Main Menu

شاباش یونس ، ویل ڈن مصباح

پاکستان نے سری لنکا میں تاریخ رقم کردی
شاباش یونس خان
لیگ اسپنریاسر شاہ اورنوجوان بلے باز شان مسعود نے ثابت کردیا کہ ان کی جگہ پینچ پر نہیں

اشفاق حسین مغل
گرین شرٹس کو آئی لینڈز کے خلاف کامیابی کے ساتھ کئی انعام و اکرام بھی مل گئے ۔ عالمی کرکٹ تنظیم کی درجہ بندی میں تیسری پوزیشن اور کھلاڑیوں کی درجہ بندی میں بھی اضافہ ہوگیا۔نے آئی لینڈرز کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز 2-1 سے اپنے خلاف سب سے زیادہ رنز کاتعاقب کرتے ہوئے جیت لی ۔ فتح سمیٹنے میں پاکستان کے عظیم بلے باز جاوید میانداد کے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز کا ریکارڈ توڑنے والے یونس خان نے اہم کردار ادا کیا جبکہ تقریبا دوسال سے قومی ٹیم میں بینچ پربیٹھنے والے شان مسعود نے بھی سیریز جتوانے میں خوب مدد دی ۔ پاکستان نے سری لنکا کے خلاف 377 رنز کا ہدف تین وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا۔کسی بھی ٹیسٹ میچ میں یہ ٹوٹل ایشیا کا دوسرا بڑا ہدف تھاجسے تجربہ کار بلے باز یونس خان اور نوجوان بلے باز شان مسعود نے 242 رنز کی شراکت داری سے میچ کا فیصلہ پاکستان کے حق میں کردیا جس کے بعد سیریز بھی پاکستان کے نام ہوئی۔یہ سری لنکامیں سب سے بڑا اور دنیا ٹیسٹ کا چھٹا بڑا ہدف تھا جسے مصباح الیون نے حاصل کیا ۔ پاکستان کا سری لنکا میں ٹیسٹ سیریز جیتنے کا 9سالہ خواب بالآخر پوراہو گیا۔سری لنکامیں پاکستانی ٹیم دوہزا چھ سے میں انضمام الحق کی قیادت میں ٹیسٹ سیریز جیتی تھی جس کے بعد مسلسل تین ٹیسٹ سیریزوں میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔پاکستانی ٹیم نے تیسرے ٹیسٹ میں377 رنز کا ہدف حاصل کرتے ہوئے میچ جیت کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔اس سے قبل پاکستان نے جس سب سے بڑے ہدف کا تعاقب کیا وہ 315 رنز تھا جو اس نے 1994 میں آسٹریلیا کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں سنسنی خیز مقابلے کے بعدنو وکٹوں کے نقصان پر حاصل کیا تھا۔مصباح الحق نے وننگ چھکا لگا کر ٹیسٹ میچوں میں اپنے چار ہزار رنز مکمل کر لیے۔کپتان مصباح الحق 59 رنز پر ناٹ آو¿ٹ تھے جو اس سیریز میں ان کا سب سے بڑا سکور بھی ہے۔ انھوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے چار ہزار رنز بھی مکمل کر لیے۔اس فتح کے نتیجے میں 39 ٹیسٹ میچوں میں مصباح کی بطور کپتان کامیابیوں کی تعداد اب 18 ہوگئی ہے۔

CRICKET-SRI-PAK
