Main Menu

ہمارے ”شہزادے“ نیو زی لینڈ میں کیوں لیٹ گئے؟

کیویز کے دیس میں پاکستانی شاہینوں کی بے بسی کو دیکھ کر شائقین کرکٹ کے سرشرم سے جھکے جارہے ہیں گو کہ اس ٹیم میں وسیم اکرم اورشاہدآفریدی جیسا ایک بھی سپر اسٹار شامل نہیں لیکن اس کے باوجود قوم نے ٹیم میں شامل نئے و پرانے کھلاڑیوں سے بہت سی امیدیں باندھ رکھی ہیں ۔

امید کی جارہی تھی کہ کپتان سرفراز انہیں دھوکہ نہیں دے گا،فخر زمان اپنی جارحانہ بلے بازی سے قوم کا مان بڑھائے گا ۔ شاداب اپنی گھومتی گیندوں سے کیویز بلے بازوں کی ناک میں دم کرکے رکھ دے گا اور آئی سی سی امرجنگ پلیئر آف دی ایئر تیز گیند باز حسن علی اپنی مخصوص اور جارحانہ گیند بازی سے نیوزی لینڈرز کی کلیاں اڑا کر رکھ دے گا۔یہ سب خواب ثابت ہوا۔

ٹیم ون ڈے سریز میں حریف کے سامنے لیٹ گئی۔انہوں نے پانچ صفر کی تختی ہمارے گلے میں لٹکا دی۔قوم اسی صدمے میں تھی کہ ٹی ٹونٹی سیریز کا پہلا میچ بھی ہاتھ سے نکل گیا۔
قوم نے تواپنے شہزادے کرکٹرز کو عزت اور اعزاز سے نیوزی لینڈ بھیجا تھا مگر یہ۔۔شہزادے قوم کا مان رکھتے ہوئے نظر نہیں آرہے ۔

یقینا کھلاڑیوں نے غیرملکی کوچ کی نگرانی میں نیوزی لینڈ میں مختصرفارمیٹ کے لئے گیئر تبدیل کرنے کی کوشش میں سخت ٹریننگ کی ہوگی اور ٹیم انتظامیہ نے کھلاڑیوں کو ذہنی طور پر ممکنہ صورتحال کے لئے تیار کرنے کے لئے تیاری بھی کی ہوگی۔ ٹیم کی کارکردگی بڑھانے کے لئے کمبی نیشن میں تبدیلی کے علاوہ اور بھی تجربات کیئے گئے۔ لیکن نتائج صرف تباہی کی نشان دہی کر رہے ہیں ۔

ویلنگٹن میں کھیلے گئے پہلے ٹی ٹونٹی میں شکست کے بعد پریس کانفرنس میں ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے سوالات کا سلسلہ شروع ہوتے ہی مایوسی اور بے بسی میں سر ہلاتے ہی عیاں کردیا تھا کہ معاملات ان کی سمجھ سے یا ان کے قابو سے باہر ہیں۔

مکی آرتھر نے روایتی کوچ کے روایتی فقرے دہرائے کہ تمام تر مسائل کے باوجود نوجوان کرکٹرز کی صلاحیتوں پر اعتماد ختم نہیں ہوا، ناکامیوں سے بھی ان کو اچھا تجربہ حاصل ہورہا ہے،بہتر مستقبل کے لئے مواقع اور وقت کی سرمایہ کاری کررہے ہیں،امید ہے کہ یہی کھلاڑی آگے چل کر اچھی کارکردگی دکھائیں گے۔

ایک طرف شہزادے کرکٹرز ہیں جن کی پرفارمنس خود انہیں بھی شرمارہی ہے تو دوسری طرف قومی کرکٹ ٹیم کے غیرملکی کوچ مکی آرتھر ہیں جو دن بدن گرتی کارکردگی اور آشکار مسائل کے باوجود قومی کرکٹرز کی صلاحیتوں پر نازاں ہیں۔ ان کی زیر نگرانی ٹیم کبھی تو آسمان پر اڑ رہی ہوتی ہے اور کبھی زمین پر لیٹ جاتی ہے۔ انہیں کوئی یہ کیوں نہیں سمجھا پارہا کہ قوم کرکٹ ٹیم کی بہترکارکردگی کاتسلسل چاہتی ہے ۔

شایدکوچ کھلاڑیوں کویہ بتانے میں ناکام رہے ہیں کہ جیت اگر نہ مل سکے تو کم از کم جیت کے لیئے لڑتے ہوئے ہی نظر آﺅ۔

کہنا یہ ہے کہ ایک اچھے کوچ اور کپتان کی خوبیوں میں سے ایک نمایاں وصف یہ ہوتاہے کہ وہ اپنے کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیئے ہمہ وقت تیار رکھتا ہے تاکہ جب وہ میدان میں اتریں تو حریف ان کو ترنوالہ سمجھنے کی غلطی نہ کرے۔

سپورٹس صرف کھیلنے کا نام نہیں،بلکہ اچھا کھیلتے ہوئے جیتنے کا نام ہے۔ میچ کے اختتام پر صرف جیت اور فاتح کا ہی بول بالا ہوتا ہے۔ مکی آرتھر اور سرفراز کچھ کریں ورنہ جیت سے دوری اور شکست سے دوستی پاکستانی قوم زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرے گی۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*