Main Menu

بوم بوم آفریدی: فرسٹ کلاس اورٹیسٹ کرکٹ کا بھگوڑا

afridi

پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے خوش قسمت ترین کھلاڑی شاہد آفریدی نے اتوار کے روز پاکستان کی تاریخ کے عظیم ترین بلے باز جاوید میانداد پر ذاتی جملے کسے جس کے جواب میں میانداد نے انہیں آڑھے ہاتھو ں لیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اب جواب میں شاہدآفریدی نے میاندادکے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

گزشتہ کئی روز سے شاہد آفریدی میڈیا میں اپنے کرم فرماﺅں کی بدولت زور لگاتے نظر آ رہے ہیں کہ ایک الوداعی میچ ان کا حق ہے اور بورڈ کو چاہیے کہ ان کو یہ حق دے۔

آفریدی کے اس موقف سے متعدد سابق کرکٹرز اور تبصرہ نگار متفق نظر نہیں آتے۔ خود چیف سلیکٹر انضمام الحق نے یہ تک کہہ دیا کہ کسی کے لیئے الوداعی میچ کا انتظام کرنا ان کا کام نہیں، شاہد آفریدی کو کرکٹ چھوڑنے اور نہ چھوڑنے کے بارے میں خود فیصلہ کرنا ہوگا۔

اسی حوالے سے جاوید میانداد نے شاہد آفریدی کے لالچی رویہ پر تنقید کی اور کہا کہ ان کا اچھا وقت گزر چکا ہے اور کسی کرکٹر کو التجا کر کے یا مانگ کر الوداعی میچ نہیں کھیلنا چاہیے۔

شاہد آفرید ی نے ایک وقت کے اپنے کوچ میانداد کے بیان کا یہاں تک برا مانا کہ ان پر ذاتی حملہ کرتے ہوئے کہہ ڈالا کہ پیسہ میانداد کا مسلہ رہاہے اور اب بھی ہے۔ آفریدی نے طنزیا مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ عمران اور جاوید میانداد میں یہی (پیسے)فرق تھا۔

جس وقت وہ یہ بات کر رہے تھے تو ان کے ساتھ سابق چیف سلیکٹر اقبال قاسم بھی بیٹھے تھے۔آفریدی نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ میانداد جیسے بڑے کھلاڑی کو ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں۔

کیسی باتیں؟

شاہد آفریدی پر تنقید۔

شاہد آفریدی کیا پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا بریڈمین ہے؟

شاہد آفریدی کا مسلہ رہا ہے کہ اس نے کرکٹ اپنی انا کی تسکین کے لیئے کھیلی۔چھکے چوکے ٹیم کی جیت کے لیئے نہیں بلکہ اپنی واہ واہ کروانے کے لیئے مارے۔ صورت حال کوئی بھی ہو، میچ سیریز کا ہو یا عالمی کپ کا اس کا سٹائل وہی کہ اپنی انا کی تسکین کے لیے بلا گھماتے چلے جاﺅ۔

کرکٹ سے گہری واقفیت رکھنے والے جانتے ہیں کہ شاہد آفریدی نے کرکٹ شہرت اور پیسہ کے لیئے کھیلی۔ ملک کی طرف سے کھیلی لیکن ملک کے لیئے نہیں۔ دو ہزار دس کے دورہ انگلستان میں شاہدنے اپنا آخری فرسٹ کلا س کھیلا جس کے بعد پانچ برس وہ صرف محدود اوورز کی ٹیم کا حصہ اس لیئے بنے رہے کہ اس میں حصہ لے کر پیسے زیادہ ملتے تھے اور انرجی کم خرچ ہوتی تھی۔انہیں احساس تھا کہ چار روزہ میچ میں سارا دن میدان میں فیلڈنگ کرنا پڑتی ہے، چالیس پچاس اوورز کی سپیل کروانا پڑتے ہیں، اور وکٹ پر رک کر ٹیم کے لیئے گھنٹوں پر محیط لمبی اننگز کھیلنے کے لیئے فٹ نس برقرار رکھنا پڑتی ہے۔ یہ کام اس پٹھان کے بس کا نہیں تھا جس کا ہیرو عمران خان تھا۔

دو ہزار پندرہ میں انہوں نے پھر فرسٹ کلاس کرکٹ کا ایک میچ کھیلا مگر پھر ہاتھ اٹھا لیئے ۔