پاکستان نے پہلے ٹیسٹ میں آسان کامیابی کے بعد دوسرے ٹیسٹ میں اپنی غلطیوں کی وجہ سے شکست کا منہ دیکھا تو تیسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی ٹیم کا مورال بہت نیچے گر گیا تھا ۔ تیسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بھی پاکستانی بلے بازوں نے قوم کی امیدوں کو پورا نہ کیا تاہم میچ کی دوسری اننگز میں پاکستانی بلے بازوں شان مسعود اور یونس خان نے وہ کردکھایا جس کی کسی بھی پاکستانی کو توقع نہیں تھی ۔ شان مسعود نے شاندار 125 رنز بنائے جبکہ قومی ٹیم میں موجود سٹار بلے باز یونس خان نے کئی ریکارڈ توڑتے ہوئے 171 رنز کی ناقابل شکست باری کھیل کر پاکستان کے لیئے جیت کی راہ ہموار کی ۔ کپتان مصباح الحق نے بھی کیپٹن اننگز کھیلتے ہوئے 59 رنز جوڑے اور ناقابل شکست رہتے ہوئے پاکستان کو سیریز میں کامیابی کے ساتھ ساتھ عالمی رینکنگ میں تیسری پوزیشن بھی دلوادی ۔ چوتھی اننگز میں احمد شہزاد اور اظہرعلی نے قوم کومایوس کیا۔ تیسرے ٹیسٹ میچ کی چوتھی اننگز میں لنکن گیند باز وکٹوں کو ترستے رہے اوردودن کے کھیل میں صرف تین ہی وکٹیں حاصل کرسکے ۔

misbah younis
کپتان مصباح الحق
کا کہنا تھا کہ یہ جیت پاکستان کے لیئے حقیقت میں ایک بڑی جیت تھی جس میں یونس خان اور شان مسعود کی بلے بازی نے میچ سری لنکن کے ہاتھوں سے نکال کر پاکستان کی جھولی میں ڈال دیا۔ مصباح نے شان مسعود کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ نوجوان بلے باز نے پاکستان کے لیئے فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ یاسر شاہ اور عمران خان نے بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔مصباح الحق نے کہا کہ گزشتہ سال پاکستان نے دو ٹیسٹ میچز جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہار دیئے تھے لیکن اس مرتبہ ہماری یہ کوشش رہی کہ پرسکون انداز میں بلے بازی کی جائے۔ مصباح الحق نے کہا کہ سرفراز احمد نے پہلی اننگز میں بہتر بلے بازی کی ، اسد شفیق نے بھی پہلے ٹیسٹ میں شاندار بلے بازی کامظاہرہ کیا۔
مین آف دی میچ

CRICKET-SRI-PAK
یونس خان نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ وہ بہت زیادہ محنت کرتے ہیں لیکن ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ بیٹنگ اور فیلڈنگ میں اپنا حصہ ضرور ڈالیں اگر ضرورت ہوتوباولنگ میں بھی چند اوورز پھینکنے کو تیار ہوتا ہوںاور اس سب کا مقصد اپنے آپ کو ٹیم کی ضرور ت کے لیئے تیار رکھتا ہوں۔ یونس کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ میچ کی صورتحال کے مطابق کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ان کے ذہن میں 400 رنز کا ٹارگٹ تھا اور انہیں یہ بھی لگ رہا تھا کہ پاکستان یہ ہدف حاصل کرسکتا ہے اور بالکل ایسا ہی ہوا۔ انہوں نے شان مسعود کی بلے بازی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے نوجوانوں کا قومی ٹیم میں شامل ہونا اچھے مستقبل کی ضمانت ہے ۔ یونس خان نے یہاں اپنے اور مصباح الحق کی تحمل مزاجی کی بھی تعریف کی اور اسے نوجوان کرکٹرز کے لیئے مشعل راہ قراردیا۔ سٹار بلے باز نے لیگ اسپنر یاسر شاہ کی بھی تعریف کی اور چوتھی اننگز میں لنکن بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھانے والے عمران خان کی گیند بازی کو بھی سراہا۔
مین آف دی سیریز

CRICKET-SRI-PAK

