Main Menu

اولمپکس میں میڈل جیتنا میری منزل ہے: ساویل فیاض

sawail

 پاکستان کے ابھرتے ہوئے کراٹے کے کھلاڑی ساویل فیاض نے کہا ہے کہ پاکستان کراٹے فیڈریشن اور والدین کی سپورٹ سے ساوتھ ایشین گیمز میں سلورمیڈل حاصل کیا، حکومت کے تعاون سے پاکستان کواولمپکس مقابلوںمیں میڈل دلوانا میری منزل ہے ، پہلا انڈر 21 پاکستانی ہوں جس نے ساوتھ ایشین گیمز میں میڈل اپنے نام کیا، سری لنکا میں منعقد ہونے والی ساوتھ ایشن گیمز میں بھارتی فائٹر کو 8-0 اور سری لنکن فائٹر کو 7-0 سے شکست دی ۔ فیڈریشن اور والدین کے ساتھ اگر حکومت کی سپورٹ بھی حاصل ہوجائے تو ساوتھ ایشن گیمز میں گولڈ میڈل جیتنا مشکل نہیں ہوگا۔

انیس سالہ ساویل فیاض نے ایک خصوصی ملاقات میں بتایا کہ 3سے 6 اگست تک سری لنکا میں ہونے والے مقابلوں میں شرکت کے لئے پاکستان کراٹے فیڈریشن کے پاس وسائل نہیں تھے لیکن ان کے والدین نے انہیں اپنے خرچہ پر مقابلوں میں شرکت کے لئے بھیجاجہاں انہوں نے روایتی حریف بھارت اور میزبان ملک سری لنکا کے فائٹر کو یکطرفہ مقابلے کے بعد شکست سے دوچار کیا تاہم نیپالی فائٹر سے صرف ایک پوائنٹ کی وجہ سے شکست کھانا پڑی ۔ ایک سوال کے جواب میں ساویل فیاض کا کہنا تھا کہ پاکستان کراٹے فیڈریشن اپنے وسائل کے مطابق ملک میں کراٹے کے فروغ کے لئے کوشش کررہی ہے لیکن حکومت کی جانب سے کوئی خاطر خواہ امداد نہیں مل رہی جس کی وجہ سے نہ تو ملک میں کراٹے کے ایونٹس کا انعقاد ہوپاتا ہے اور نہ ہی بیرون ملک ایونٹس میں شرکت کرنا ممکن رہتا ہے ۔

 انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں زیادہ سے زیادہ ایونٹس کا انعقاد ہوتو کوئی وجہ نہیں ہے کہ پاکستان ایشیا کی سطح پر وکٹری سٹینڈ تک نہ پہنچے ۔ ساویل فیاض نے بتایا کہ وہ پہلے پاکستانی ہیںجنھوں نے انڈر 21 میں ساوتھ ایشین گیمز میں پاکستان کے لئے میڈل حاصل کیا۔ فیملی میں کوئی اور سپورٹس میں دلچسپی رکھتا ہے کہ جواب میں ساویل کا کہنا تھا کہ ان کے والد فیاض فیروز لاہور کراٹے ایسوسی ایشن کے سیکرٹری ہیں جبکہ ان کا چھوٹا بھائی سجاول فیاض بھی کراٹے کا پلیئرہے ۔ حکومت سے سپورٹ کے حوالے سے ساویل کا کہنا تھا کہ پاکستان کراٹے فیڈریشن کے صدر محمد جہانگیر اپنا کردار اداکررہے ہیں تاہم حکومت کو کراٹے کے فروغ کے لئے بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے ۔
انٹرویو : اشفاق مغل / تصاویر: عبدالقادر






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*