Main Menu

بھائی کی بس ہو گئی

afridi-retired

پاکستان کے شہرت یافتہ آل راﺅنڈر شاہد آفریدی نے اعلان کیاہے کہ وہ پاکستا ن کے لیئے بین الاقوامی کرکٹ مزید نہیں کھیلیں گے۔

ان کا بین الاقوامی کرکٹ کو خیر باد کہنے کا اعلان اس وقت سامنے آیا جب اتوار(انیس فروری)کو ان کی ٹیم پشاور زلمی پاکستان سپر لیگ کے ایک اہم میچ میں کراچی کنگز کے خلاف ایک اچھا مقابلہ کرنے کے باوجود ہار گئی۔

 شاہد آفریدی نے اس میچ میں دھواں دھاربلے بازی کرتے ہوئے 28 گیندوں پرنصف سینچری ( 54)بنائی تاہم بدقسمتی سے وہ اپنی ٹیم کو ایک یادگار کامیابی دلوانے میں کامیا ب نہ ہو سکے۔اسی میچ میں مخالف ٹیم کے شعیب ملک نے27 گیندوں پر51 رنز کی دھواں دھار باری کھیلی لیکن جشن صرف آفریدی کی باری کا منایا گیا۔

 رواں برس یکم مارچ کو اپنی 37 ویں سالگر منانے کی تیاریاں کرنے والے شاہد آفریدی نے تاہم اس موقع کو غنیمت جانا اور اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ایک سٹار کھلاڑی کے لیئے اس سے اچھا موقع کون سا ہو سکتا ہے کہ جب اس کے پرستار جھوم رہے ہوں اور وہ کھیل سے کنارہ کشی اختیار کر لے۔

  شاید آفریدی کو بری طرح محسوس ہونے لگا تھا کہ اب بین الاقوامی ٹی ٹونٹی کے لیئے اس کی ضرورت نہیں ۔ اس کی بڑھتی ہوئی عمر اور سپر لیگ کے ابتدائی چار میچوں میں خراب کارکردگی(34 رنز) بھی اس سے تقاضہ کرنے لگی تھی کہ جیسے ہی اس کے بلے سے ایک اچھی باری نمودار ہو تو وہ ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے میں دیر نہ لگائے۔ویسے بھی کافی عرصہ سے کہا جا رہا تھا کہ بس کرو بھائی۔۔تو بھائی نے بالآخر بس کر ہی دی۔

 پاکستان کے لیئے 21برس کرکٹ کھیلنے والے شاہد خان آفریدی اب بھی اپنے کزن جاوید آفریدی کی فرنچائز پشاورزلمی کے لیئے اہم شخصیت ہیں۔شاہد کا خیال ہے کہ وہ مزید دو برس سپر لیگ کھیل سکتا ہے۔یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن اس پر کسی کو کیا اعتراض ہو گا کہ وہ اپنے کزن کی ٹیم میں دو برس مزید کھیلے یا دس برس؟

شاہد نے پاکستان کے لیئے بہت کرکٹ کھیلی۔وہ ایک خوش قسمت کھلاڑی رہا جو ملی جلی کارکردگی کے باوجود مسلسل کھیلا اور جب اس کی فارم انتہائی نچلی سطح پر گر گئی تو اس کی خواہش کے باجود پاکستان کے سلیکٹرز نے اسے مزید کھیلانے سے معذرت کر لی۔

شاہد آفریدی نے پاکستان کی جانب سے ایکروز کرکٹ میں23.57 کی اوسط سے 6892 رنز سکور کیئے۔اٹھانوے ٹی ٹونٹی میچوں میں18.01کی اوسط سے رنز بنائیں جبکہ ستائیس ٹیسٹ میچوں میں36.51 کی اوسط سے رنز بنائے۔

 

آفریدی کو ٹیسٹ اور فرسٹ کلاس کرکٹ کا بھگوڑا بھی سمجھا جا تاہے جو صرف آسان کرکٹ کھیل کر نام اور پیسہ کمانے میں دلچسی رکھاتا تھا۔

آنے والے دنوں میں جہاں آفریدی کے پرستار چھکے اور چوکوں کے ماہر بلے باز کے طور پر ان کی پوجا جاری رکھیں گے وہیں ان کے نقاد انہیں ان کی تینوں فارمیٹ کی بلے بازی کی اوسط کو سامنے رکھتے ہوئے ان کا قد کاٹھ مانپتے رہیں گے۔

آفریدی بہت خوش قسمت ہیں کہ ان کو پاکستان کرکٹ کی وجہ سے جو کچھ ملا اتنا شاید عمران خان اور جاوید میانداد کو بھی نہیں ملا لیکن میانداد اورعمران خان پر پاکستان کرکٹ ہمیشہ ناز کرتی رہے گی کہ وہ ملک کے لیئے کھیلے ، خود کو اور اپنے پرستاروںکو خوش کرنے کے لیئے نہیں ۔

آفریدی بھائی کے بہتر مستقبل کے لیئے بہت سی نیک خواہشات






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*