سیریز میں تباہ کن باولنگ کا مظاہرہ کرنے والے لیگ اسپنریاسر شاہ نے کہا کہ وہ اپنا دسواں ٹیسٹ میچ کھیل رہے تھے اس لیئے انہیں کوئی دباو¿ نہیں تھالوگ کہتے ہیں کہ میں ہنستا رہتا ہوں تو یہ میرا قدرتی انداز ہے ۔ یاسر شاہ نے کہا کہ باولنگ کوچ مشتاق احمد نے ان کے ایکشن کو درست کروانے کے لیئے بہت محنت کی ہے ۔ یاسرشاہ کا کہنا تھا کہ ان کا ٹارگٹ اس سیریز میں 20 وکٹیں حاصل کرنے کا تھا جو کہ پورا ہوا۔
پالیکیلے ٹیسٹ کا پانچواں دن شروع ہوا تو پاکستانی ٹیم جیت سے 147 رنز کی دوری پر تھی اور دونوں سنچری میکر یونس خان اور شان مسعود کریز پر موجود تھے۔ ان دونوں کی شاندار ڈبل سنچری شراکت سے پاکستانی ٹیم جیت کی راہ پر تو آ گئی تھی لیکن یہ بات سب کو اچھی طرح معلوم ہے کہ پاکستانی بیٹنگ کتنی تیزی سے پلٹا کھا سکتی ہے۔شان مسعود نے اس میچ میں پاکستان کو فتح کی راہ پر گامزن کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔یونس خان کو شاید اچھی طرح یاد ہو گا کہ ان کی کپتانی میں پاکستانی ٹیم کو 2009 کی سیریز میں گال ٹیسٹ جیتنے کے لیے صرف 168 رنز کا ہدف ملا تھا اور تیسرے دن اس نے صرف دو وکٹوں پر 71 رنز بنا لیے تھے لیکن چوتھے دن پوری ٹیم 117 رنز پر ڈھیرہوگئی اور 50 رنز سے میچ ہارگئی تھی۔اس مرتبہ یونس خان نے ایسا کوئی موقع سری لنکا کے ہاتھ نہیں آنے دیا اور کپتان مصباح الحق کے ساتھ میچ کا اختتام سات وکٹوں کی شاندار جیت پر کیا۔پانچویں دن گرنے والی واحد وکٹ شان مسعود کی تھی جن کے خلاف وکٹ کیپر چندی مل کے ہاتھوں کیچ کی اپیل امپائر ای این گولڈ خاطر میں نہیں لائے تاہم تھارندو کوشل نے اپنے پہلے ہی اوور میں انھیں 125 کے انفرادی سکور پر سٹمپ کروا دیا۔لیکن اس کے بعد یونس خان اور مصباح الحق کے درمیان 125 رنز کی شراکت نے سری لنکا کے ہاتھ کچھ بھی نہیں رہنے دیا۔یونس خان 171 رنز بناکر ناٹ آو¿ٹ رہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کے رنز کی تعداد 8814 ہوگئی ہے اور پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ میں سب سے زیادہ 8832 رنز کے جاوید میانداد کے ریکارڈ کو اپنے نام کرنے کے لیے انھیں صرف 19 رنز درکار ہیں۔
چوتھے دن کھیل کے اختتام پر شان مسعود اور یونس خان ناٹ آو¿ٹ رہے۔شان مسعود نے 173 گیندوں پر دس چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری جبکہ یونس خان نے 165 گیندوں پر نو چوکوں کی مدد سے اپنی 30ویں سنچری سکور کی۔دوسری اننگز کے آغاز میں ہی پاکستان کو دوہرا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔آو¿ٹ ہونے والے پہلے پاکستانی بلے باز احمد شہزاد تھے جو دوسرے ہی اوور میں لکمل کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔ دوسرے اینڈ سے پرساد نے اظہر علی کو چندی مل کے ہاتھوں کیچ کروا کے اپنی ٹیم کو دوسری وکٹ دلوائی۔اس موقعے پر شان مسعود اور یونس خان نے محتاط انداز میں کھیلتے ہوئے ٹیم کو مشکل صورت حال سے نکالا۔