Main Menu

زخمی شاہینوں کے دلوں تک ”آواز“ پہنچ گئی

نیوزی لینڈ میں زخمی شاہینوں کی دوسرے ٹی ٹونٹی میچ میں جارحانہ بلے بازی کے بعد شاندار فیلڈنگ اور توقعات پر پوری اترتی ہوئی گیند بازی کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوا کہ جیسے ہمارے کھلاڑیوں تک پاکستانی کرکٹ شائقین کے دلوںکی آواز پہنچنا شروع ہوگئی ہے ۔ فخر زمان اور احمد شہزاد کی ابتدائی جوڑی نے جس طرح کیویز گیند بازوں کی پٹائی کی اور سرفراز الیون کو 94 رنز کا ایک پراعتماد آغاز فراہم کیا وہ یقینا پاکستان کی جیت میں معاون ثابت ہوا ۔ ابتدائی بلے بازوں کے پویلین لوٹنے کے بعد کپتان سرفراز احمد اور بابر اعظم نے رنز کی برسات کا سلسلہ تھمنے نہیں دیا اور میدان کے چاروں جانب شاندارسٹروکس کھیل کرشائقین سے خوب دادسمیٹی اور ٹیم کی جیت میں بھی اپنا حصہ ڈالا ۔

 فخرزمان اور بابراعظم کی نصف سنچریوں اور احمد شہزاداور کپتان سرفراز کے بالترتیب 44 اور 41 رنز نے پاکستان کو سکور بورڈ پر 201 رنز کا ٹارگٹ سیٹ کرنے میں مدد کی ۔ کیویز اپنے خلاف زخمی شاہینوں کی دھواں دار بلے بازی سے بوکھلاگئے اور میدان میں آتے ہیں ایک ایک کرکے غلط شارٹس کھیل کر پویلین لوٹتے رہے ۔

مہمان ٹیم کے ایم بی وہیلر نے کچھ وقت کے لئے کیویز شائقین کی حوصلہ افزائی کی لیکن حسن علی کی تیز گیند نے 30 کے انفرادی سکور پر اس کی کلی اڑا کر شاہینوں کی میچ میںدوبارہ واپسی کرادی ۔پاکستانی باولنگ لائن نے بھی اپنے اپنے طور پر جیت کے لئے کوشش کی محمد عامر کی گیند بازی میں ایک بار پھر دم خم نظر آیا ۔ آل راونڈر فہم اشرف خوش قسمت رہے ان کے ہاتھ 3 وکٹیں لگیں ۔ نیوزی لینڈ کی پاکستان دورہ نیوزی لینڈ کے دوران اپنی پہلی فتح کا مزہ چکھ چکا ہے اب شائقین کی امیدیں پہلے سے بھی زیادہ ہوگئی ہیں اس لئے سیریز کے آخری اور فیصلہ کن میچ میں بھی شاہینوں کو ایسی کارکردگی کو دہرانا ہوگا۔

پاکستان کی دورہ نیوزی لینڈ میں پہلی کامیابی نے جہاں پاکستانی کھلاڑیوں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے وہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم عزیز سیٹھی کو بھی ٹویٹ کرنے اور لوکل میڈیا کا سامنا کرنے کا حوصلہ فراہم کردیا ہے ۔

مردانہ وار لڑنے کا فائدہ یہی ہوتا ہے کہ آپ کے حریف کے قدم جمنے نہیں پاتے ۔اوراگر آپ کو اپنے تن پر پہنی اپنے ملک کی شرٹ اور اس پر سجے ملک اور بورڈ کے لوگو کی عزت کا احساس ہو تو جیت ناچتے ہوئے آپ کا استقبال کرتی ہے ، جیسے وہ اس دوسرے ٹی ٹونٹی میچ میں ہمارے شہزادوں کا مقدر بنی۔

کہنا یہ ہے کہ کارکردگی میں تسلسل لانے کے لئے ہمارے کھلاڑیوں کو مزید پیشہ ور بننا پڑے گا۔حقیقی پروفیشنل کھلاڑی اپنی کارکردگی کا معیار گرنے اور ملک کا پرچم سرنگوں نہیں ہونے دیتا۔

گڈلک فار دی لاسٹ گیم






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*