Main Menu

امارات میں پی ایس ایل کا ہنگامہ اور” رنگ باز“ کی تیزیاں

پی ایس ایل کا ہنگامہ متحدہ امارات سے شروع ہو کر شہرِ قائداعظم میں تمام ہوا۔جیت پاکستان کے ایڈیٹر اشفاق مغل نے پی ایس ایل کی کوریج کے سلسلے میں متحدہ امارات کا ہنگامی سفر کیااو ر وہاں اپنے قیام کے دوران انہیں صحافتی ذمہ داریاں نبھانے کے علاوہ جس قسم کے خوشگوار اور حیران کن حالات وواقعات کا سامنا کرنا پڑا ، ان کی روداد  پیش ِ خدمت ہے۔

قلیل وقت میں مجھے اپنے معاملات کو سمیٹ کر پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل )کے تیسرے ایڈیشن کی کوریج کے لئے دبئی نکلنا تھا ۔ بیگم کو فون کرکے رخت سفر باندھنے کو بولااور قریبی دوست علیم الحق، جسے سب دوست پیار سے چاند پکارتے ہیں، کو ایئرپورٹ چھوڑنے کو کہا ۔ مانگا منڈی پٹرولنگ چوکی میں چاند کے ذمہ اہم ذمہ داری ہونے کے باوجود اس نے مجھے وقت پر ایئرپورٹ پہنچانے کی حامی بھرلی لیکن جب وہ مجھے گھر سے لینے آیا تو میری حیرت گم ہوگئی کیونکہ وہ اپنے ساتھ ہمارے مشترکہ دوست چوہدری ثاقب عطاجٹ صاحب(اپنی اس تحریر میں مجھے ثاقب کو زیادہ عزت اس لئے دینا پڑرہی ہے کیونکہ ثاقب ایک ایجوکیٹر جٹ ہے )کو نہ صرف ٹھنڈی جگتیں لگانے کے لئے ساتھ لایا بلکہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھاکر مجھے امتحان میں ڈال دیا ۔ویسے تو ثاقب کوگاڑی چلانا سیکھے دوسال ہونے کو ہیں لیکن آج بھی ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی اناڑی ڈرائیور پہلی مرتبہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ہو۔ خیر میں نے دل کو تسلی کی دی ۔ سفر کی دعا پڑھی اور جٹ صاحب کو پوری گاڑی سمیت اللہ کے سپرد کردیا۔ راستے سے انصر علی کو بھی ساتھ لیا۔ سندر مل روڈ اور شریف سٹی سے ہوتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی جانب سے ایک ڈیڑھ ماہ قبل افتتاح کیئے گئے شاندار منصوبے رنگ روڈ پر سفرکرتے ہوئے چند منٹوں میں لاہور ایئرپورٹ پہنچ گئے ۔

ایئرپورٹ پہنچنے سے قبل ہی دوستوں نے ایک اور مشترکہ دوست عظیم (جسے حکام بالا کی جانب سے وی آئی پی کلچر کو نہ ماننے کی پاداش میں علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور سے کراچی ایئرپورٹ تبدیل کردیا گیا) کو مطلع کردیا جس کی غیر موجودگی میں اس کے ایک دوست نے ایئرپورٹ کے اندر بورڈنگ ڈیسک تک میری راہنمائی کی ۔

میرے ایک پیارے دوست جسے میں پیار سے ”رنگ باز“کہتا ہوں کو ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد مطلع کیا کہ میں دبئی آرہا ہوں ۔ میرے دوست رنگ باز نے مجھے جس اندازمیں جواب دیا وہ میری توقعات کے برعکس تھا لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اور متبادل پروگرام تشکیل دیا ۔ قائد فٹ بال کلب کے روح رواں اور میرے فٹ بال کوچ چوہدری بدر لطیف گجر کے داماد اور میرے بڑے بھائی کے دوست اور ہم جماعت چوہدری شبیر گجر جو کہ شارجہ کے پوش علاقے المجاز میں واقع المجازسینٹر میں اپنے دوستوں کے ساتھ رہائش پذیرہیں کو اپنے دبئی پہنچنے کی اطلاع دی جو مجھے پہلے ہی میزبانی کی یقین دہانی کرواچکے تھے،انہوں نے ایک بار پھر مجھے خوش آمدید کہا ۔ میرے ایک عزیز اختر بھائی بھی مجھے اپنے پاس قیام و طعام کی سہولت فراہم کرنے پر بضد تھے لیکن میں نے یہ فیصلہ دبئی پہنچنے کے بعد کرنے کو ترجیح دی اور انتظارگاہ میں جابیٹھا۔

