Main Menu

کروڑ پتی کرکٹرز کااربوں پتی بننے کا سفر شروع

sarfarazGettingCarPrize

ashfaq

قومی کرکٹ ٹیم کی چمپئنز ٹرافی میں شاندار کامیابی پر انعامات چھم چھم کر برس رہے ہیں اور ابرِ کرم کا یہ سلسلہ ہے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا ۔ گرین کیپس( پاکستان کرکٹ ٹیم) کو فاتحین کا فاتح بنانے والے کپتان سرفراز احمد کو متعددگاڑیوں اور نقدانعامات کے ساتھ ساتھ بیش قیمت انعام ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کی صورت میں مل گیا ہے ۔

 فاتحِ بھارت سرفراز احمدٹیسٹ کرکٹ میں مصباح الحق اور عمران خان کی طرح گرین شرٹس کوکامیابیاں دلواسکیں گے یا نہیں اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا ۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے پہلے سے نوٹوں سے کھیلنے والے کھلاڑیوں کو اپنا آئینی حق استعمال کرتے ہوئے وزیراعظم ہاوس میں کھانے پر مدعو کرکے ایک ایک کروڑ روپے کے چیک تقسیم کیئے ۔ بہت اچھی بات ہے ۔

گوروں کے دیس میں فائنل میں بھارت کو شکست دے کر قوم کوخوشی دینے والے کرکٹرز یقیناعزت وتکریم اور انعامات کے مستحق ہیں اس پر کسی کوکوئی اعتراض بھی نہیں ۔ لیکن اس حقیقت سے کیسے آنکھیں چرائی جا سکتی ہیں کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی پی سی بی سے بھاری میچ فیس کے علاوہ سالانہ کروڑوں روپے سینٹرل کنٹریکٹ کی مد میں وصول کرتے ہیں جبکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں مختلف محکموں کی جانب سے ملنے والے اعزازیئے اور سہولیات الگ سے ان کھلاڑیوں کو حاصل ہوتی ہیں ۔

سپر سٹار بننے والے کھلاڑیوں کو مختلف ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اشتہاری مہم کا حصہ بننے پر بھی کروڑوں روپے مل جاتے ہیں غرضیکہ قومی ٹیم میں شامل کرکٹرز جب تک سکواڈ کا حصہ رہتے ہیں ان پر پیسوں کا ابر برستا رہتاہے۔

ٹیم سے باہرہونے کے بعد بھی انہیں پیسہ، عزت اور شہرت کی کمی نہیں رہتی ۔ نامور کرکٹرز کوچنگ ، کمنٹری یا ٹیلی ویژن پر تبصروں اور اشتہارات سے اپنا نظام زندگی اچھے طریقے سے چلاتے رہتے ہیں۔ دوسری جانب غیرمعروف کرکٹرز بھی اپنے یا اپنے معروف کھلاڑیوں کے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے کوئی نہ کوئی کاروبار شروع کرلیتے ہیں اوراپنی دال روٹی اچھے طریقے سے چلالیتے ہیں۔

قائد اعظم کے اسی ملک کی دوسری کھیلوں اور کھلاڑیوں کے ساتھ حکمرانوں اور کھیل سے جڑ کر پیسہ کمانے والے اداروں اور شخصیات کا تعلق سوتیلے باپ جیسا ہے۔

 کرکٹ کے علاوہ پاکستان کو دنیا میں مقام دلوانے والی کھیلوں سکواش، باکسنگ ، سنوکر، ٹینس ، جوجسٹواور قومی کھیل ہاکی اور ان سے جڑے ہوئے کھلاڑیوں کو دیکھیں تو لگتا ہے کہ یہ کسی اور براعظم کے تیسرے درجے کے ملک کے ادارے اور کھلاڑی ہیں۔

ان کھیلوں سے وابستہ کھلاڑی اور آرگنائزرکن حالات میں گزر بسر کررہے ہیں اس پر بھی کسی کو ایک موٹی فائل بنا کر وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کے سامنے نہ صرف پیش کرنی چاہیئے بلکہ اس پر لفظ ارجنٹ اور ایمرجنسی لکھ کر ملک کے بڑوں کو توجہ مبذول کرانی چاہیے۔

