Main Menu

اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے نبھا رہا ہوں: ڈائریکٹر کرکٹ آپریشن عاقب جاوید

aaqibJaved

پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کو موثر اور مضبوط بنانے کی ضرورت ہے ۔
سلمان ارشاد میں مستقبل کے عاقب جاوید کی جھلک نظر آرہی ہے ۔ ڈائریکٹر کرکٹ آپریشن اور باولنگ کنسلٹنٹ لاہور قلندر

انٹرویو: اشفاق مغل / تصاویر: ظہیر عباس

نوے کی دہائی میں روایتی حریف بھارت کے بلے بازوں کی نیندیں اور کلیاں اڑانے والے پاکستانی تیز گیندباز عاقب جاوید آج کل قلندروں کے لئے نئے ٹیلنٹ کی تلاش میں ملک کے شہرشہر پہنچ رہے ہیں ۔ ایکروزہ کرکٹ میں ہیٹرک بنانے والے نوجوان کرکٹر کے طور پر اپنے آپ کو منوانے والے عاقب جاوید اس وقت اپنی زندگی کی 45 بہاریں دیکھ چکے ہیں لیکن آج بھی ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے کوئی نوجوان اپنی جوانی کی وادی میں ابھی ابھی اترا ہو۔ عاقب جاوید اپنے دور کے خوبصورت رن اپ کے ساتھ ہائی آرم میڈیم فاسٹ باولرتھے جن کی ریورس سوئنگ اور روایتی حریف بھارت کے خلاف شاندار کارکردگی پاکستان میں کرکٹ کو پیار کرنے والوں کے لئے آج بھی یادگار ہیں ۔ 16 سال کی عمر میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے عاقب جاوید نے ورلڈ کپ 1992میں پاکستان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ ورلڈ کپ میں بورے والا ایکسپریس کی انجری کے باعث عاقب جاوید نے اپنی اہمیت کو مزید اجاگر کیا اوراپنے شاندار سپیلزکے ساتھ ثابت کیا کہ وہ وسیم اکرم اور وقار یونس جیسے لیجنڈری باولرز کی موجودگی میں بھی اپنا الگ مقام رکھتے ہیں۔ عاقب جاوید بھارت کے خلاف جس جذبے سے کھیلتے رہے اس کی مثال بھی بہت کم ملی ہے ان کو ملنے والے 6 مین آف دی میچزمیں سے 4 بھارت کے خلاف شاندار کارکردگی کے صلہ میں ملے ۔ عاقب جاوید کی ایک اور بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ پاکستانی کھلاڑیوں پر میچ فکسنگ کے الزامات کے دور میں اپنا دامن بچانے میں کامیاب رہے ۔ کرکٹ سے اپنی محبت کو برقراررکھنے کے لئے عاقب جاوید نے بطور کھلاڑی اپنے کیئرئرکے اختتام پر کوچنگ کے شعبے کو اہمیت دی اور پاکستان کو 2004 میں بطور کوچ انڈر 19 ورلڈ کپ کا فاتح بنوایا۔ پاکستان کی نیشنل کرکٹ اکیڈمی ، پاکستان کرکٹ ٹیم (باولنگ کوچ )، افغانستان کرکٹ ٹیم اور متحدہ عرب امارات کی ٹیم کی کوچنگ کرنے کے بعد آج کل پاکستان کے برانڈ پی ایس ایل کی اہم ٹیم لاہور قلندر کے ڈائریکٹر کرکٹ آپریشن اور باولنگ کنسلٹنٹ کی ذمہ داریاں نبھارہے ہیں ۔ پاکستان کرکٹ کے سپر سٹار عاقب جاوید سے گزشتہ دنوں ہونے والی خصوصی ملاقات کا احوال ہمارے قارئین کے لیئے پیش ِخدمت ہے۔

