Main Menu

پاکستان میں ڈریگن بوٹنگ متعارف کروانا چاہتا ہوں ۔نواز خان

مایوسی سب سے بڑا گناہ اور مثبت سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے والا سب سے بڑا بدقسمت ہے ۔ ہرفن مولا کھلاڑی نواز خان سے جیت پاکستان کے ایڈیٹر اشفاق مغل کی خصوصی بات چیت۔

جیت پاکستان کے ذریعے آج ہم ایک ایسے پاکستانی کھلاڑی کو متعارف کروانے جارہے ہیں جو ہرفن مولا ہے ۔ وہ جس کھیل میں دلچسپی لیتا ہے کامیابی اس کے قدم چومنے پہنچ جاتی ہے ۔ مایوسی اس کے نزدیک سب سے بڑا گناہ اور سہولیات ہونے کے باوجود مثبت سرگرمیوں میں شرکت نہ کرنے والا سب سے بڑا بدقسمت ہے ۔ قومی کھیل ہاکی کا میدان ہویا یورپ اور متحدہ عرب امارات کے مقبول ترین کھیل فٹ بال کا گراونڈ یہ کھلاڑی اپنی مثال آپ ہے ۔ اتھلیٹکس اور ڈریگن بوٹ ریس میں بھی یہ کھلاڑی عظم و ہمت کی ایک مثال ہے ۔ دنیا بھر کے کھیل مقابلوں میں شرکت کرنا اور اپنی صلاحیتوں کالوہامنوانا اس کے مرغوب مشاغل میں سے ایک ہے ۔ پاکستان میں نئے کھیل متعارف کروانا اور فٹ بال کا فروغ اس کھلاڑی کی ترجیحات میں شامل ہے ۔ میری مراد واہ کینٹ کے گاوں پنڈگدوال سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ نواز خان جو گزشتہ 7 سال سے یواے ای میں قیام پذیرہیں اور 12 گھنٹے ڈیوٹی کے باوجود مختلف کھیل مقابلوں میں میڈلز اور کامیابیاں سمیٹتے نظر آتے ہیں ۔

جیت پاکستان کے ایڈیٹر اشفاق مغل سے شارجہ کے المجاز ٹاور میں قیام پذیر اس باہمت کھلاڑی سے ہونے والی ملاقات کا احوال ہمارے قارئین کی نذرہے ۔

کس عمر میں کھیلنا شروع کیااور کس نے آپ کو کھیل کی طرف مائل کیا؟
ایف جی ماڈل ہائی سکول نمبر 11 واہ کینٹ سے سپورٹس کا سفر شروع کیا اور آج تک چل رہا ہے ۔ والد صاحب شاہدعلی خان والی بال کے کھلاڑی تھے اور والدہ نے بھی کبھی کھیلنے سے منع نہیں کیاتاہم مجھے کھیل کی طرف مائل کرنے والے میرے چچا محمد فیاض ہیں جو کراٹے میں بلیک بیلٹ ہیں اور واہ کینٹ میں 2 کراٹے کلبوں کے ذریعے نوجوان نسل کو صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ میرے روم میٹ اورنگزیب محمد اکثر ، راشد محمود ، فخر عباس ، عبید الرحمن ، وقار عباس ، عمران علوی اور شبیر گجر دوستوں میں سے نوید گل ، مبشر حفیظ  اور فیملی میں سے حاجی ذوالفقار ، شیر بہادرخان اور حافظ محمد رضوان نے ہروقت سپورٹ کیا اور میری حوصلہ افزائی کی ۔