کتنی کوفت ہوتی ہے کھیلوں کے شائقین کو جب وہ سنتے اور پڑھتے ہیں کہ سابق ہاکی اولمپئین اپنی غربت کے ہاتھوں تنگ آکر اپنے میڈلز فروخت کرنے پر مجبور ہیں ۔ باکسنگ اور جوجسٹوپلیئرز ٹیلنٹ ہونے کے باوجود انٹرنیشنل مقابلوں میں شرکت کوترس رہے ہیں ۔فٹ بال فیڈریشن اپنے مستقبل کے حوالے سے غیریقینی صورتحال کا شکار ہے اور اس پر فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کی پابندی کی تلور لٹک رہی ہے مگر کسی ہے اگر کسی کے کان پر جوں ہی رینگے؟

 پہلوانی کے بعد میٹ ریسلنگ پر نوجوان کھلاڑیوں نے سیف گیمز میں اچھی کارکردگی سے اپنا ٹیلنٹ ظاہر کیا مگر چھوٹی موٹی ملازمت کے سوا ان کے ہاتھ بھی کچھ نہ آیا۔

بڑے لوگوں کے مہمان خانے بھی بڑے لوگوں کے لیئے کھلتے ہیں۔یہ پاکستان جتنا میاں نواز شریف کا ہے اتنا ہی سندھ میں برسوں سے وڈیر وںکے شکار ہاری کا بھی ہے۔جتنی تکریم سرفراز اور ان کے ساتھیوں کے لیئے دکھائی گئی ہے اس سے نصف اگر دیگر تمام کھیلوں اور اس سے جڑے کھلاڑیوں کو محسوس ہونے دی جائے تو صرف کرکٹ ٹیم ہی نہیں ہم ہر کھیل میں اپنے کھلاڑیو ں کی مدد سے فاتحِ بھارت بن سکتے ہیں۔

بھارت کے ہاتھوں ہاکی ٹیم کی پے درپے بڑی ناکامیوں کے ذمہ دار کھلاڑی بھی ہیں لیکن کیا انہیں کرکٹ ٹیم کے سپوتوں کی طرح قوم کے بیٹے سمجھا جاتا ہے۔ انہیں فنڈز کے لیے ترسایا جاتا ہے اور پھر حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جا تاہے۔

یہ اچھا ، یہ برا۔ یہ خوب ، وہ نکما۔

پہلے سے کروڑ پتی کھلاڑیوں کو ارب پتی بنانے کا کلچر، کم معاوضے والے کھلاڑیوں میں احساسی محرومی پیدا کر رہاہے۔ اس احساس اور کمتر جذبے کے ساتھ ہاکی، سکواش ، سنوکر اور فٹ بال کے پاکستانی کھلاڑی دنیا کی طاقت پکڑتی ٹیموں کا سامنا کیونکر کر سکتے ہیں۔

قوم کے بیٹوں کے ساتھ یہی سوتیلے پن کا سلوک ہمیں کھیلوں کی دنیا کا حکمران بننے سے روک رہا ہے۔

اِدھراسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک شہری کی درخواست پر وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے فاتحین(چیمپئنز ٹرافی) بھارت میں لگ بھگ چوبیس کروڑ تقسیم کرنے پر وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری سے جواب طلب کر لیا ہے۔فائدہ اٹھانے والے کھلاڑیوں کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ انہوں نے یہ کروڑوں ہتھیائے نہیں ، انہیں عنائت کیئے گئے ہیں۔حکومت عدالت کو مطمئن کرنے کے لیئے اس کا مناسب جواب تلاش کر لے گی کہ ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔

عدالت اگر کچھ کرنا چاہتی ہے تو حکومت کو حکم دے کہ وہ کرکٹ کے کھلاڑیوں کی طرح دیگر کھیلوں سے منسلک پاکستانیوں کا بھی پدرانہ طریقے سے خیال رکھے۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*