عاقب آپ کا تعلق شیخوپورہ سے لیکن کرکٹ قصور سے شروع کی اس کی کیا وجہ تھی ؟
یہ بات درست ہے کہ شیخوپورہ سے تعلق ہے لیکن گھر والوں نے مجھے پڑھنے کے لئے گورنمنٹ ہائی سکول بھمبھاکلاں کا انتخاب کیا جہاں میرے کزن پڑھتے تھے ۔ اس لئے زیادہ وقت قصور میں ہی گزرا او ر وہیں سے میں نے کرکٹ کا بھی آغاز کیاتاہم میٹرک کے بعد گورنمنٹ اسلامیہ کالج لاہور میں اپنی تعلیم کو آگے بڑھایا۔
کرکٹ میں یقینا آپ کی بہترین کارکردگی بھارت کے خلاف رہی اس حوالے سے کیا کہیں گے ؟
بھارت کے خلاف اچھی کارکردگی کی خواہش ہر پاکستانی کرکٹرکی ہوتی ہے لیکن میں خود کو اس حوالے سے بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میری کارکردگی سے پاکستان کو بھارت کے خلاف کامیابیاں ملیں ۔ میں نے بھارت کے خلاف اپنے کیئریرکے 39 ایک روزہ میچز میں 54 وکٹیں حاصل کیں جو میرے پورے کیئریر کی نمایاں کارکردگی ہے جس میں ایک ہیٹرک بھی شامل ہے جو بھارت کے خلاف ہی ہوئی ۔
آپ نے پاکستان میں خود بھی کرکٹ کھیلی اور کوچنگ بھی کی اور افغانستان اور یواے ای کی ٹیموں کی کوچنگ بھی کی آپ کے خیال میں پاکستان میں ان ممالک کی نسبت ٹیلنٹ کی صورتحال کیا ہے ؟
پاکستان میں جس قدر ٹیلنٹ موجود ہے وہ آسٹریلیا اور انگلینڈ میں بھی موجود نہیں وجہ صرف یہ ہے کہ پاکستان میں سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ آسٹریلیا اور انگلینڈ میں ہر ٹاون کی سطح پر ایسے گراونڈز موجود ہیں جو ہمارے کھلاڑیوں کو نیشنل لیول پر بھی میسر نہیں ۔
پاکستان میں کرکٹ کا بے پناہ ٹیلنٹ کو کارآمد بنانے کے لئے پی سی بی کو کیا کرنا ہوگا؟
میرے خیال سے اس ٹیلنٹ کو کارآمد بنانے کے لئے پاکستان کے ڈومیسٹک سسٹم کو موثر اور مضبوط بنانے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان کے ڈومیسٹک سسٹم کو موثر بنائے بغیر پاکستان کے نئے کرکٹرز کو شوکیس نہیں کیا جاسکتا ۔ پی سی بی اور ریجن کی ٹیموں میں سلیکٹ ہونے والے کھلاڑیوں کو پوری چھان بین اور کارکردگی کی بنیاد پر ٹیموں میں شامل کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود میڈیا اور دیگر کھلاڑیوں پر تنقید کرتے ہیں جبکہ پاکستان کے ڈومیسٹک سسٹم میں شامل پرائیویٹ محکمے اپنی ٹیم میں ایسے کھلاڑیوں کو بھی شامل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں جنھوں نے کبھی کرکٹ بھی نہ کھیلی ہوتو اس طرح پاکستان میں ٹیلنٹ کیسے اوپر آسکتا ہے ۔
آپ آج کل لاہور قلندر کے لئے خدمات سرانجام دے رہے ہیں اس میں آپ کا تجربہ کیسا رہا اور وہاں پر آپ نے نئے کھلاڑیوں کی سلیکشن کا معیار کیا رکھا ہے ؟
لاہور قلندر کے ساتھ منسلک ہونے کا تجربہ بہت ہی شاندار ہے اور لاہور قلندرکے لئے پاکستان بھر سے نیا ٹیلنٹ سامنے لانے کی جو ذمہ داری رانا فواد نے مجھے سونپی ہے اسے ایمانداری سے پورا کرنے کی کوشش کررہا ہوں ۔ جہاں تک بات سلیکشن کے معیار کی ہے تو یہ میڈیا نے دیکھ ہی لیا ہے کہ فیصل آباد ، گوجرانوالہ ، لاہور ، بہاولپور ، لیہ ، سرگودھا، راولپنڈی ، مظفرآباد اور میرپورآزاد کشمیر میں ہمارے ٹرائلز میں لاکھوں نوجوانوں نے شرکت کی اور ان لاکھوں نوجوانوں میں سے کو منتخب ہوئے ان کو ان کی صلاحیتوں کی بدولت نہ صرف پاکستان بلکہ آسٹریلیا میں بھی کلب کرکٹ کھیلنے کا موقع ملا۔
آپ نے پورے پاکستان میں لاہور قلندر کے لئے ٹرائلز کا انعقاد کیا کیا آپ کو ٹرائلزدینے والے کھلاڑیوں میں سے کوئی مستقبل کا عاقب جاوید نظر آیا؟
ویسے تو بے شمار کھلاڑی ہیں لیکن آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے سلمان ارشاد میں مجھے مستقبل کے عاقب جاوید کی جھلک نظر آرہی ہے ۔
آپ نے آزاد کشمیر سے ٹیلنٹ کی تلاش کے لئے جو اقدامات کیئے وہ قابل تحسین ہیں آپ کو یہ آئیڈیا کس نے دیا تھا؟
اس کا کریڈٹ لاہور قلندر کی مینجمنٹ کو جاتا ہے جنھوں نے اس مقام کو منتخب کیا۔ کشمیر یوں کو گزشتہ 70 سال سے ہم نے تسلی کے سوا کچھ نہیں دیا لاہور قلندر نے پہلی مرتبہ آزاد کشمیر سے 12 کھلاڑیوں کو منتخب کرکے اور ان کے سٹیڈیم کو میڈیا کے ذریعے پوری دنیا کو دکھایا ہے کہ وہاں کتنا زیادہ ٹیلنٹ ہے ۔
پاکستان کے نئے ٹیلنٹ کو کیا پیغام دیں گے؟
میرا پیغام نئے کھلاڑیوں کے لئے صرف ایک ہی ہے کہ محنت کے بغیر کامیابی ممکن نہیں جو جتنی محنت کرے گا اس کو اتنی کامیابی ملے گی ۔

DSC_0944 - Copy DSC_0945 - Copy DSC_0958 - Copy

انٹرویو: اشفاق مغل / تصاویر: ظہیر عباس






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*