پاکستان اور یواے ای میں مقامی سطح کی ہاکی میں آپ کی پہچان بن چکی ہے یہ سفر کب سے شروع ہوا؟
سکول دور سے ہاکی شروع کی اور نیشنل لیول تک ہاکی کھیلنے کے بعد روزگار کی تلاش میں متحدہ عرب امارات آنا پڑا ۔ بہتر مستقبل کی تلاش میں جب پیارا وطن چھوڑاتو اداسی تھی کہ دیس کے ساتھ ساتھ کھیل کے میدان سے بھی رشتہ ٹوٹ جائے گا لیکن جس کمپنی میں ملازمت ملی وہاں ایک ایسی شخصیت سے ملاقات ہوگئی جنھوں نے نہ صرف ملازمت کے دوران کھیل کا شوق پورا کرنے کا موقع فراہم کیا بلکہ ایک سال کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے کلب کی کپتان کی ذمہ داری بھی سونپ دی ۔ یہ کھیل دوست شخصیت EGA کمپنی ہاکی کلب کے جنرل سیکرٹری علی امام ہیں ۔ان کے علاوہ ای جی اے ہاکی کلب کے سابق کپتان اور موجودہ کوچ ہارون رشید نے بھی بہت حوصلہ بڑھایا۔ کلب کے نائب کپتان محمد شبیر گجر ، فلپائنی دوست Ghuzman، انڈین دوست فرانسسزاورپاکستانی دوستوں یاسربٹ اور اسد نے ہروقت میرا ساتھ دیا۔ سکول دور کے کوچ عامر صاحب نے ہاکی کھیلنا سیکھایا اور پاکستان میں سب سے زیادہ ہاکی میچز کھیلنے والے محمد وسیم، سلمان ، نعیم اور ناتق عباسی جیسے ساتھی کھلاڑی میسر آئے ۔
اتھلیٹکس کے مقابلوں میں بھی شرکت کرتے رہے ہیں کوئی کامیابی حاصل ہوئی ؟
رننگ پاکستان میں کالج لیول سے شروع کی لیکن کوئی خاطر خواہ فتوحات ہاتھ نہیں لگیں تاہم یواے ای میں اس کھیل میں فتوحات کا سلسلہ جاری ہے ۔
سائیکلنگ کب شروع کی اورا س میں نمایاں کامیابیاں کیا رہیں ؟
یہ کھیل یواے ای میں آکر شروع کیا اور اسکے چند ایک مقابلوں میں شرکت کی اور انعامات حاصل کررکھے ہیں۔
فٹ بال سے بھی لگاورکھتے ہیں اس کھیل کے فروغ کے لئے کیا کررہے ہیں ؟
پاکستان میں فرینڈز کلب واہ کینٹ سے فٹ بال کھیلنا شروع کیا اور آج کل یواے ای میں 4 سٹارز فٹ بال کلب کوآرگنائز کررہا ہوں اور 7-A سائیڈ فٹ بال میں کپتانی بھی کررہا ہوں ۔
ڈریگن بوٹ میں دلچسپی کیسے ہوئی اور اس میں کون سے کامیابیاں سمیٹ رکھی ہیں ؟
ڈریگن بوٹ میں میرے فلپائنی دوست اینتھونی نے مجھے متعارف کروایا اور میری پہلی ڈریگن ٹیم دبئی سی ڈریگن تھی جس میں میرے علاوہ تمام کھلاڑی گورے تھے اور میں پہلا پاکستانی تھا جو اس ٹیم میں منتخب ہوا۔ اس ٹیم کے ساتھ 6 ماہ گزارنے کے بعد میں نے باکوناواسی سرپینٹ (Bakunawa See Serpent)ڈریگن کلب جوائن کرلیا2017 سے کراس فٹ ٹرینگ کلب تماراﺅسے تربیت حاصل کر رہے ہیں ۔
دیارغیر میں 12 ،12گھنٹے کام کرنے کے باوجود مشکل اور نئے نئے کھیلوں کے لئے وقت کیسے نکالتے ہیں ؟
کمپنی کا ماحول کھیل دوست ہے اور آفیسرز بھی کھیل اور کھلاڑی کو سپورٹ کرتے ہیں اس لئے ہمت اور حوصلہ ملتا رہتا ہے ۔ کمپنی میں کام کرنے والوں کے لئے ہاکی ، کرکٹ ، فٹ بال ، گالف، بیڈمنٹن ، باکسنگ ، شطرنج ، جم ، سوئمنگ پول اور سنوکر سمیت دیگر کھیلوں کی سہولت موجود ہے ۔
ان تمام کھیلوں میں آپ کی اچیومنٹس کیا رہی ہیں ؟
٭….رواں سال کا پہلا مقابلہ اوبسٹیکل (18 روکاوٹوں والی )ریس رہا جس میں پہلی مرتبہ شرکت کی اور 35:10 منٹ میں ریس مکمل کی
٭….چائنہ میں 2017 میں ڈریگن بوٹ کے انٹرنیشنل مقابلوں میں 200 میٹر اور 500 میٹر ریس میں گولڈ میڈل حاصل کیا ۔
٭….متحدہ عرب امارات ڈریگن بوٹ ریسنگ فیڈریشن کے زیراہتمام دبئی کے ریجنل مقابلوں میں 2015-16 میں 500 میٹر ریس میں پہلی جبکہ 200 اور 5000 میٹر ریس میں دوسری پوزیشن حاصل کی
٭….سٹینڈرڈ چارٹر بینک کی 2016 میں ہونے والی 10 کلومیٹر طویل میراتھن ریس کو 55 منٹ میں مکمل کرنے پر ایوارڈ حاصل کیا ۔
٭….یواے ای میں کارپوریٹ سائیکلنگ ٹرائی ایتھلین ریس 2015 میں کھیلی جس میں سائیکلنگ کے ساتھ ساتھ رننگ اور سوئمنگ بھی کرنا تھی میں دوسری پوزیشن حاصل کی