اس سے قبل سری لنکا کی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں کپتان اینجلو میتھیوز کی سنچری کی بدولت 313 رنز بنانے میں کامیاب رہی اور اس طرح اسے پاکستان پر 376 رنز کی مجموعی برتری حاصل ہو گئی۔میتھیوز نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی پانچویں سنچری نو چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے مکمل کی اور 122 رنز بنانے کے بعد آو¿ٹ ہوئے۔پہلے سیشن میں ابتدائی طور پر تو سری لنکن بلے بازوں نے جم کر بیٹنگ کی لیکن پھر پاکستانی فاسٹ بولر عمران خان نے چھ اووروں میں پانچ وکٹیں لے کر میچ کو دلچسپ بنا دیا۔عمران نے اپنی ٹیم کو چوتھے دن کی پہلی اور مجموعی طور پر چھٹی کامیابی دنیش چندی مل کو آو¿ٹ کر کے دلوائی۔چندی مل نے نہ صرف نصف سنچری بنائی بلکہ میتھیوز کے ساتھ مل کر پانچویں وکٹ کے لیے 117 رنز کی اہم شراکت بھی قائم کی۔اسی اوور میں اگلی ہی گیند پر عمران نے پرساد کو سرفراز احمد کے ہاتھوں کیچ کروایا۔ وہ اس اننگز میں بھی کوئی رن نہ بنا سکے۔تھرندو کوشل عمران خان کی تیسری اور سرنگا لکمل چوتھی وکٹ بنے، ان دونوں کو بھی سرفراز نے ہی کیچ کیا۔ میتھیوز آو¿ٹ ہونے والے آخری سری لنکن بلے باز تھے۔پاکستان کی جانب سے عمران خان کی پانچ وکٹوں کے علاوہ یاسر شاہ اور راحت علی نے دو، دو جبکہ احسان عادل نے ایک کھلاڑی کو آو¿ٹ کیا۔لیگ سپنر یاسر نے اس ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بھی پانچ وکٹیں لی تھیں اور سیریز میں ان کی وکٹوں کی تعداد 24 ہو چکی ہے۔ان کی اس شاندار کارکردگی کی بدولت وہ صرف دس ٹیسٹ کھیلنے کے باوجود ٹیسٹ کرکٹ کے موجودہ دس بہترین بولروں کی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں۔تیسرے ٹیسٹ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر سری لنکا کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی تھی اور سری لنکا نے اپنی پہلی اننگز میں 278 رنز بنائے تھے۔اس کے جواب میں پاکستانی ٹیم پہلی اننگز میں 215 رنز بنا سکی تھی اور یوں سری لنکا کو پہلی اننگز میں 63 رنز کی برتری ملی تھی۔
پاکستان کی اس سیریز میں کامیابی کے بعد کوچ وقار یونس اور کوچنگ سٹاف کی جان میں جان آگئی ہے تاہم ون ڈے سیریز میں کامیابی قومی ٹیم کے لیئے نہایت ضروری ہے کیونکہ اس کی بنیاد پر قومی ٹیم چمپئن ٹرافی میں شرکت کرے گی یا نہیں فیصلہ ہونا باقی ہے۔

CRICKET-SRI-PAK






One Comment to شاباش یونس ، ویل ڈن مصباح

  1. […] لاکھ منت سماجت کے باوجود ہاکی فیڈریشن کو سہارا نہ ملا قومی کھیل کو خلوص نیت کی ضرورت گرین شرٹس کی بدترین شکست کے بعد سرجوڑ کر بیٹھنے والوں کو پہلے خواب غفلت سے جاگ جانا چاہئے تھا خواجہ سرمد فرخ پاکستانی ہاکی ٹیم کے تاریخ میں پہلی مرتبہ اولمپکس مقابلوں سے باہر ہونے اور بدترین شکست کا کھوج چلانے کے لیے صاحب اقتدار متواجہ ہوہی گئے ۔ بات اب صرف شکست کی وجوہات تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ پی ایچ ایف کے پیٹرن ان چیف وزیراعظم نوازشریف نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے خصوصی آڈٹ کا بھی حکم دے دیا ہے جس کے بعد پاکستان ہاکی کے مستقبل کا فیصلہ باخوبی کیا جاسکے گا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان ہاکی فیڈریشن کے پیٹرن انچیف وزیراعظم نوازشریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں سیکریٹری بین الصوبائی رابطہ چوہدری اعجاز اور ڈی جی اسپورٹس اختر نواز سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی، اجلاس میں وزیراعظم نوازشریف نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے خصوصی آڈٹ کا حکم دیا۔ذرائع کے مطابق آڈیٹر جنرل پاکستان کو وزیراعظم کے فیصلے کی کاپی موصول ہوگئی جس کے بعد انہوں نے آڈٹ کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایچ ایف میں آصف باجوہ اور رانا مجاہد کے دور کا بھی آڈٹ کیا جائے گا اور خصوصی آڈٹ میں گھپلے ہونے کی صورت میں کیس تحقیقات کے لیے نیب کو سونپا جائے گا۔واضح رہے کہ ورلڈ ہاکی لیگ میں شکست اور ملکی تاریخ میں پہلی بار اولمپکس سے باہر ہونے پر وزیراعظم نے حکام سے رپورٹ طلب کی تھی جب کہ ہاکی کی تنزلی اور ٹیم کی شکست کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔ پاکستانی ہاکی ٹیم اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ اولمپکس میں شرکت سے محروم ہوگئی ہے۔بیلجیئم میں کھیلے گئے اولمپک کوالیفائنگ راو¿نڈ میں وہ دس ٹیموں میں آٹھویں پوزیشن حاصل کر سکی اور اسے فرانس اور آئرلینڈ جیسی ٹیموں نے بھی شکست سے دوچار کیا۔شہناز شیخ نے وطن واپسی پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو باضابطہ طور پر مطلع کر دیا ہے کہ وہ اب ہیڈ کوچ کے عہدے پر فائز رہنا نہیں چاہتے تاہم وہ قومی ہاکی کی بہتری کے لیے فیڈریشن کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔شہناز شیخ نے کہا کہ اولمپک کوالیفائنگ راو¿نڈ میں پاکستانی ٹیم کی ناکامی غیرمتوقع ہے کیونکہ ٹیم نے ایشیئن گیمز اور چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل کھیلے تھے۔انھوں نے کہا کہ اس مایوس کن کارکردگی کی وجہ فارورڈز کا گول کرنے کے کئی مواقع ضائع کرنا ہے۔فارورڈز نے تقریباً 60 مواقع ضائع کیے اور جب گول کرنے کے مواقع ضائع کیے جاتے ہیں تو دفاع پر بہت دباو¿ آجاتا ہے اور وہ غلطیاں کرنے لگتا ہے۔شہناز شیخ نے کہا کہ اولمپک کوالیفائنگ راو¿نڈ کے لیے ٹیم کو تیاری کے لیے جو سہولتیں چاہیے تھیں وہ نہیں ملیں جس کی وجہ فیڈریشن کی خراب مالی حالت تھی۔ان کے مطابق ٹیم کی تیاریوں کو اس وقت دھچکہ پہنچا جب نصیر بندہ سٹیڈیم کی خراب ٹرف پر متعدد کھلاڑی زخمی ہوئے اور ہمیں کیمپ ختم کرنا پڑا۔شہناز شیخ نے کہا کہ انھوں نے فیڈریشن سے کہا تھا کہ ٹیم کو کوالیفائنگ راو¿نڈ سے تین ہفتے پہلے بیلجیئم بھیجا جائے لیکن ٹیم ایونٹ شروع ہونے سے صرف چار دن پہلے وہاں پہنچی۔