Main Menu

بین الاقوامی کھیلوں کی واپسی

پی ایس ایل انتظامیہ میانداد اور قادرکےبجائے اوسط درجہ کے کرکٹرز پر مہربان

سری لنکا اور ویسٹ انڈیز جیسی دوست ٹیموں کومہمان نواز ی پر راضی کیا جائے

رپورٹ ۔ آصف سہیل

مارچ2009 کے آغاز میں مہمان سری لنکن کرکٹ ٹیم کو لاہور ٹیسٹ میچ کے لیئے قذافی سٹیڈیم لانے والی کوچ پر بارہ کے قریب مسلح نقاب پوش دہشت گردوں نے ایک وحشیانہ حملہ کیا۔ چھ پولیس والوں اور دو سویلین کی زندگیوں کے چراغ گل کرنے اور چھ کھلاڑیوں ، دو امپائرز سمیت نو افراد کو زخمی کرنے کے بعد حملہ آور آرام سے اپنی نامعلوم پناہ گاہوں کی طرف چلے گئے اور دبنگ لاہور پولیس اور پنجاب حکومت دیکھتی رہ گئی۔خوش قسمتی سے مہمان کھلاڑی جانی نقصان سے بچ گئے۔ ان حالات میں مہمانوں کے پاس اورکوئی چارہ نہ رہا کہ وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے قذافی سٹیڈیم سے نکل کر اپنے وطن روانہ ہو جاتے۔

یہ وہ دن ہے جب سے دنیا ہم سے شاکی رہنے لگی ہے۔ لیکن ہماری حکومتی اور انتظامی شخصیات کمال واقع ہوئی ہیں۔ کروڑوں خرچ کر کے بے مقصد قومی و بین الاقوامی سپورٹس فیسٹیول تو منعقد کروا لیئے گئے مگر مقابلے کے کھیلوں ہاکی اور کرکٹ کی غیر ملکی ٹیموں کی میزبانی کرنے میں ہچکچاہٹ اور تساہل سے کام لیا گیا۔کہا جاتا ہے کہ جتنی بڑی سکیورٹی پاکستان کی بڑی حکومتی شخصیات اور بڑے سیاسی گھرانوں کو فراہم کی جاتی ہے اس کا چوتھائی بھی اگر مہمان اور قومی ٹیموں کو مل جائے تو کھیلوں کا اجڑا گلستان پھر سے لہلہانے لگے۔ملک میں سیکورٹی کی صورتحال پچھلے برسوںکی نسبت کافی بہتر ہوئی ہے۔ زمبابوے پاکستان کا مختصر مگر کامیاب دورہ کر چکی ہے ۔ بگ تھری تو پاکستان آنے سے رہے جبکہ جنوبی افریقہ اور نیوز ی لینڈکا رکھ رکھاﺅ بھی بگ تھری کی طرح کا ہے ۔بنگلہ دیش نے اس ضمن میں پاکستان کو کافی مایوس کیا ہے ۔ بھارت کا دماغ مودی سرکار کے آنے سے اور خراب ہو چکا ہے۔ آ جا کے سری لنکا اور ویسٹ انڈیز باقی بچتے ہیںجن سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے پرانے اچھے تعلقات ہیں۔بہتری بھی اسی میں ہے کہ بھارت کی طرف دیکھنے کی بجائے سری لنکا اور ویسٹ انڈیز جیسے دوست کرکٹ بورڈ کو ان کی ٹیموں کی مہمان نواز ی کرنے پر راضی کیا جائے۔ اطلاعات ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ سری لنکن اور ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈز سے ان کی ٹیموں کے دورہ پاکستان کے لیئے بات چیت کو آگے بڑھا رہا ہے اور ممکن ہے کہ پاکستانی شائقین کو اس حوالے سے کوئی اچھی خبر ملے۔جس دن پاکستان میں بین الاقوامی کھیلوں کی کامیاب واپسی ہو گئی اسی روز بھارتیوں کا چلن بھی بدل جائے گا۔

abc
آئی پی ایل میں ہمارے کھلاڑیوں پر بند دروازے بھی کھل جائیں گے۔ہمارے ہاکی سٹار ز کو انڈین ہاکی لیگ میں شرکت کے دعوت نامے آنا شروع ہو جائیں گے اور جب کبھی پاکستان کی سائکلنگ ٹیم بھارت کے دورے پر جائے گی تو اسے پولیس سٹیشن میں رپورٹ کرنے والے ویزے فراہم نہیں کیئے جائیں گے اور ایک دن ضرور آئے گا جب بھارت کے لیئے ہمارے کرکٹ بورڈ اور ہاکی فیڈریشن سے دو طرفہ کھیلوں کے معاہدے کرکے مکرنا مشکل ہو جائے گا۔