٭….جبل علی میں 28 ٹیموں کے فٹ بال ایونٹ میں تیسری پوزیشن حاصل کی ۔
٭….واہ کینٹ ہاکی کلب کی جانب سے آل پاکستان ہاکی ٹورنامنٹ کا فائنل کھیلا،
٭….پانچ سال سے ای جی اے ہاکی کلب کا کپتان ہوں اوراپنے پانچ سالوں میں 4مرتبہ اپنے کلب کو چمپئن بنوایا جبکہ ایک مرتبہ رنر اپ رہاہوں،
٭….پانچ سالوں کے دوران رائٹ آوٹ فاروڈ کھیلتے ہوئے 2 مرتبہ بہترین گول سکورر اور ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا
٭….پاکستان پائندہ آباد کمیونٹی کا ایکٹو ممبر ہونے کے ناطے یوم پاکستان 23 مارچ اور یوم آزادی 14 اگست کو شایان شان طریقے سے منانے کے لئے مختلف تقریبات کا انعقاد بھی اعزاز کی بات ہے جس سے پاکستانی کمیونٹی کو وطن سے دور ہونے کے باوجود وطن جیسا ماحول میسر آتا ہے
٭…. عالمی ستطح کے ڈریگن بوٹ ریس کے لئے 3مئی 2018 کو جورجیہ جارہے ہیں
٭….دبئی میں ہونے والی42کلومیٹرمیراتھان ریس کی تیاری بھی ساتھ ساتھ جاری ہے
کھیل کے علاوہ کس چیز میں دلچسپی رکھتے ہیں ؟
سپورٹس کے علاوہ 2006تک شاعری بھی کی ادبی سلسلہ ابھی تک چل رہا ہے ۔ کتابیں پڑھنا اور تاریخ کا مطالعہ کرنا بھی میرا شوق ہے ۔ 12 گھنٹے ڈیوٹی کے باوجود کھیل کے لئے وقت نکال لیتا ہوں۔
پاکستان کا کوئی یادگار واقعہ جو آپ کو آج بھی یاد ہو؟
چھٹی کلاس میں تھا والد صاحب والی بال کے لئے ساتھ لے گئے مخالف ٹیم کے کھلاڑی نے زوردار سمیش لگائی جو میرے منہ پر لگی اور میری گردن مڑگئی ۔ چار روز تک میرے والد صاحب مجھے دیکھتے رہے جس کے بعد وہ بولے کہ ”زندگی کی مصیبتوں اور پریشانیوں کے سامنے کبھی ہارمت ماننا بلکہ مشکل حالات کا ڈٹ کا مقابلہ کرنا سیکھویہ تمہیں کامیابی کی طرف لے کر جائیں گے“۔ میرے والد کے یہ الفاظ مجھے آج بھی یاد ہیں اور اس دن کے بعد جیت ہویا ہار میں نے کبھی صبر کا دامن نہیں چھوڑا ۔
متحدہ عرب امارات کا کوئی یادگار واقعہ جو آپ کے لئے ناقابل ذکررہاہو؟
سدبئی میں 7-A سائیڈ ٹورنامنٹ میں 2لڑکے زخمی ہوگئے جس کی وجہ سے ہمیں مخالف ٹیم کے ساتھ 5 کھلاڑیوں سے ہی مقابلہ کرنا پڑا ۔ یہ میچ اس وجہ سے یادگار میچ ہے کہ پانچ کھلاڑیوں نے نہ صرف 7 کھلاڑیوں کامقابلہ کیا بلکہ یہ میچ سنسنی خیز مقابلے کے بعد 3-2 سے اپنے نام بھی کیا۔
آپ کی لائف کا گولڈن ڈریم کیا ہے ؟
پاکستان میں ڈریگن بوٹ کو متعارف کروادیاہے اب والد کے نام پر فٹ بال کلب بنا کر کھلاڑیوں کو سپورٹ کرنا چاہتا ہوں ۔
جیت پاکستان کے پلیٹ فارم سے کسی کے لئے کوئی پیغام دینا چاہیں گے ؟
پیغام یہ ہے کہ جتنا ہوسکے مثبت سرگرمیوں میں حصہ لینا چاہئے ۔ بدقسمتی سے بہت کم لوگ ایکٹو لائف سٹائل گزاررہے ہیں ۔ ہر کسی کو زندگی میں کم از کم کسی ایک سپورٹس سے ضرور منسلک ہونا چاہئے ۔

 

 






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*

Warning: Use of undefined constant WP_PB_URL_AUTHOR - assumed 'WP_PB_URL_AUTHOR' (this will throw an Error in a future version of PHP) in /customers/b/5/3/jeetpakistan.com/httpd.www/wp-content/plugins/adsense-box/includes/widget.php on line 164 Warning: Use of undefined constant WP_PB_URL_AUTHOR - assumed 'WP_PB_URL_AUTHOR' (this will throw an Error in a future version of PHP) in /customers/b/5/3/jeetpakistan.com/httpd.www/wp-content/plugins/adsense-box/includes/widget.php on line 164 Warning: Use of undefined constant WP_PB_URL_AUTHOR - assumed 'WP_PB_URL_AUTHOR' (this will throw an Error in a future version of PHP) in /customers/b/5/3/jeetpakistan.com/httpd.www/wp-content/plugins/adsense-box/includes/widget.php on line 164