شہناز شیخ نے کوچنگ اسٹاف سے ناصر علی اور سمیر حسین کو ہٹا کر دانش کلیم کو شامل کیے جانے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں بھی اسسٹنٹ کی حیثیت سے ان کی صرف مدد کرتے تھے اور دانش کلیم نے بھی یہی کیا۔ان کے مطابق اس تبدیلی سے انھیں کوئی خاص فرق نہیں پڑا اور اس تبدیلی کا تعلق بھی فیڈریشن کی مالی مشکلات سے تھا۔انھوں نے کہا کہ کھلاڑی اور کوچ آٹھ ماہ سے مالی مشکلات کا شکار ہیں اور وہ خود ڈیڑھ سال سے بغیر پیسے کے کام کر رہے ہیں: ’آسٹریلیا میں ڈیلی الاو¿نس کا نصف ملا جبکہ کوریا میں ایک پیسہ بھی ڈیلی الاو¿نس کی مد میں نہیں دیا گیا۔‘شہناز شیخ کا کہنا تھا کہ وہ قومی ہاکی کی بہتری کے خیال سے فیڈریشن میں شامل ہوئے تھے لیکن اصلاح الدین اور انھوں نے کبھی یہ دعوی نہیں کیا تھا کہ وہ چند ماہ میں ہی ٹیم کو بلندی پر لے جائیں گے۔ پاکستان ہاکی ٹیم کی بدترین شکست پر سابق اولمپئنزکے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوگیا۔ کہتے ہیں کہ چار آدمیوںکی فیڈریشن نے پاکستان ہاکی تباہ کرکے رکھ دی ہے ،ہاکی فیڈریشن میں بیٹھے عہدیداروں کی نیت ٹھیک نہیںحکومت انہیں ہرگز فنڈز نہ دے ،جب 9 ویں نمبر کی ٹیم 20 ویں رینکنگ والی ٹیم سے بھی میچ نہیں جیت سکتی تو پھر کھیلنے کا کیافائدہ، پی ایچ ایف کے پیٹرن ان چیف میاں نواز شریف سے چوہدری اختر رسول اور رانامجاہد کی معطلی کا مطالبہ کردیا۔ ماضی کے ہاکی لیجنڈزسمیع اللہ ، حسن سردار ،منظور جونیئراورحنیف خان نے روزنامہ الشرق سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیاکہا آئیے آپ کو بتاتے ہیں ۔ سابق کپتان اور فلائنگ ہارس کے نام سے مشہور سمیع اللہ نے کہا کہ موجودہ فیڈریشن کے عہدیداروں کی موجودگی میں قومی ہاکی ٹیم پہلے ورلڈ کپ سے باہر ہوگئی اور اب اولمپک مقابلوں سے بھی باہر ہوگئی ہے جس پر وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف فوری نوٹس لیتے ہوئے پی ایچ ایف پر ایڈہاک لگانے کا حکم دیں اور قابل لوگوں کو پی ایچ ایف میں تعینات کریں۔ ایک سوال کے جواب میں سمیع اللہ نے کہا کہ وہ خود سے ہاکی کے معاملات کو بہتر نہیں کرسکتے البتہ اگر حکومت اور پاکستان سپورٹس بورڈ ان کی خدمات حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کے لیئے بالکل تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ حکومت کو دوسال ، چار سال اور چھ سال کا ایسا پلان دے سکتے ہیں جس سے پاکستان ہاکی میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرلے گا۔ سابق کپتان حسن سردار نے کہا کہ پاکستان کی بدترین شکست سے ان کا دل خون کے آنسو رورہا ہے لیکن اس بے بسی کی صورت وہ کچھ نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم میاں نواز شریف جو کہ ہاکی فیڈریشن کے پیٹرن ان چیف ہیں انہیں فیڈریشن کی اس کارکردگی کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں فوری عہدوں سے ہٹاکر ایماندار لوگوں کو سامنے لانا ہوگا تاکہ اس کھیل کو دوبارہ پاکستان کا مقبول ترین کھیل بنایا جاسکے۔ سابق کپتان منظور جونیئرنے کہا کہ ہاکی فیڈریشن میں بیٹھے لوگوں کو کھیل سے زیادہ سیروتفریح کا شوق ہے جب فیڈریشن 9 اور 5 کھلاڑیوں کے ساتھ بیرون ملک ایونٹ کھیلنے پر پیسے خرچ کردے گی تو 11 سائیڈ ہاکی کے لیئے وسائل کہاں سے لائے گی ۔ انہوں نے سابقہ اور موجودہ فیڈریشن کے عہدیداروں کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ہاکی فیڈریشن پر قابض ان اولمپئنز کی نیت ٹھیک نہیں حکومت انہیں ہرگز فنڈز نہ دے ۔ یہ لوگ ہاکی کی بہتری کے لیئے فیڈریشن میں نہیں بیٹھے بلکہ اس پلیٹ فارم سے دنیا بھر کے چکر لگانے کے آرزو مند ہیں۔ سابق کوچ قومی ہاکی ٹیم حنیف خان نے کہا کہ چار آدمیوںکی فیڈریشن نے پاکستان ہاکی تباہ کرکے رکھ دی ہے ۔ حنیف خان نے کوچنگ سٹاف کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ شہناز شیخ گھومنے پھرنے کی خواہش میں جو بھی ٹیم ملتی ہے اسے قبول کرلیتے ہیں ۔ ٹیم میں کوئی گول کرنے والا کھلاڑی نہیں ہوگا تو ٹیم کیسے جیتے گی ۔ انہوں نے وزیراعظم میاں نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ قومی کھیل کو بچانے کے لیئے فوری اقدامات کریں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اگر پاکستان ہاکی فیڈریشن میں بیٹھے والے صرف عہدوں کے لیئے لڑیں گے تو پاکستانی ہاکی ٹھیک کرنا ناممکن عمل رہے گا ۔ سابق اولمپئنز کو عہدوں کی بجائے اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے ہاکی کے میدان آباد کرنا ہونگے اور اپنے اپنے طور پر پاکستان کے لیئے ماضی کے سمیع اللہ ، حسن سردار ، منظور جونیئر، شہباز سینئراور منصور احمد تلاش کرنے ہونگے ۔فیڈریشن کے اقتدا رمیں آتے ہی چوہدری اختر رسول کی لاکھ منت سماجت کے باوجود ہاکی فیڈریشن کو سہارا نہ مل سکا۔ گرین شرٹس کی بدترین شکست کے بعد سرجوڑ کر بیٹھنے والوں کو پہلے خواب غفلت سے جاگ جانا چاہئے تھااور قومی کھیل کو خلوص نیت سے چلانا چاہئے تھا۔ […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*

Warning: Use of undefined constant WP_PB_URL_AUTHOR - assumed 'WP_PB_URL_AUTHOR' (this will throw an Error in a future version of PHP) in /customers/b/5/3/jeetpakistan.com/httpd.www/wp-content/plugins/adsense-box/includes/widget.php on line 164 Warning: Use of undefined constant WP_PB_URL_AUTHOR - assumed 'WP_PB_URL_AUTHOR' (this will throw an Error in a future version of PHP) in /customers/b/5/3/jeetpakistan.com/httpd.www/wp-content/plugins/adsense-box/includes/widget.php on line 164 Warning: Use of undefined constant WP_PB_URL_AUTHOR - assumed 'WP_PB_URL_AUTHOR' (this will throw an Error in a future version of PHP) in /customers/b/5/3/jeetpakistan.com/httpd.www/wp-content/plugins/adsense-box/includes/widget.php on line 164