انتظار گاہ میں مجھے تقریبا 3 گھنٹے گزارنا تھے ۔ میرے پاس بیٹھے مسافر ابوظہبی جانے کے لئے اپنی فلائٹ کا انتظار کررہے تھے ان سے گپ شپ ہوئی تو پتہ چلا کہ وہ پیشہ کے اعتبار سے ایک حجام ہے اور اس کے 9بھائی اور والد متحدہ عرب امارات میں لوگوں کی حجامت بناتے رہے ہیں لیکن اب یواے ای میں نیا ٹیکس لگنے سے ان کا کام ٹھپ ہوگیا اور ان کے بھائی اور والد سب اپنی اپنی دکانیں فروخت کرکے وطن واپس آچکے ہیں لیکن وہ اپنی قسمت کو مزید ایک سال اور آزمانہ چاہتاتھا۔ قسمت اور کاروبار چمکا تو ٹھیک ورنہ وہ بھی اپناسلون بیچ کر ہمیشہ کے لئے پاکستان آجائے گا۔

حجام مسافر کے جانے کے بعد میں ادھر ادھر اپنی مصروفیت کا سامان تلاش کرنے لگا کہ اچانک نظر پاکستا ن ویمن ٹیم پر پڑی جو اس روز سری لنکا کے لئے روانہ ہورہی تھی ۔قومی ویمن کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان ثناءمیر اور موجودہ کپتان بسمعہ معروف سے دورہ سری لنکا کی تیاری اور نئے کوچنگ سٹاف کے بارے تفصیلی گفتگو ہوئی ۔

ایئربلیو کی فلائٹ پی کے 411کی ٹرمینل پر لگ چکی تھی میں نے اللہ کا نام لیا اور جہاز میں سوار ہوگیا۔ جہاز کے کپتان نے مقرروقت پر اڑان بھری اور کمال مہارت سے تمام مسافروں کو منزل مقصود تک پہنچایا ۔ جہاز میں بیٹھنے سے پہلے ڈاکٹر ارشاد میڈیکل سٹورسے ملنے والی ایک خوراک کھاچکا تھا جس کے باعث نیند کے ہچکولوں میں کب دبئی آگیا پتہ بھی نہیں چلا ۔

دبئی ایئرپورٹ پر اترنے کے بعد بھی نیند کا غلبہ رہا۔ مسلسل پیدل مارچ کے بعد ٹرین میں کھڑے ہوکر ایئرپورٹ کے خارجی دروازے تک پہنچا جہاں پہلے سے 2جہازوں کے مسافر لائن میں لگے ہوئے تھے ۔ ڈیوٹی پر معمور عربی آپریٹر زبجائے کام کے زورزور سے قہقے لگارہے تھے ۔ ان کی حرکات اور آنکھوں سے لائن میں لگی خواتین مسافروں کی سکریننگ سے ان کی بے حیائی عیاں تھی ۔ لمبے انتظار کے بعد باری آئی اور آپریٹرزکی شفٹ تبدیل ہوگئی سب نے اپنی اپنی مہریں اٹھائیں اور اپنی کرسیوں سے اٹھ کھڑے ہوئے ان کے متبادل آپریٹرز نے چارج سنبھالا ۔ میرے سامنے سیٹ میں ایک خاتون آکر بیٹھی پہلے اپنا میک اپ سیٹ کیا اور بعد میں کمپیوٹر لاگ آن کرکے میری انٹری ڈالی ۔