دو ہزار سترہ میں پاکستان کو اپنے آپ کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ سیاسی اوراقتصادی لحاظ سے مضبوطی پاکستان میں کھیلوں کی بین الاقوامی واپسی کے لیئے ایک بڑی گارنٹی ہے۔ یہ منزل شاید ابھی کچھ دور لگ رہی ہے لیکن پی ایس ایل کا فائنل اگر لاہور میں کامیابی سے ہو گیا تو یہ ملک میں بین الاقوامی ٹیموں کی آمد کے حوالے سے بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہو گا۔

پاکستان سپر لیگ میں انگلستان، آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز ، نیوزی لینڈ،جنوبی افریقہ، سری لنکا،بنگلہ دیش ، زمبابوے اور افغانستان کے کھلاڑی پاکستانی سپر سٹارز کے ہمراہ اپنے جوہر دکھانےآرہے ہیں۔نجم سیٹھی اس کے کرتا دھرتا ہیں۔غالب اکثریت کا خیال ہے کہ انہیںکرکٹ کی الف ب کا بھی نہیں پتا تاہم وہ یہ دعویٰ ضرور کر سکتے ہیں کہ انہوں نے پی ایس ایل شروع کرنے میں نمایا ں کردار ادا کیا۔ان کے ناقدین کے مطابق یہ کام تو کوئی بھی کرسکتا تھا۔ دبئی میں پہلے ہی انٹرنیشنل کرکٹ ہو رہی تھی اور سوائے گھمنڈ ی بھارت کے ہر ملک اور اس کے کھلاڑیوں کو وہاں کھیلنے پرراضی کرنا کون سا آسمان سے تارے توڑ کر لانا تھا۔ مزہ تو تب تھا جب بھارت کے لیئے گھٹنوں گھٹنوں تک ہمدردی رکھنے والے نجم سیٹھی بھارتی ٹیم کے ساتھ سیریز منعقد کرانے میں کامیاب ہوتے ۔

پی ایس ایل آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ جاویدمیانداد اور عبدالقادر جیسے بڑے ناموں سے استفادہ کرنے کی بجائے اوسط درجہ کے کرکٹرز پر مہربان نظر آتے ہیں تاکہ انہیں ہر طرف سے واہ واہ اور یس سر کی صدائیں سنائی دیتی رہیں۔

نجم سیٹھی کے حاشیہ بردار اور ناقدین کے پاس اپنا اپنا موقف درست ثابت کرنے کے لیئے کافی وزنی دلیلیںموجود ہیں۔نجم سیٹھی اور ان کی ٹیم اگر پی ایس کا فائنل لاہور میں کرانے میں کامیاب ہو گئے تو ان کے ناقدین کو ان کی مخالفت کے لیئے کچھ نیا مواد ڈھونڈنا پڑے گا۔

ملک میں انٹرنیشنل کھیلوں کی بحالی خاص طور پر کرکٹ اور ہاکی پر اگر حکومت توجہ دینا چاہے تو یہ ناممکن نہیں ہے رہی بات ملک میں قائم دیگر فیڈریشنوں کی تو اس کے لیئے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی میں اپنی ساکھ کو بہتر کرنا ہوگااور اولمپک مقابلوں میں وائلڈ کارڈ انٹری کے بجائے کوالیفائیڈ کرنے والے کھلاڑی پیدا کرنا ہونگے ۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*

Warning: Use of undefined constant WP_PB_URL_AUTHOR - assumed 'WP_PB_URL_AUTHOR' (this will throw an Error in a future version of PHP) in /customers/b/5/3/jeetpakistan.com/httpd.www/wp-content/plugins/adsense-box/includes/widget.php on line 164 Warning: Use of undefined constant WP_PB_URL_AUTHOR - assumed 'WP_PB_URL_AUTHOR' (this will throw an Error in a future version of PHP) in /customers/b/5/3/jeetpakistan.com/httpd.www/wp-content/plugins/adsense-box/includes/widget.php on line 164 Warning: Use of undefined constant WP_PB_URL_AUTHOR - assumed 'WP_PB_URL_AUTHOR' (this will throw an Error in a future version of PHP) in /customers/b/5/3/jeetpakistan.com/httpd.www/wp-content/plugins/adsense-box/includes/widget.php on line 164