Main Menu

والی بال نیشنل چمپئن شپ2017 کی مکمل کہانی

VolleyBallWapdaVsNavy

پاکستان واپڈانے پاکستان نیو ی کو شکست دے کر نیشنل والی بال چمپئن شپ میں اپنے اعزاز کا دفاع کرلیا۔ فاتح ٹیم نے فائنل معرکے میں نیوی کو ایک کے مقابلے 3 سیٹ سے شکست دی ۔ چمپئن شپ کی تیسری پوزیشن کے لئے کھیلے گئے میچ میں پاک آرمی نے پاکستان ایئر فورس کو شکست دے کر وکٹری سٹینڈ تک رسائی ممکن بنائی ۔ تیسری پوزیشن کے میچ کا رزلٹ بھی 3-1 ہی رہا ۔واپڈا کے مراد جہاں ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی قرار دیئے گئے ۔ فائنل میچ کے مہمان خصوصی پی او ایف بورڈ کے ممبر پروڈکشن کوارڈنیٹرمحمد افضل نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیئے ۔

اتوار کے روز تماشائیوں سے بھرے پی او ایف سپورٹس کمپلیکس میں کھیلے گئے فائنل میں پہلا سیٹ25-22 کے سکورسے پاکستان واپڈا کے نام رہاجبکہ دوسرے سیٹ میں پاکستان نیوی نے کم بیک کیا اور واپڈا کو سیٹ میں 26-28 سے شکست دے کر میچ برابر کردیا تاہم واپڈا نے تیسرے اور چوتھے سیٹ میں نیوی سے بہتر کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے آخری دونوں سیٹ 25-17 اور 25-18 سے جیت کر فائنل ٹرافی اپنے نام کی ۔

پاکستان نیوی کی ٹیم فائنل میچ میں خوب جوش و جذبے کے ساتھ کورٹ میں اتری اور پہلے اور دوسرے سیٹ تک ان کھلاڑیوں میں جیت کی امید شائقین کو نظر آرہی تھی ۔ پاکستان نیوی کے واصف اور ابوزر نے اپنے شاندار کھیل سے دفاعی چمپئن واپڈا پر دباو برقراررکھا جس کی وجہ سے واپڈا کو پہلے دو سیٹ میں پوائنٹ حاصل کرنے کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگانا پڑا۔ دونوں کھلاڑیوں کی زور دارسمیش اور موثر دفاع نے واپڈا کے کھلاڑیوں کو مشکلات میں ڈالے رکھا تاہم واپڈا کے نصیر احمد اور منیر خان نے پہلے سیٹ کے آخری لمحات میں 3 سٹیٹ پوائنٹ حاصل کرکے واپڈا کو پہلے سیٹ میں کامیابی دلائی ۔ دوسرے سیٹ میں نیوی کے مبشر واسط اور ابوزر نے اپنی ٹیم کو سیٹ میں کامیابی دلائی ۔ میچ کے تیسرے اور چوتھے سیٹ میں واپڈا نے پہلے سے زیادہ طاقت سے نیوی کے کھلاڑیوں پر اٹیک کیا اور جیت کو یقینی بنایا۔

تیسری پوزیشن کے لئے پاکستان آرمی اور پاکستان ایئرفورس کے مابین کھیلے گئے میچ کا نتیجہ فائنل میچ سے کچھ مختلف نہ رہا ۔ آرمی نے پہلا سیٹ 26-24 سے اپنے نام کیا جبکہ دوسرا سیٹ 21-25 سے پاکستان ایئر فورس کے نام رہا ۔ میچ کے تیسرے اور چوتھے سیٹ میں آرمی نے کم بیک کیا اور تیسری پوزیشن پر اپنا قبضہ جمایا۔ تیسرے اور چوتھے سیٹ کا سکور 25-18 اور 25-20 رہا ۔

ایونٹ کے سیمی فائنل مقابلوں میں پہلا سیمی فائنل ملک کی کھیلوں کی دوبڑی حریف ٹیموں کے مابین کھیلا گیا جس میں واپڈا کی ٹیم نے کامیابی حاصل کی جبکہ آرمی کے کھلاڑیوں نے واپڈا کے کھلاڑیوں سے زیادہ بہتر کھیل پیش کیا لیکن قسمت نے آرمی کے کھلاڑیوں کا ساتھ نہ دیااور انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلے سیمی فائنل میں واپڈا نے آرمی کو صفر کے مقابلے تین سیٹ سے شکست دی ۔ دوسرے سیمی فائنل میں پاکستان نیوی نے ایئرفورس کے شاہینوں کو شکست دے کر فائنل کے لئے کوالیفائی کیا۔ دوسرے سیمی فائنل میں کھیلنے والی دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کو تماشائیوں کی بھرپور سپورٹ حاصل رہی لیکن اس میچ میں نیوی کے کھلاڑیوں نے ایئرفورس کے کھلاڑیوں پر اپنی سبقت ظاہرکرکے فائنل میں جگہ بنائی ۔ اس میچ کی دلچسپ بات یہ رہی کہ دونوں ٹیمیں برابرکی تھیں جس کی وجہ سے یہ میچ 5 سیٹ تک گیا ۔ اس میچ کے پہلے 2سیٹ پاکستان ایئر فورس کے نام رہے تاہم میچ کے آخری تین سیٹ میں پاکستان نیوی کے کھلاڑیوں نے بازی پلٹ دی ۔

پاکستان آرڈینینس فیکٹری میں کھیلی گئی نیشنل چمپئن شپ میں شریک 17ٹیموں کو 4 پولز میں تقسیم کیا گیا تھا ۔ دفاعی چمپئن واپڈا کے پول میں 5 ٹیمیں شامل تھیں جبکہ باقی تین پولز میں 4,4 ٹیمیں رکھی گئیں تھیں ۔ پول اے میں دفاعی چمپئن واپڈا کے علاوہ پاکستان آرڈینینس فیکٹری ، بلوچستان ، پاکستان یوتھ اور سندھ کی ٹیمیں شامل تھیں ۔ پول بی میں پاکستان ایئر فورس ، پنجاب ، پاکستان بورڈ ، اور پاکستان جونیئر کی ٹیمیں شامل تھیں ۔ پول سی میں اسلام آباد ، نیوی ، کے پی کے اور آزاد جموں وکشمیر کی ٹیمیں شامل تھیں ۔ پول ڈی میں آرمی ، ریلویز ، پولیس اور فاٹا کی ٹیمیں شامل تھیں ۔

ایونٹ کے کامیاب انعقاد پر پاکستان والی بال فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری شاہ نعیم ظفر نے چمپئن شپ میں شریک تمام ٹیموں کے کھلاڑیوں اور آرگنائزروں کا شکریہ ادا کیا اور پی او ایف سپورٹس بورڈ کے سیکرٹری اور چمپئن شپ کے آرگنائزنگ سیکرٹری اسد درانی کو کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لئے شاندار انتظامات کرنے پرسراہا جس کے جواب میں اسد درانی کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان والی بال فیڈریشن کے مشکور ہیں جنھوں نے والی بال کے فروغ کے لئے واہ کینٹ کے سپورٹس وینیوکو منتخب کیا اور پی او ایف سپورٹس بورڈ کو ایک کامیاب ایونٹ کے انتظامات سنبھالنے کا موقع دیا۔ اس موقع پر پاکستان والی بال فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری کی جانب سے سینئر صحافی آصف سہیل کی والی بال کے فروغ کی کوششوں کو بھی سراہا گیا۔

رپورٹ : آصف سہیل
تصاویر : ظہیر عباس

_DSC1098 IMG-20171221-WA0010






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*