بے بسی کے عالم میں ایئرپورٹ کی لابی میں پہنچا تو وہاں رنگ باز کھڑا میرا انتظار کررہا تھا ۔ اس نے بتایا کہ وہ رات سے گھر نہیں گیا بلکہ سٹیڈیم سے سیدھا ایئرپورٹ آگیا تھا اورانتظار گاہ میں پڑی کرسیوںپر ہی چند گھنٹے کے لئے نیندپوری کی ۔ رنگ باز سے ملاقات کے بعد شبیر بھائی کو فون کیا جنھوں نے ہمیں ایئرپورٹ سے لینے کے لئے گاڑی پارکنگ میں لگائی ۔ مشین نے 20 درہم کاٹنے کی بجائے 100کا نوٹ ہی قبضہ میں لیناچاہا مگر ہم بھی پاکستانی تھے اپنے پیسے واپس لئے بغیر وہاں سے نہیں نکلے۔

اپارٹمنٹ پہنچے تو شبیر بھائی کے چند دوست ناشتہ کرنے آچکے تھے جن کے لئے شبیر بھائی نے آلووالے پراٹھے بنانا تھے ۔ میں نے کوشش کی کہ شبیر بھائی کی پراٹھے بنانے میں مدد کروں مگر انہوں نے مجھے منع کیااور خود ہی ایک درجن کے قریب مزیدار گرماگرم آلووالے پراٹھے تیار کیئے اور سب دوستوں سے خوب داد سمیٹی ۔دیسی ناشتے کے بعد نماز جمعہ کے لئے صرف اتنا وقت بچاتھا کہ مشکل سے غسل ہی ہوسکا ۔ شبیر بھائی اور ان کے دوست نواز خان کے ساتھ میں اور میرا دوست رنگ باز نمازجمعہ کے لئے قریبی مسجد گئے وہاں بھی عربی رہائشیوں کی اجارہ داری نظر آئی ۔ نمازجمعہ کی ادائیگی کے بعد بھی سونے کا وقت نہیں تھا کیونکہ مجھے دبئی سٹیڈیم پہنچ کر پی سی بی کے سینئر میڈیا منیجر رضا بھائی سے اپنا ایکریڈیشن کارڈ وصول کرنا تھا ۔

رنگ باز نے اردوپوائنٹ کے دبئی میں رپورٹر اعجاز گوندل کو فون کرکے ہمیں سٹیڈیم ساتھ لے جانے کی درخواست کی جسے اس نے قبول کیا اورہمیں لینے المجاز سینٹر کے باہر پہنچ گیا ۔ چند منٹ کی ڈرائیو کے بعد اعجاز گوندل نے گاڑی دبئی سٹیڈیم کے میڈیا سینٹر کی پارکنگ میں لگادی جہاں سے شٹل سروس کے ذریعے ہم سٹیڈیم کے مرکزی دروازے سے گزر کر میڈیا گیلری کے لیئے مخصوص گیٹ کے باہر پہنچ گئے ۔ رنگ باز سٹیڈیم کے اندر رضا بھائی سے میرا کارڈ لینے چلا گیا جبکہ مجھے سیکورٹی گارڈز نے وہیں انتظار کرنے کو کہا ۔ تھوڑی دیر بعد ہی رنگ باز اپنا کھلا ہوا چہرہ لے کر میرے پاس آیا اور مجھے رضا بھائی سے ملنے کو بولا ۔ میں خود بھی رضا راشد جو کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سینئر میڈیا منیجر ہیں کو ملنا چاہتا تھا کیونکہ دبئی روانگی سے قبل میری ان کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی تھی اور اس کی وجہ میرے ایڈیٹر مزمل سہروردی صاحب تھے ۔ خیر رضا بھائی سے ملاقات ہوئی انہوںنے مجھے خوش آمدید کہا اور اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر مجھے میچز کے کچھ پاس دیئے میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی وہ پاس اپنے پاس رکھ لئے بعد میں جب مجھے پاسسز کی ضرورت پڑی تو رضا بھائی پہاڑ پر چڑھ گئے ۔ گیارہ دن کے ٹور میں دوسے تین مرتبہ پاسسز ملے جبکہ وہاں حلقہ احباب کافی بڑھ چکا تھا جو روزانہ پاسسز کی امیدرکھتا تھا۔