شاہد آفریدی سے ویسے تو کئی حماقتیں سرزد ہوئی ہیں لیکن بطور کپتان دیارِ غیر میں انٹرنیشنل میچ کے دوران گیند چبانے کی غیر ذمہ دارانہ حرکت پر انہیں نادامی ہوئی نہ ہو قوم کا سر ضرور شرم سے جھک گیا تھا۔ بھارت میں جا کر ”بھارتیوں سے پاکستانیوں سے بھی زیادہ پیار ملتا ہے“کا بیان بھی قوم کو حیران و پریشان کر گیا۔حالیہ برسوں میں کپتانی کا تاج پھر سے سر پر پہننے کے لیئے بے چینی بھی ان کے بیانات میں دیکھی گئی۔

اس طرح کی حرکتیں کرنے والے اوسط درجہ کے کھلاڑی نے اس کھلاڑی پر ذاتی جملے کسے جس کی کیر یئر ایویج کبھی پچاس سے نیچے نہیں گری۔ آفرید ی بتا سکتاکہ ٹیسٹ کرکٹ میں اور کتنے کھلاڑی ایسے گزرے ہیں جن کو یہ اعزاز حاصل ہے؟

آفریدی کے میانداد کے خلاف بیان پر پاکستان کے سابق کپتان عامر سہیل کو بھی حیرانی ہوئی۔ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی حرکتیں شاہد آفریدی کا وطیرہ رہا ہے۔انہیں میانداد جیسے بڑے کھلاڑی بارے اس طرح باتیں نہیں کرنا چاہیے تھیں۔انہوں نے کہا کہ اگر شاہدآفرید ی کو الوداعی میچ کھیلنے کا شوق ہے تو بورڈ سے کہیں کہ وہ قذافی سٹیڈیم میں اپنے تماشائیوں کے سامنے انہیں کھیلنے کا موقع فراہم کر دیں۔

جاوید کا جوابی وار

جاوید نے پہلی بار انکشاف کیا کہ شاہد آفریدی نے پاکستان کے میچز فکسڈ کیئے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس ثبوت ہیں اور وہ پیش بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے شاہد آفریدی کو چیلنج کیا کہ وہ اپنے بچوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہے کہ اس نے پاکستان کے میچز نہیں بیچے؟

آفریدی کا اظہارِ افسوس

عمر کے سینتیسویں سال کی جانب گامزن آفرید ی نے کچھ دیر بعد ٹویٹر پر ایک ٹویٹ کے ذریعے میانداد کے خلاف پیسے والے بیان پر دکھ کا اظہار کیا تاہم انہوں نے میانداد کے اس چیلنج کا جواب نہیں دیا کہ وہ کب اپنے بچوں کے سر کی قسم کھا کر کہیں گے کہ انہوں نے پاکستان کے لیئے کبھی کوئی میچ فکسڈ نہیں کیا۔

متبادل

آفریدی کی واپسی کی خواہش پر عماد وسیم اور بابر اعظم جیسے متبادل کھلاڑیوں نے اوس ڈال دی ہے۔ آفریدی کی ایک باری میں تین چھکے ہوتے تھے اور وہ سوائے اس کی انا کی تسکین کے کسی اور کے کام نہیں آتے تھے۔

دوسری طرف بابر اعظم نے اپنی حالیہ (ویسٹ انڈیز کے خلاف ایکروزہ میچوں میں بنائی جانے والی) تین سینچریو ں میں سے ہر ایک میں چھکا توایک آدھ مارا لیکن ٹیم کو بیج منجدھار میں نہیں چھوڑا ۔ اس نوجوان نے ٹیم کو جتوانے کا اپنا مشن پورا کیا ۔ایسے نگینوں کی موجودگی میں اب کسی مصنوعی کرکٹر کی پاکستان ٹیم کو ضرورت نہیں۔

میانداد کے سامنے کیا بیچتا ہے تو؟

کرکٹ کا لافانی کردار بریڈمین کس حوالے سے یاد رکھا جاتا ہے؟
بریڈ مین چھکے بھی مارتا ہوگا، اٹھا کر بھی مارتا ہوگا لیکن عام جاننے والے کے لیئے بریڈمین کی اصل پہچان
ان کی بیٹنگ ایوریج ہے جو کہ فی باری 99.94تھی ۔

