Main Menu

پاکستانی قوم صلاحیت سےمالامال:امریکن نیشنل سکواش چمپئن چوہدری نذیر

ch nazir

پاکستانی قوم صلاحیت سے مالامال
اصل ٹیلنٹ سامنے لانے کی ضرورت ہے
امریکن نیشنل سکواش چمپئن چوہدری نذیر کا جیت پاکستان کو خصوصی انٹرویو

انٹرویو۔ شاہد حسین

چوہدری نذیر ایک پرعزم اورحوصلہ مند ہرفن مولاپاکستانی کھلاڑی کہ جس کے پختہ ارادوں اور جیت کی لگن کے آگے کوئی مخالف زیادہ دیرٹہرنے کی سکت نہیں رکھتا ۔ وہ اپنی قسمت کا اتنا دھنی ہے کہ جس کھیل میں دلچسپی لیتا ہے صرف ایک دو سال کے عرصہ میں اس کھیل کا چمپئن بن کے دنیا کے سامنے ہوتا ہے ۔ چوہدری نذیر سکواش کے کورٹ میں اترے تو امریکن نیشنل چمپئن بنے، راکٹ بال شروع کی تو شکاگواسٹیٹ چمپئن بن گئے اوراگر انہیں گالفر بننے کی لگن ہوئی تو صرف تین سال کے عرصہ میں چیک ایون گالف کلب کے دوایونٹ جیتنے کے ساتھ ساتھ پنجابی اوپن چمپئن کا ٹائٹل بھی اپنے نام کیااور ان کلبوں کے چمپئنز کی فہرست میں بطورپہلے پاکستانی اپنا نام درج کروایا۔ ٹینس کا شوق ہوا توٹینس بھی اچھی کھیلی ۔ بچپن اور لڑکپن میں ہاکی اورفٹ بال جیسے اہم کھیلوں میں نام کمایا۔ چوہدری نذیر نے صرف کھیل کے میدان میں ہی کارنامے سرانجام نہیں دیئے بلکہ اپنے آبائی علاقے سیدوالا میں اپنی والدہ محترمہ کے نام پر ایک فلاحی سکول بھی چلارہے ہیں جس میں علاقہ کے بچوں کے لیئے پانچویں اور بچیوں کے لیئے میٹرک تک کی تعلیم بلامعاوضہ فراہم کررہے ہیں۔جیت پاکستان اور سیاست پاکستان میگزین کی تکمیل کے آخری ایام میں اس صاف گواور درویش صفت انسان اورہرفن مولاکھلاڑی سے پاکستان اور امریکن سسٹم اور وہاں کے کھلاڑیوں کو دستیاب سہولیات بارے جو گفتگو ہوئی وہ ہمارے قارئین کی نذر ہے ۔

IMG_1542

اپنی کامیابیوں کے بارے میں ہمارے قارئین کو بتانا پسند کریں گے ؟
میں سال دوہزار کاسکواش میں ایمچورچمپئن ہوں ، سال دوہزار چودہ پندرہ کاشکاگواسٹیٹ راکٹ بال چمپئن ہوں ،دومرتبہ چیک ایون گالف کلب کا چمپئن ہوں اورامریکا میں سکھ برادری کے زیراہتمام منعقدہ پنجابی اوپن کا چمپئن ہوں ۔اس کے علاوہ چھوٹے موٹے بے شمار ایونٹس جیت چکا ہوں ۔ سکول دور میں ڈسٹرکٹ شیخوپورہ سے فٹ بال چمپئن بنا۔ ہاکی بھی کھیلی اور دیگر کھیلوں میں بھی دلچسپی لی ۔ میں یوایس اے سرٹیفائیڈسکواش کوچ بھی ہوں ۔

IMG_1998

آپ کے خیال میں امریکن اور پاکستان سپورٹس سسٹم میں کیا فرق ہے ؟
بہت فرق ہے بلکہ اگر میں کہوں کہ اس کا موازنہ ہی نہیں بنتا تو یہ غلط نہ ہوگا۔وہاں سکول لیول پر بے شمار گراونڈ موجود ہیں جبکہ ہمارے ہاں سکول دودومرلہ میں بنی عمارتوں میں بنے ہوئے ہیں۔ اچھے کھلاڑیوں کو وہاں سکول و کالج اور یونیورسٹیوں میں سکالرشپ ملتی ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ وہاں رہ کر جو بچہ کھیل میں نام نہیں کما سکتا وہ بہت بدقسمت ہوگا۔ وہاں پر لوگوں کا رجحان گراونڈز کی طرف بہت ہے یہی وجہ ہے کہ وہاں کے ہسپتال خالی ہیں لیکن ہمارے ہاں گراونڈز نہ ہونے کے برابر ہیں اور ہسپتال مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں ۔

IMG_1997

ہمارے تعلیمی نظام بارے کیا کہیں گے ؟
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارا ایجوکیشن سسٹم خراب ہے ۔ استاد وں کی اکثریت تنخواہیں لے رہی ہے جبکہ انہیں بچوں کے مستقبل کی کوئی فکرنہیں ۔ استاد بچوں کو تعلیمی فائدوں سے آگاہی نہیں دیتے ۔ یہ اساتذہ کا فرض ہے کہ وہ بچوں کو بتائیں کہ اگربچے اپنا قیمتی وقت ضائع کریں گے اوراچھی تعلیم حاصل نہیں کریں گے تو ہماری قوم دنیا سے بہت پیچھے رہ جائے گی ۔

IMG_0718

ٓآپ خود بھی اپنے آبائی علاقے میں بچوں کو مفت تعلیم دے رہے ہیں اس کے پیچھے کیا مقاصد ہیں؟
جی ہاں ! میں نے اپنے علاقے کے لوگوں کو تعلیم کی دولت سے روشناس کروانے کے لیئے ایک ادارہ بنارکھا ہے جس میں بچیوں کو میٹرک تک مفت تعلیم جاتی تھی لیکن وہاں کے لوگوں کی خواہش پر بچوں کے لیئے پرائمری تک کی تعلیم کا بھی سلسلہ شروع کردیا گیا ہے ۔ سکول بنانے کا مقصد تعلیمی نظام کے خراب ہونے کا شکوہ کرنے کے بجائے اس نظام کی بہتری میں اپنا حصہ ڈالنا ہے ۔

یہاں پر ہماری حکومت کا کردار کیسا دیکھتے ہیں ؟
حکومت کا کردارکھیل کے فروغ میں بہت اہم ہوتا ہے جو یہاں نظر نہیں آتا۔ ہماری حکومت چاہتی ہے کہ پاکستانی کھلاڑی دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کریں لیکن ان کھلاڑیوں کو دنیا کا مقابلہ کرنے کے لیئے اس معیار کی سہولیات فراہم نہیں کرتی ۔

IMG_1666

آپ کے خیال میں پاکستان میں کھیلوں کا معیار کیسے بہتر ہوسکتا ہے ؟
اس کے لیئے ضروری ہے کہ ”رائٹ مین فار رائٹ جوب “ہو۔ حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے اور ہر علاقے میں گراونڈ مہیا کرے ۔ ماں باپ اپنے بچوں کے لیئے وقت نکالیں اور انہیں ساتھ لے کر گراونڈز میں جائیں تاکہ بچوں کے اعتماد میں اضافہ ہو۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*