Main Menu

اکیڈمی کو دوبارہ ٹریک پر لانے کی کوشش کر رہا ہوں: موڈی پائین(مدثر نذر) کی باتیں

madassarNazar

پاکستان کی نامور کرکٹ فیملی سے تعلق رکھنے والے ڈائریکٹر نیشنل کرکٹ اکیڈمی و لیجنڈری کرکٹرمدثر نذر پاکستان کرکٹ کے درخشندہ ستارے ہیں جنھوں نے اپنی جوانی میں قومی کرکٹ ٹیم کے لئے گراں قدر خدمات سرانجام دینے کے بعد کوچنگ میں بھی پاکستان کو ایک نئی پہچان دی ۔ لاہور سمیت پاکستان کے دیگر شہروں میں قائم 13 ریجنل اکیڈمیز کے قیام کا آئیڈیامدثر نذر کے حصہ میں ہی آیا جہاں آج ہمارے قومی کرکٹرز اپنی فزیکل فٹنس اور ٹرینگ میں مشغول رہتے ہیں ۔ مدثر نذر جنھیں ان کے جونیئرز پیار سے ”موڈی پائین “کے نام سے پکارتے ہیں پی سی بی حکام کے اصرار پر دوبارہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی کا چارج سنبھال چکے ہیں اورمستقبل کے نئے سٹارز کی تیاری کے عمل میں دن رات مصروف ہیں ۔ پاکستان کے اس لیجنڈری کرکٹر سے گزشتہ دنوں ایڈیٹر ”جیت پاکستان“ نے ایک خصوصی ملاقات کی جس میں زیربحث آنے والی کرکٹ صورتحال ہمارے قارئین کی نذر ہے ۔

نیشنل کرکٹ اکیڈمی کا قیام آپ ہی کی محنت کا صلہ ہے کیا آپ سمجھتے ہیں کہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی نے آپ کی توقعات کے مطابق نیشنل کرکٹ ٹیم کی ضروریات کو پورا کیا ہے ؟
نیشنل کرکٹ اکیڈمی نے لمبے عرصے تک پاکستان کے لئے کرکٹ کھیلنے والے کھلاڑی کھلاڑیوں کی تربیت کی ۔اکیڈمی کے کوچز نے سابق کپتان مصباح الحق ، کامران اکمل ، سلمان بٹ ، محمد عامر ، عمراکمل اور بابر اعظم جیسے کھلاڑیوں کی تربیت کی اور مستقبل میں مزید اچھے کھلاڑی اس اکیڈمی سے فائدہ اٹھائیں گے ۔ جہاں تک بات توقعات کی ہے تو یہ کہنا تھوڑا مشکل ہے کہ کیونکہ اس اکیڈمی پر اچھے برے وقت آتے رہے ہیں جس کی وجہ سے کہ تسلسل کے ساتھ کام نہیں کرسکی ۔ جب آپ دنیا کے ساتھ چل رہے ہوتے ہیں تو آپ کو دنیا کی رفتار کے ساتھ چلنا پڑتا ہے مگر ہماری اکیڈمی ماضی میں بالکل نظرانداز کی گئی جس کے وجہ سے ہم 8 سال دنیا سے پیچھے چلے گئے لیکن اب ہماری کوشش ہے کہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی کی کامیابی کا تسلسل برقراررہے اور اس میں آنے والے کھلاڑیوں کو دورحاضر کے تقاضوں کے مطابق جدید تربیت ملتی رہے ۔

آپ کے پروگرام میں اکیڈمی کے اندر ایک بین الاقوامی معیار کی بائیومکینکس لیب کی تنصیب کا منصوبہ بھی تھا جو بدقسمتی سے پورا نہ ہوسکا اس کے بارے میں کیا کہیں گے ؟
اس کے بارے میں میں یہی کہوں گا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی بائیومکینکس لیب کو ایف آئی اے اور دیگر اداروں نے متنازعہ نہ بنایا ہوتا تو آج ہم کرکٹ میں آسٹریلیا اور انگلینڈ سے آگے ہوتے ۔ ڈائریکٹر نیشنل کرکٹ اکیڈمیزمدثرنذر کے مطابق پاکستان میں منگوائی گئی بائیومکینکس لیب دیگر ممالک کے مقابلے میں جدید لیب تھی جس میں باقی ممالک کی نسبت چارزائد کیمرے لگے ہوئے تھے لیکن بدقسمتی سے اس لیب کو تنازعات کی گرد نے بے کار بناکررکھا دیا ۔
این سی اے کو 2008 میں جہاں چھوڑ کر گئے تھے کیا اس میں 2016 تک کوئی بہتری یا تنزلی ہوئی ؟
اکیڈمی کو جہاں چھوڑ کر گیا تھا افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ اکیڈمی پیچھے گئی ہے اگر وہیں بھی کھڑی ہوتی تو آگے لے کر جانے میں زیادہ محنت نہ کرنا پڑتی ابھی پہلے سال میں تو اکیڈمی کو دوبارہ ٹریک پر لے کر آنے کی کوشش کی ہے ۔

 اکیڈمی کو دوبارہ جوائن کیئے ماشاءاللہ ایک سال ہوگیا ہے اس سال آپ نے کیا کھویا کیا پایا؟
اکیڈمی میں اپنے ایک سال کی کارکردگی سے مطمئن ہوں اوررواں سال انڈر 19 کھلاڑیوں کے لئے لمبے عرصے کے کیمپ لگاکر ورلڈ کپ کی تیاری کریں گے ۔ گزشتہ سال پی سی بی کا بجٹ فائنل ہونے کے بعد نیشنل کرکٹ اکیڈمی کا چارج ملااس لئے اپنی مرضی کے پروگرام ترتیب نہیں دے سکے اس لئے گزشتہ سال صرف 4 ہفتے کا مختصر کیمپ لگاسکے تھے اس بار 12 ہفتے کے کیمپ لگائیں گے جس میں انڈر 19 ورلڈ کپ کی تیاری سمیت قومی ٹیم کی مڈل آرڈر بلے بازوں کی کمی کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ آل راونڈرز پر بھی کام کریں گے ۔

