Main Menu

فیڈریشن کا خواتین ٹیم کے غیر ملکی دورے ختم کرنے پرغور

ڈیڑھ برس کے دوران ایک کروڑ روپے سے زائد اخراجات  
بااثر سیاسی خواتین پر مشتمل مگر اپنے وسائل پیدا کرنے میں ناکام

لاہور ( سپورٹس رپورٹر ) پاکستان ہاکی فیڈریشن نے قومی خواتین ٹیم کی انٹرنیشنل مقابلوں میں مسلسل مایوس کن کارکردگی کے باعث ٹیم کے غیر ملکی دورے ختم کرنے پرغور شروع کردیا جن پر ایک محتاط اندازے کے مطابق اب تک ایک کروڑ روپے سے زائد کے اخراجات آچکے ہیں۔ پی ایچ ایف نے مالی بحران کے باوجود خواتین ونگ کے اصرار پرٹیم کو بھرپور سپورٹ کرتے ہوئے گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران ایک کے بعد ایک غیر ملکی دورہ کرایا لیکن ٹیم کی کارکردگی میں کوئی بہتری نہ آئی الٹا فیڈریشن کوجنسی ہراسگی کے الزامات کے باعث جگ ہنسائی کا سامنا کرنا پڑا۔قومی خواتین ٹیم نے حالیہ ایشین گیمز کوالیفائنگ ٹورنامنٹ میں خراب ترین کارکردگی دکھاتے ہوئے سات ٹیموں کے ایونٹ میں چھٹی پوزیشن حاصل کی تھی جس کے بعد ٹیم کے ہیڈ کوچ سعید خان کے استعفے کی خبریں بھی گردش کررہی ہیں۔اطلاعات کے مطابق فیڈریشن کی جانب سے خواتین ونگ کو زیادہ سے زیادہ ڈومیسٹک ایونٹس کے انعقاد کی ہدایت کی جائے گی اور کھیل کا معیار بہتر ہونے پر ہی ٹیم کو دوبارہ انٹرنیشنل ایونٹس میں شرکت کیلئے بھیجنے کا جائزہ لیا جائے گا۔پی ایچ ایف کا ویمن ونگ ایم کیو ایم کی رہنماءخوش بخت شجاعت (چیئرپرسن) مسلم لیگ ق کی رہنماءتنزیلہ عامر چیمہ ( سیکرٹری) سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کی بااثر خواتین پر مشتمل ہے لیکن دس سال گزرنے کے باوجود اپنے وسائل پیدا کرنے میںمکمل طور پر ناکام رہا ہے جس کے باعث اسے ہربار ٹیم کے غیرملکی دورہ کیلئے فیڈریشن کی جانب دیکھنا پڑتا ہے لہذا ویمن ونگ کا اکاﺅنٹ خالی ہونے کے باعث رواں برس ٹیم کے غیر ملکی دورہ کاکوئی امکان نظر نہیں آتا۔سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی یہ بااثر خواتین ہاکی فیڈریشن کے عہدوں کو ذاتی مفاد کیلئے استعمال کرتی ہیں اور قومی کھیل کے معاملات میں کوئی دلچسپی نہیں لیتی جس کا اندازہ ان کی فیڈریشن کے دفتر میں کئی کئی ماہ کی غیر حاضری سے لگایا جاسکتا ہے تاہم ہر اہم موقع پر ذاتی تشہیر کی خاطر تمام مصروفیات ترک کرکے پہنچ جاتی ہیں۔ پی ایچ ایف ویمن ونگ کی عہدیدار گزشتہ دس برسوں کے دوران ٹیم کی خراب کارکردگی کے باوجود آئندہ انتخابات کیلئے لابنگ میں مصروف ہیں اور اس مقصد کیلئے اگلے ماہ لاہور میں ہاکی لیگ کا انعقاد کیا جارہا ہے۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*