو پاکستان کا واحد کھیل جس میں غیرملکی تسلسل کے ساتھ شرکت کررہے ہیں۔ عثمان حی مہتا

jeetpakistan usman mahta

لاہور (انٹرویو: شہباز اختر / تصاویر :عمران مجید)لاہور پولو کلب کے کپتان اور مہتا برادرز کے ڈائریکٹر عثمان حی مہتانے کہا ہے کہ پولو پاکستان کا واحد کھیل ہے جس میں تمام ممالک کے تسلسل کے ساتھ کھلاڑی شرکت کررہے ہیں، پاکستان میں حسام علی حیدر سے بہتر کوئی پلیئرنہیں لیکن اس کھیل کے فروغ کے لیئے صرف ملک میں اچھے کھلاڑی ہونا کافی نہیں ، بہترین کوالٹی کے گھوڑے اور عالمی معیار کے گراو¿نڈز پاکستان کی پولو میں رینکنگ بہتر کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ”جیت پاکستان “کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ نیشنل اوپن پولوچمپئن شپ کے فاتح عثمان حی نے بتایا کہ لرننگ الائنس (learning aliens) سپانسر شپ کی بدولت انہیں نیشنل اوپن چمپئن شپ جیتنے کا موقع ملااور اس میں احمد علی اور کامران کی محنت بھی شامل حال رہی جبکہ کیلنڈر ایئرکے دوبڑے ایونٹ ایبک اور پنجاب بلال حی مہتا کی ٹیم جیتنے میں کامیاب رہی ۔ عثمان حی نے بتایا کہ ملک میں دہشت گردی کے سبب پاکستان میں انٹرنیشنل مقابلوں کا انعقاد بہت مشکل ہوچکا تھا ۔ زمبابوے کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان آنے کا اعلان کرکے کرکٹ کی بحالی کا عندیہ دیا ہے جو کہ خوش آئند ہے لیکن وہ یہاں یہ ضرور کہنا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں پولو واحدکھیل ہے جس کے تمام سیزن میں انگلینڈ ، چلی ، برازیل اور ارجنٹائن سمیت پوری دنیا کے پولو کھلاڑی پاکستان آتے رہے ہیں اور یہاں مختلف ایونٹس میں شرکت کرکے دیگر کھیلوں کے کھلاڑیوں اور آرگنائزروں کو ایک مثبت پیغام دیتے رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں عثمان حی نے کہا کہ ان کے والد عبدالحی مہتاکے لاہور پولو کلب کے صدر بننے سے اس کھیل کو کافی فروغ ملا ہے ۔ گراو¿نڈز کی کوالٹی بہتر ہوئی ہے اور اب بارش سے بھی ٹورنامنٹ منسوخ نہیں ہوتے بلکہ بہترین گراس اور لیول کی بدولت تھوڑی سی محنت کرنے کے بعدگراو¿نڈ کھیلنے کے قابل بن جاتی ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ اعلیٰ کوالٹی کے گھوڑے کے بغیر اس کھیل میں کامیابی ممکن نہیں اس لیئے ان کے کلب نے 30 گھوڑے باہر سے منگوائے ہیں جو ان کے استعمال میں ہیں یا پھر کوئی غیرملکی مہمان کھلاڑی چاہئے تو ان گھوڑوں کو استعمال کرسکتا ہے۔ عثمان حی نے بتایا کہ نیشنل ٹیم میں کھیلنا ان کا ہدف نہیں ہے بلکہ لوکل ٹورنامنٹ جیتنا ان کا جنون ہے اس لیئے جو کھلاڑی ان کے کلب میں آتے ہیں وہ انہیں پورا موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ جونیئرپولو لیگ کیمپ نئے کھلاڑیوں کے لیئے بہت سود مند ثابت ہورہا ہے اس سے پاکستان پولو کو بہت اچھے کھلاڑی میسر آرہے ہیں۔ حکومت سے پولو کی امداد بارے پوچھے گئے سوال پر عثمان حی نے کہا کہ حکومت کی ترجیح سپورٹس نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو حکومت پاکستان کے قومی کھیل کو بچانے کے لیئے فنڈز فراہم کرتی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بالکل درست ہے کہ فنڈز اور سپانسر شپ ہوگی تو کھیل ترقی کرے گا۔


jeetpakistan usman mahta (3)

لاہور (سپورٹس رپورٹر) تعارف: ۔ عثمان حی مہتا ہنڈی کیپ 2 کھلاڑی ہے جو پولو سے محبت کرنے والی فیملی سے تعلق رکھتا ہے جس نے 5 سال کی عمر میں گھوڑ سواری شروع کی اور صرف 15 سال کی عمر میں پولو کا باقاعدہ آغاز کردیا تھا۔ لاہور پولو کلب کے صدر عبدالحی مہتا ان کے والد اور نیشنل پولو ٹیم کے اہم کھلاڑی بلال حی مہتا ان کے بھائی ہیں ۔

jeetpakistan usman mahta (2)






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*