آپ نے اپنے پچھلے دور میں قومی ٹیم کو فاسٹ باولر محمد عامر کا تحفہ دیا اپنے اس تین سالہ دور میں کون کون سے سٹار کھلاڑی ٹیم کو دینے جارہے ہیں؟
فوری طور پر مصباح الحق اور یونس خان کا متبادل فراہم کرنا مشکل کام ہے تاہم جلدی ہی ٹیم کو بھروسے مند مڈل آرڈر بلے باز فراہم کردیں گے انہوں نے کہا کہ ٹیم میں اچھے آل راونڈر کی کمی کو پورا کرنے کے لئے 12 ہفتوں پر مشتمل ایک کیمپ لگارہے ہیں جس کے بعد قومی ٹیم کے لیئے 6 سے 7 آل راونڈر دستیاب ہونگے ۔

آپ کے خیال میں آئی سی سی کرکٹ اکیڈمی اور پاکستان کی نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں کھلاڑیوں کی تربیت اور معیار کا کس قدر فرق ہے ؟
بہت فرق ہے آئی سی سی کی اکیڈمیز کمرشل بنیادوں پر کام کرتی ہیں جبکہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی ملکی ضروریات کو پورا کرنے کی ذمہ دار ہے جہاں کھلاڑیوں کو تربیت کی تمام تر سہولیات دینا اکیڈمی انتظامیہ اور پی سی بی کی ذمہ داری ہے ۔

ٓٹیسٹ کرکٹ میں آپ کی فیملی کا کوئی مقابل نہیں ۔ آپ نے بھی اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بیٹ کیئری کیالیکن آج ہمارے بلے باز مخصوص ہندسوں کے بعد غیرذمہ دارانہ شارٹ کھیل کر آوٹ ہوجاتے ہیں ا س کی کیا وجہ ہے ؟
اگر میں بھی اس دور میں ہوتا تو بڑے شارٹس لگانے کی کوشش کرتا مگر جس دور میں ہم نے کرکٹ کھیلی اس دور میں وکٹ پر ٹہرنا کمال ہوتا تھا میرے پورے ٹیسٹ کیئرئر میں ایک چھکا شامل ہے وہ بھی میں نے ارادہ تن نہیں لگایا تھا لیکن اگر میں آج کی کرکٹ کھیل رہا ہوتا تو ضرور بڑی ہٹ لگانے کی پریکٹس کرتا ۔ آج کل کھیلنے والے بلے باز بھی یہی کرتے ہیں۔

انگلینڈ میں لارڈ کے میدان میں میزبان ملک کے خلاف گولڈن آرم کا ایوارڈ حاصل کرنا کیسا تجربہ تھا ؟
وہ بہت یادگارلمحات تھے میرے شدید خواہش تھی کہ پاکستان کی انگلینڈ کے تاریخی میدان میں کامیابی ہواور میں اس میں اہم کردار ادا کروں میں نے بیٹنگ کے بھرپور پریکٹس کررکھی تھی مگر ہمارے باولرز کی انجری کے باعث گیندبازی کی ذمہ داری بھی مجھے ہی پوری کرنا پڑی اور اس میں اللہ تعالیٰ نے مجھے عزت دی اور میں نے گولڈن آرم ایوارڈ حاصل کرلیا۔

آپ کے خیال میں پاکستان کرکٹ کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے ؟
میرے خیال میں پاکستان کرکٹ کا سب سے بڑا مسئلہ کھلاڑیوں کی سلیکشن ہے جو لوگ الیکشن جیت کر ریجن میں آتے ہیں انہیں دوبارہ انتخابات میں کامیابی کے لئے جانبداری کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کرکٹ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اب کھلاڑیوں کی سلیکشن سیاسی مرحلے کی نذر ہونے لگی ہے کیونکہ ریجن میں الیکشن کے ذریعے منتخب ہونے والے عہدیداروں کو اپنے حامی کلبوں کے کھلاڑیوں کو سپورٹ کرنا پڑتاہے اور مخالف کلبوں کے کھلاڑیوں کو نظرانداز کرنا پڑتا ہے کیونکہ انہوں نے اگلی بار پھر الیکشن کے ذریعے عہدہ حاصل کرنا ہوتا ہے ۔

آئندہ دوسے تین سالوں میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے حوالے سے آپ کے اہداف کیا ہیں؟
کسی معروف تعلیمی ادارے کے اشتراک سے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں کھیلنے والے کرکٹرز کی تعلیم و تربیت کا پروگرام شروع کریں گے ۔ نیشنل کرکٹ اکیڈمی کھلاڑیوں کو کرکٹ کی تربیت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیمی قابلیت کو بڑھانے کے لئے پاکستان کے معروف تعلیمی ادارے کے ساتھ مل کر کام شروع کرنے کی خواہش مند ہے اور اس کے لئے بہت جلد کام شروع کردیا جائے گا۔
انٹرویو: اشفاق مغل / تصاویر : شاہنواز

Copy of DSC_0002 Copy of DSC_0003 Copy of DSC_0005 Copy of DSC_0017 Copy of DSC_0018 Copy of DSC_0024 Copy of DSC_0026






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*