خیر سٹیڈیم میں میچز کی کوریج کی کراچی سے آئے جرنلسٹوں سے اپنی خبریں شیئرکیں ، کرکٹ اور کام کو انجوائے کیا اور اپنے دوستوں ، سینئر سپورٹس رپورٹروں اور فیملی ممبرزکو بہت مس کیا۔ جس دن میچز کی چھٹی ہوتی تھی اس روز کھلاڑیوں کے ہوٹلز پہنچ جاتے تھے اور وہاں پر کھلاڑیوں اور آرگنائزروں کے انٹرویوز کے ساتھ ساتھ رنگ باز کے رنگ بھی دیکھنے کو ملتے رہے ۔ رنگ باز کی بڑی خواہش تھی کہ وہ مجھے دبئی کے ساحلوں کی سیرکروائے ، سمندر میں غوطے دے ، کشتی رانی کروائے اور دبئی کے مساج سینٹروں سے مساج دلوائے لیکن میں ایسا کچھ بھی نہیں کرنا چاہتا تھا میں نے سوچا کہ اس کے پیسے ضائع کرنے کی بجائے کسی کام میں لاوں ۔۔۔۔رنگ باز کے اصرار پر عجمان کے ساحل اور برج العرب پر تصویر کشی کی اور اس کے درھموں سے دبئی ، شارجہ اور عجمان کے شاپنگ سینٹروں سے شاپنگ کی ۔ ان شاپنگ سینٹروں میں شاپنگ کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہاں ہر شاپنگ مال کا اپنا ریٹ ہے اور اپنی کوالٹی ہے ۔ سستے شاپنگ مال کے چکر میں میرے جیسے کم خرچ لوگ اپنے بجٹ سے بہت زیادہ خرچ کر بیٹھتے ہیں ۔

چائنہ مال دبئی میں بہت مشہور مال ہے جہاں سے دنیا کی ہر چیز ملنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے ۔ رنگ باز کو چائنہ مال سے ایک مائیک خریدنا تھا جسے ہم اپنے موبائل فون سے لگا کر کوئی بھی انٹریوریکارڈ کرسکتے اور پھر اپنے موبائل سے ہی وہ انٹرویواپنے ادارے کو بھیج دیتے ۔ مائیک کی تلاش میں رنگ باز ، عمران علوی صاحب ، شبیر بھائی اور راقم نے چائنہ مال کے سامنے تقریبا 2 گھنٹے گاڑی گھمائی کیونکہ عمران علوی صاحب کے ایک غلط کٹ نے ٹریفک سے بھرے روڈ پر 2 گھنٹے خوار ہونے پر مجبور کیا ۔ شبیر بھائی نے اگلی صبح 4 بجے ڈیوٹی پر جانا تھا جبکہ اس وقت رات کے 11 بج چکے تھے اور ہم چائنہ ڈریگن مارٹ کے اندر بھی داخل نہیں ہوئے تھے ۔ رنگ باز کی ضد تھی کہ ڈریگن مارٹ ضروری جانا ہے چاہئے 5 منٹ کے لئے ہی کیوں نہیں۔ چائنہ مارٹ پارکنگ کی تلاش میں عمران علوی صاحب نے مجھے اور رنگ باز کو مال کے سامنے اتارا۔رنگ باز ان کا انتظار کیئے بغیر ہی اندر چلا گیا میںبھی اس کے ساتھ ہولیا۔ میرے ساتھ باتیں کرتا کرتا رنگ باز اچانک غائب ہوگیا اور میں مائیک تلاش کرنے کی بجائے رنگ باز کو ڈھونڈنے لگ گیا ۔ اڑھائی کلومیٹر طویل ڈریگن مارٹ کاکونہ کونہ تلاش کیا لیکن رنگ باز کہیں نہ ملا ۔ سکیورٹی گارڈ سے موبائل فون لے کر رنگ باز کو فون کیا تو اس نے بتایا کہ اسے سامنے بیت الخلا نظر آیا تو وہ اس میں گھس گیا اس نے سمجھا کہ میں اسے دیکھ رہا ہوں باہر کھڑ اہوکر اس کا انتظار کروں گا۔ چائنہ ڈریگن مارٹ کی سیر بھی سفردبئی کی یادگار وں میں شامل ہوگئی۔ چائنہ ڈریگن مارٹ سے واپسی پر شبیر بھائی نے عمران علوی کی فرمائش پر جولاہوری چکن کڑاہی اور دال ماش کھلائی اس کا پورے دبئی میں کوئی جواب نہیں تھا ۔ شبیر بھائی نے پوچھا کہ روٹیاں کتنی آرڈر کریں تو میں نے کہا کہ میں آدھی روٹی کھاوں گا ۔ عمران علوی صاحب ڈرائیونگ کرتے ہوئے مجھے دیکھا اور بولے آدھی روٹی سے زیادہ نہیں کھانے دوں گا۔ جب ہم ہوٹل پہنچے تو سب کچھ تیار تھا ۔ گرما گرم مرغ کڑاہی جب سامنے آئی تو اس کی خوشبواور لذت نے ہاتھوں کو روکنے نہ دیا ۔ عمران علوی صاحب نے مسکراتے ہوئے دوبارہ یاد کروایا کہ آدھی روٹی کھانے والے اب تو سانس بھی نہیں لے رہے ۔