ٹیسٹ کرکٹ اور فرسٹ کلاس کرکٹ کے بھگوڑے شاہد آفریدی کی ٹیسٹ میں اوسط36.51 رہی۔
ون ڈے کرکٹ میں تین سو اٹھانوے میچ کھیلنے کے باوجود اوسط23.57 وجود میں آسکی۔
ٹی ٹونٹی میں18.01 رنز فی باری کی اوسط کی رفتار سے ان کابلا چلا۔

اکیس برس میں شاہد کے فرسٹ کلاس میچوں کی تعداد ایک سو تیرہ( لگ بھگ فی سال پانچ میچ ) سے نہ بڑھ سکی ۔ اس کے مقابلے میں جاوید میانداد نے اپنے بیس برس کے کیریئر میں چارسو دو فرسٹ کلا س میچز کھیلے یعنی ہر برس اوسطاََ بیس فرسٹ کلاس میچز کھیلے یعنی آفریدی سے تین گناہ زیادہ۔

شاہد آفریدی نے اپنی آخری دس اننگز، جو کہ ہمپشائر کاﺅنٹی اور روالپنڈی کے لیئے ٹی ٹونٹی کرکٹ میں کھیلی گئیں، میں ایک سو پچیس رنز سکور کیے جہاں ان کا زیادہ سے زیادہ سکور چھبیس ناٹ آﺅٹ ہے۔

کون کس کے لیے کھیلا؟
آفریدی ملک کے لیئے نہیں ملک کی جانب سے کھیلا جبکہ میانداد اپنے ملک کی جانب سے ہمیشہ ملک کے لیئے کھیلا۔ عمران کو عالمی کپ اور انگلستان ، بھارت اور ویسٹ انڈیز میں اپنی ٹیم کی ٹیسٹ میچوں کی کامیابیوں پر فخر ہے۔ان کامیابیوں میں میانداد کا حصہ نمایاں ترین تھا تبھی اس نے کہا کہ میانداد سے زیادہ پاکستان ٹیم کے لیئے کوئی نہیں لڑا۔

عمران گواہی نہ بھی دے پاکستان کرکٹ کو قریب سے دیکھنے والے جانتے ہیں کہ میانداد  پاکستان کے لیئے لڑنے والوں میں سرفہرست تھا ۔ آفریدی کو بھی یہ بات معلوم ہے لیکن اس کے دماغ میں میڈیا کی جانب سے دیئے جانے والے رنگ برنگے القابات ہرپل اچھل کود کرتے رہتے ہیں۔ آجکل اس کے دماغ میں اچھل کود اس لیے بھی زیادہ ہور ہی ہے کہ اسے الوداعی میچ نہیں مل رہا۔

دنیا میں شاید یہ پہلا کرکٹر ہے جو اپنے منہ سے کہہ رہا ہے کہ میں الوداعی میچ کا حقدار ہوں اور مجھے یہ میچ عطا کیا جائے۔

الوداعی میچ کیوں؟
پاکستان کرکٹ کے بیس سال کھانے کے باوجود شاہد کی بھوک ختم نہیں ہو رہی۔ شاہد کی خواہش ہے کہ کسی طرح اسے ایک میچ مل جائے اور وہ اس میں کوئی نصف سینکڑا لگا کر سلیکٹرز پر دباﺅ بڑھا سکے کہ اسے کچھ عرصہ کے لیئے مزیداس پاکستان ٹیم کا حصہ بنا دیا جائے جہاں وہ چوبیس گیند کروا کر اور چار پانچ گیندیں کھیل کر مزید لاکھوں کما سکے۔

شاہد آفریدی! آپ میانداد جیسے لیجنڈ کے سامنے کیا بیچتے ہو؟

بھارت میانداد کو اسی طرح اپنا دشمن تصور کر تا ہے جیسے پاکستان کو اور کشمیریوں کو سمجھتاہے۔ اب تو بھارت کے” دوست “بھی انہیں بیلٹ سے نیچے ہٹ کرنے لگ گئے ہیں۔

جائیں تیاری کریں عمران کی پی ٹی آئی میں شامل ہونے کی۔

وکٹ پر چار گیندوں کے مہمان کا وکٹ پر جم کر اوول میں دو سو ساٹھ اور حیدرآباد میں دو سو اسی رنز کی باریاں کھیلنے والے سے کیا مقابلہ۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*