Main Menu

ضرورت برائے باضمیر

shahryar khan jp

پچیس مارچ دوہزار سولہ
اشفاق حسین مغل
مختصر طرز کرکٹ کے سب سے بڑے عالمی میلے سے قومی کرکٹ ٹیم ایک مرتبہ پھر بے آبروہوکرنکلی ہے جو مختلف ٹولیوں کی شکل میں ایک دوروز میں پاکستان پہنچ جائے گی ۔ پاکستانی شائقین ہوں یا ملک کے بڑے مایہ ناز تجزیہ نگارسب اپنے اپنے انداز سے بھارت میں جاری عالمی کپ میں آفریدی الیون کی ناقص کارکردگی پر اپنے تاثرات دے رہے ہیں ۔ کسی کو ٹیم میں گروہ بندی شکست کی وجہ لگ رہی ہے اور کسی کو پی سی بی کی بڑی کرسیوں پر بیٹھے بڑے سفارشیوں کی کارکردگی ہار کا باعث معلوم ہوتی ہے لیکن میرے خیال میں ہماری قوم بھی بڑی سیدھی سادی ہے جو نہ چاہتے ہوئے بھی دھوکہ بازوں کے جال میں پھنس جاتی ہے ۔ دھوکہ دینے والا کوئی اپنا ہویا بیگانہ ہماری قومی دھوکے کھانے کی عادی ہوچکی ہے ۔ پی سی بی کی سب سے بڑی گدی پر بیٹھے اکیاسی سالہ نوابزادہ شہریار محمدخان ، پی سی بی کی ایگزیکٹوکمیٹی کے چیئرمین ستاسٹھ سالہ نجم عزیز سیٹھی ، چیف سلیکٹر تریسٹھ سالہ ہارون رشید ، قومی کرکٹ ٹیم کے منیجرچوہتر سالہ انتخاب عالم ، اپنے دور کی بورے والا ایکسپریس ، کپتانی چھوڑنی ہے یا بین الاقوامی کرکٹ کا فیصلہ نہ کرپانے والے کپتان شاہدآفریدی اور مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ پی سی بی میں عرصہ دراز سے چیف آپریٹنگ آفیسرکی کرسی کا مزہ لیتے سبحان احمد سب ایک دوسرے اور ہماری بھولی بھالی قومی کو کس طرح ماموں بنالیتے ہیں اس کی ذرا سی منظر کشی کرنے کی اجازت چاہتا ہوں ۔ چیئرمین پی سی بی شہری بابواپنی ڈپلومیسی کی وجہ سے پی سی بی کے اندر اور باہر کے لوگوں کو بے وقوف بنانے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو بھی داناں ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ پی سی بی میں اقتدار کی جنگ سے پاک بھارت کرکٹ سیریز کے انعقاد میں ناکامی ، خود سے بھارت جاکرملک کی بدنامی سے عالمی کپ ٹی ٹونٹی میں پاکستانی کی پہلی شکست کے بعد اس بیان کہ ”قوم کو عالمی رینکنگ میں ساتویں نمبر کی ٹیم سے جیت کی توقع نہیں رکھنی چاہئے“تک اپنی سفارتکاری کے گروں سے سیدھی سادی قوم کا دل بہلانے کی کوشش کی لیکن وہ اس میں کس قدر کامیاب ہوئے کتنے ٹھیک تھے اور کتنے فیصد انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ان سے بہتر کوئی نہیں جان سکتااس کے باوجود خود بھی بے وقوف بنے بیٹھے ہیں اور قوم کو بھی عقل سے پیدا سمجھے بیٹھے ہیں۔ یہاں ایک بات کا ذکر کرنا انتہائی ضروری ہے کہ پی سی بی آفیشلزہوں یا آفریدی الیون کوئی بھی اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے شکست کا ملبا دوسرے پر ڈالنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے ۔ مثال کے طور پر اگر ہم حالیہ ایونٹ میں بھارت کے ہاتھوں شکست کا ذمہ دارتلاش کرنے کی کوشش کریں گے توچیئرمین پی سی بی کہیں گے کہ ”دیکھومیاں !چیئرمین کا کام میدان میں کھیلنا نہیں اگر پی سی بی نے کھلاڑیوں کی تربیت اور سہولیات میں کوئی کسر چھوڑی ہوتو بتاو؟اس لیئے وہ اس شکست کے ذمہ دار نہیں بلکہ وہ شکست کی وجہ تلاش کرنے کے لیئے ایک کمیٹی تشکیل دیں گے تو “۔ اگر ہم سیٹھی صاحب کو اس شکست کی وجہ پوچھیں گے تو وہ یہ کہہ کر اپنی جان بخشی کروالیں گے کہ ”وہ تو پاکستان سپر لیگ یعنی پی ایس ایل کے ذمہ دار ہیں ان کا قومی کرکٹ ٹیم کی جیت یا ہار سے کیا تعلق ؟“۔ یہی بات اگر چیف سلیکٹریا دیگر ممبران سلیکشن کمیٹی سے پوچھیں تو ان کے پاس بڑا اچھا جواز بنتا ہے کہ ”انہوں نے موجودہ ٹیلنٹ میں سے بہترین ٹیم چنی اب ان سے کام لینا کوچ اور مینجمنٹ کا کام ہے “۔ اگر آپ کوچ یا منیجر سے پوچھیں گے تو وہ یہ بات کہہ کر سارا ملبا کپتان پر ڈال دیں گے کہ ”میدان میں جتنی کپتان کی چلتی ہے کسی اور کی نہیں چلتی اس لیئے اس شکست کی ذمہ داری کوچ کے کاندھوں پر ڈالنا کہاں کا انصاف ہے ؟“۔یہ بات اگر آپ کپتان سے پوچھ لیں تو اس کے پاس بھی اپنی جان چھڑوانے کے ایک سو ایک بہانے موجود ہوتے ہیں کہ ”مجھے ٹیم میری مرضی کی نہیں ملی ، گیندبازوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا ، بلے بازوں نے وکٹ پر رک کرکھیلا ہوتا تو میچ پاکستان کے حق میں ہوتا، بھارت کو ہوم گراو¿نڈ اور ہوم کراوڈ کا ایڈوانٹج تھا، کھلاڑیوں نے ساتھ نہیں دیا، وغیرہ وغیرہ “۔ اگر کھلاڑیو ں سے شکست کی وجہ پوچھی جائے تو وہ وکٹ ، کنڈیشنزاور امپائرنگ کو اپنی ٹیم کی ناکامی کاسبب بتائیں گے اگر یہ سب نہیں بولیں گے تو یہ کہہ دیں گے کہ ”آج تومخالف ٹیم کا دن اچھا تھا اس لیئے وہ جیت گئے “۔
سب کی نرالی منطقیں ہیں لیکن کہنا یہ ہے کہ ! بے ضمیر انسان کے لیئے اپنے ملک کو بے آبرو کرنا کوئی بڑی بات نہیں لیکن مصیبت یہ ہے کہ باضمیر انسان لائیں بھی تو کہاں سے ؟ ایسا مخلص آرگنائزرجوپی سی بی کی بنیادیں کھوکھلی کرنے والوں کا میرٹ کی دوائی سے علاج کرسکے ۔ جو پلیئرز پاور اور کپتانی کے پیچھے بھاگنے والے مفاد پرست کھلاڑیوں کو راہ راست پر لاسکے اور کوئی ایسا ذہین اور باصلاحیت آرگنائزرجوماضی سے سبق سیکھ کر آئندہ آئی سی سی ایونٹ میں روایتی حریف کے خلاف میچ میں تاریخ بدل دے اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی کو فائیوسٹار ہوٹل کی بجائے کھلاڑیوں کی حقیقی تربیت گاہ بناسکے ۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*