Main Menu

مدثر نذر اور ہارون رشیدکا نیا منصوبہ

قومی کرکٹ ٹیم دورہ نیوزی لینڈ میں ون ڈے سیریز کے دوران مکمل طور پر بے بس نظر آئی ، دنیا کے نمبر ون گیند باز حسن علی کام آئے نہ ہی محمد عامر کا تجربہ گرین شرٹس کو فائدہ دے سکا۔ بلے بازی میں کوئی سینئر چلا نہ کسی جونیئر نے قابل فخرکارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ون ڈے سیریز میں کلین سویپ کی بدنامی کمانے کے بعد ہمارے شائقین کرکٹ آس لگائے بیٹھے تھے کہ ہم نیوزی لینڈ کو ٹی ٹونٹی سیریز میں کلین سویپ کا زخم لگا کر حساب برابر کر دیں گے لیکن پہلے میچ میں ناکامی سے انہیں بڑا جھٹکا لگا۔

  کپتان سرفرازاوراس کے ساتھیوں کو ٹی ٹونٹی سیریز میں بھی ایکروزہ سیریز جیسی درگت بنتی نظر آ رہی تھی لہذا مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق انہیں
خواب غفلت سے جاگنا پڑا جس کے بعد قسمت کی دیوی گرین شرٹس پر مہربان ہوگئی اور قومی ٹیم نے نہ صرف ٹی ٹونٹی سیریز میں کامیابی حاصل کی بلکہ دنیا کی نمبر ون ٹی ٹونٹی ٹیم بننے کا اعزاز بھی حاصل کرلیا۔

یہاں پی سی بی کی ناقص منصوبہ بندی قومی ٹیم کے نمبر ون بننے کے پیچھے چھپ گئی اور میڈیا کو بھی اپنے کھلاڑیوں کی ستائش کرنا پڑی۔ نیوزی لینڈ کے خلاف محدود اوورز کے آٹھ میں سے چھ میچ ہارنے کے بعد پی سی بی کو بھی احساس ہو گیا ہے کہ کچھ کیا جائے سو اس نے پلئیرز مینجمنٹ پلان ترتیب دے دیاجس کے تحت دوران سیریز سکواڈ میں شامل تمام کرکٹرز کو کھیلنے کا موقع ملے گا۔

 بورڈ مشیروں کے مطابق حالیہ پے در پے( خاص طور پر ایکروزہ مقابلوں کی) ناکامیوں کی وجہ کھلاڑیوں کی انجریز ہیں جس پر قابو پانے کے لئے اب نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی طرز پر روٹیشن پالیسی پر عمل ہوگا۔ خاص طور پر فاسٹ باﺅلرز کو پوری سیریز کی بجائے مخصوص میچز ملیں گے۔

ہارون رشید اور مدثر نذراس منصوبے کے خالق ہیں تاہم اس حکمت عملی یا منصوبے کا اعلان چیف سلیکٹر انضمام الحق اور ٹیم انتظامیہ سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

 پلان میں ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹونٹی کے فارمیٹس کے لیئے 23 کھلاڑیوں کی فہرست تیار کی گئی ہے۔ ان کھلاڑیوں کو مخصوص لیگز میں جانے کی اجازت دی جائے گی اور ٹیم میں شامل کھلاڑی سال میں دو سے زائد لیگز نہیں کھیل سکیں گے جبکہ بنگلہ دیش اور ہانگ کانگ طرز کی لیگز میں اہم کھلاڑی نہیں بھیجے جائیں گے۔

دیکھنا یہ ہے کہ اس پلان پر عمل کرتے ہوئے انتظامیہ، قومی ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل لاپاتی ہے یا نہیں ۔بہتر ہوتا اگر قومی ٹیم کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے پلیئرز مینجمنٹ پلان کے ساتھ ساتھ کرکٹ بورڈ میں اونچے عہدوں پر بیٹھے سفارشیوں کی کارکردگی کو مانیٹر کرنے کا پلان بھی مرتب کیا جاتا تاکہ کرکٹ بورڈ سے وابستہ فوج ظفر موج کی موجیں ختم اور ملک میں کرکٹ کی بقاءممکن رہ سکے ۔

کہنا یہ ہے کہ باہر کے گرم و سرد موسم سے بے نیازجدید دفاتر میں نرم وگداز گھومنے والی کرسیوں پر بیٹھے ہمارے پی سی بی کے بابو ﺅں کی کارکردگی کو پرکھنے کی ذمہ داری کسی نہ کسی کو تو اٹھانا پڑے گی۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی سر پھرا ان کے کارناموں کا پلندہ لے کر عدالت ِ عظمیٰ پہنچ جائے یا پھرایک دن چیف جسٹس آ ف پاکستان سپریم کورٹ کو اس حوالے سے بھی کوئی از خود نوٹس لینا پڑ جائے۔

haroonNmadassar






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*

Warning: Use of undefined constant WP_PB_URL_AUTHOR - assumed 'WP_PB_URL_AUTHOR' (this will throw an Error in a future version of PHP) in /customers/b/5/3/jeetpakistan.com/httpd.www/wp-content/plugins/adsense-box/includes/widget.php on line 164 Warning: Use of undefined constant WP_PB_URL_AUTHOR - assumed 'WP_PB_URL_AUTHOR' (this will throw an Error in a future version of PHP) in /customers/b/5/3/jeetpakistan.com/httpd.www/wp-content/plugins/adsense-box/includes/widget.php on line 164 Warning: Use of undefined constant WP_PB_URL_AUTHOR - assumed 'WP_PB_URL_AUTHOR' (this will throw an Error in a future version of PHP) in /customers/b/5/3/jeetpakistan.com/httpd.www/wp-content/plugins/adsense-box/includes/widget.php on line 164