Main Menu

مصباح ہیڈ کوچ، یونس بیٹنگ کوچ

kahna yah hy k

مصباح ہیڈ کوچ، یونس بیٹنگ کوچ

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق اس برس مئی میں تینتالیس برس کے ہو نے والے ہیں۔میانوالی سے تعلق رکھنے والے اس نیازی پٹھان نے پاکستان کرکٹ کی بھرپور خدمت کی۔خاص طور پر جب پاکستان کے کھلاڑیوں کو انگلستان میں ٹریپ کیا گیا جس کی وجہ سے دنیا میں پاکستان کا مذاق اُڑا ،تب یہ مصباح الحق تھے جس نے پاکستان ٹیم پر پڑنے والی گرد کو اپنی جاندار کپتانی اور کارکردگی سے آہستہ آہستہ اس قدر صاف کر دیا کہ ایک دن کل کی گرد آلودہ ٹیم دنیا کی نمبر ایک ٹیم بن گئی۔ یہ وہ ٹیم تھی جس سے اپنے میدانوں پر اپنے تماشائیوں کے سامنے کھیل پیش کرنے کا حق چھین لیا گیا تھا۔ مصباح یہ ٹیم لے کر دنیا کے کونے کونے میں گئے ، جیتے بھی ہارے بھی لیکن جیت اور ہار کے تناسب میں اتنا فرق نہیں تھا کہ دنیا اس ٹیم کو ٹیسٹ کی نمبر ایک ٹیم بننے سے روک دیتی۔ مصباح کا بھرپور ساتھ اس ہی کی طرح کے تجربہ کار بلے باز یونس خان نے دیا۔ دونوں پاکستان ٹیم کی کشتی کے کامیاب ملاح ثابت ہوئے۔
اب دیکھا یہ جارہا ہے کہ انگلستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز برابر کرنے کے بعد پاکستان ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے دو ٹیسٹ جیتنے کے بعد تیسرا ٹیسٹ ہار گیا اور پھر نیوزی لینڈ میں گراسی وکٹوں پر اسے دو ٹیسٹ کی سیریز میں وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا۔
نیوزی لینڈ سے ناکامیوں کا بوجھ لیئے ٹیم آسٹریلیا پہنچی تو برسبین ٹیسٹ کی چوتھی باری میں دلیرانہ بلے بازی کے باوجود ناکامی نے قومی ٹیم کا استقبال کیا۔ان آخری چار ٹیسٹ میچوں میں پاکستان ٹیم کی کارکردگی میں ایکدم جو تنزلی آئی اس کا اثر مصباح کی ذاتی کارکردگی پر بھی پڑا۔ایسا لگتا ہے کہ بڑھتی ہوئی عمر مصباح کے ارادوں کوکمزور کر رہی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ مصباح اور یونس ایک آدھ اور اچھی باری کھیل کر اپنی افادیت ثابت کر دیں لیکن ایسا تادیر چلتا اب دکھائی نہیں دیتا۔
بہتر یہی ہے کہ نئے اور ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو ان کے متبادل کے طور پر سامنے لایا جائے۔ کہنا یہ ہے کہ مصباح کو آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے بعد قومی ٹیم کی بہتری کے لیے کوچ کی ذمہ داریاں سونپ دی جائیں۔ ابتدائی طور پر انہیں مکی آرتھر کے اسسٹنٹ کے طور پر ساتھ رکھ کر مزید تجربہ دلوایا جا سکتا ہے ۔اسی طرح یونس کو بلے بازی کے کوچ کے طور پر آزمانا چاہیے۔ دونوں کی قومی ٹیم کے ساتھ قربت کا یہ نیا انداز بھی ٹیم کے لیئے سو د مند ثابت ہو سکتا ہے۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*