Main Menu

پاکستا ن ہاکی کے لیئے 2017 ایک” گیاگزرا“سال

pakHockeyVsScotland2017

ہاکی کی دنیا میں سب سے زیادہ چار مرتبہ کاعالمی چیمپئن پاکستان دو ہزار سترہ میں اپنے بے مثال ماضی کی کھوج میں بھٹکتا ہوا نظر آیا۔

بارہ مہینوں میں متعدد بارکپتان اور کوچز تبدیل کرنے کے باوجود پاکستانی ہاکی ٹیم کا سفر ڈھلوان کی طرف ہی لڑھکتا رہا۔

خاص طور بڑے حریفوں اور اس سے بھی اہم روایتی حریف کے خلاف ہمارے کھلاڑی بے بس دکھائی دیئے۔

اس دوران پاکستانی ٹیم نے کل تیس میچز کھیلے۔6 جیتے،5 برابر کھیلے اور 19ہارے۔جیت کا تناسب صرف بیس فیصد رہا۔

شایقین کے لیئے یہ بھی حیران کن تھا کہ بھارت کے خلاف قومی ٹیم چار میچ کھیلی اور تمام میچ بری طرح ہاری۔اس سے بھی مایوس کن بات یہ ہے کہ ان مقابلوں میں قومی ٹیم صرف تین گول بناپائی جب کہ اس کے خلاف بیس گول بنائے گئے۔اوسطاََ ہر میچ میں پانچ گول قبول کیئے گئے۔

سال کا آغاز پاکستانی ٹیم نے مارچ میں دورہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا سے کیا جس میں دو مختلف ٹیسٹ سیریز میںمجموعی طور پر نو ٹیسٹ کھیلے گئے۔

پہلے پانچ ٹیسٹ کی سیریز نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلی گئی جس میں پاکستان نے تین دو سے کامیابی حاصل کی جو کہ دوہزار سترہ میں پاکستانی کی اکلوتی فتح ہے۔اس فتح نے ایک امید پیدا کی لیکن ٹیم اٹھان نہ پکڑسکی۔

اگلے مرحلے میں آسٹریلیا کے خلاف چار میچوں کی سیریز کے تمام میچ پاکستان ہارگیا۔

پاکستان کی جون میں عالمی ہاکی لیگ کی تیاریوں کے سلسلے میں آئرلینڈ کے خلاف تین میچوں پر مشتمل سیریز ہوئی جس میںاسے دو صفر سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

انگلستان میں عالمی ہاکی لیگ کے سیمی فائنل راﺅنڈ میں پاکستانی ٹیم ایک بڑی آزمائش سے گزری اورمجموعی طور پر سات میچوں میں سے دو جیت پائی اور ساتویں پوزیشن کی حقدار ٹہری۔اس ایونٹ میں اسے بھارت نے دو مرتبہ بڑے، سات ایک اور چھ ایک کے فرق سے شکست سے دو چار کیا۔

اکتوبر میں بنگلہ دیش کے شہر ڈھاکہ میں کھیلے گئے ایشیاکپ مقابلوں میں پاکستانی ٹیم تیسرے درجہ پر رہی۔یہاں بھی وہ سات میچوں میں صرف دو میچ جیت پائی۔حیران کن امر یہ تھا کہ پاکستانی ٹیم بھارت کے خلاف دونوں میچ ایک بار پھر واضح فرق تین ایک اور چار صفر سے ہاری گئی۔

سال کے آخری مقابلوں نومبر میں آسٹریلیا میں کھیلے گئے چار ملکی ایونٹ میں پاکستانی ٹیم چاروں میچوں میں نامراد رہی اور آخری پوزیشن پر رہی۔ اس ایونٹ میں پاکستان کو آسٹریلیا کے خلاف نو، ایک کی بدترین ناکامی کا بھی سامنا کرناپڑا ۔

اس سیریز کے ناکامی کے بعد پاکستانی ٹیم کا کوچ تبدیل کردیا گیا تاہم چار صفر کی بھاری ناکامی اٹھانے والے اس کوچ کو سلیکشن کمیٹی میں ایک رکن کی ذمہ دار ی سونپ دی گئی۔

یہی وہ میوزیکل چیئر کا کھیل ہے کہ جو حنیف خان، حسن سردار، خواجہ جنید، اختر رسول، شہناز شیخ وغیرہ کے درمیان عرصہ دراز سے جاری ہے۔ان میں سے کوئی ہر دور میں کسی نہ کسی عہدہ پر ضرور رہتا ہے۔

شہباز سنیئر کے بطور سیکریٹری ہاکی فیڈریشن معاملات سنبھالنے کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ اب شاید کچھ مختلف ہو لیکن لگ رہا کہ آصف باجوہ یا اختر رسول والا ہی دور چل رہا ہے۔

شہبا ز سنیئر پاکستان ہاکی کا ایک بڑا ستارہ ہے ۔ممکن ہے کہ دگرگوں مالی حالات یا عرصہ دراز سے جاری ہاکی کی سیاست انہیں آزادانہ کام کرنے سے روک رہی ہو ۔ لیکن یہ انیس سو چورانے کی فاتح عالم ٹیم کے کپتان پر منحصر کہ وہ بھی میوزیکل چیئر سے لطف اندوز ہونے والوں کی طرح تاریخ میں زندہ رہنا چاہتا ہے یا پاکستان ہاکی کو کھویاہوا مقام دلانے کے لیئے کچھ ”نیا“کرنا چاہتا ہے۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*