المجاز سینٹر جہاں ہم یعنی میں اور رنگ باز قیام پذیر تھے میں سب دوستوں سے بہت محبتیں سمیٹیں ۔ نواز خان کا پاکستان میں ڈریگن بوٹنگ متعارف کروانے کے حوالے سے انٹریو کیا اور اسے جیت پاکستان اور روزنامہ ترجمان میں شائع کیا ۔شبیر بھائی تو ہمارے اصل میزبان تھے انہوں نے تو ہمارے لیئے اپنی چھٹیاں ، پیسہ ، نیند اور آرام سب کچھ گنوایا ان کے علاوہ ان کے دوستوں جن میں عمران علوی ، نواز خان ، فخر شاہ ، راشد خان سمیت دیگر نے بھی ہماری خاطر داری میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ شارجہ کی انڈسٹریل اسٹیٹ میں قیام پذیر مانگا منڈی سے تعلق رکھنے والے نعیم شاہ نے بھی اپنے وقت ، ملازمت اور پیسے کو ہمارے حوالے کیئے رکھا ۔ ان کی پلائی ہوئی زعفرانی چائے کا مزہ آج بھی محسوس ہوتا ہے ۔ ان سب دوستوں کے علاوہ بھائی اختراور شازم کی جانب سے کے ایف سی کا فرائی چکن ، گھر کی بریانی ، تکے ، کباب اور عجمان سے چپل کباب ، دال اور سبزی کا مزہ بھی لاجواب تھا۔ شبیر بھائی نے اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی مٹن کڑاہی ، آلو گوبھی سمیت دیگر لذیز کھانے کھلاکھلاکر رنگ باز کو ڈائٹنگ چھوڑنے پر مجبور کردیا۔

واپسی سے ایک روز قبل مجھے اپنے عزیزوں کے گھر جانا تھا جہاں میرا شدت سے انتظام کیا جارہا تھا لیکن میں مصروفیت کے باعث وقت نہیں نکال پارہا تھا ۔ بالآخر میں رنگ باز سے جان چھڑا کر اپنے عزیزوں کو ملنے کے لئے سٹیڈیم سے نکلا تو اختر بھائی اور شازم مجھے لینے کے لیئے سٹیڈیم کے باہر کھڑے تھے ۔ میں نے خالی ہاتھ جانا مناسب نہ سمجھا اس لئے اختر بھائی سے درخواست کی کہ گاڑی کسی مٹھائی کی دکان پر کھڑی کریں تاکہ بچوں کے لئے کچھ خرید لیں ۔ انہوں نے بتایا کہ مٹھائی کی دکانیں بہت کم ہیں اور مٹھائی لینے کے لئے انہیں کافی سفر طے کرنا پڑے گاتاہم چاکلیٹ اور کیک مل سکتا ہے ۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے وہ ہی لے لیتے ہیں ۔ بچوں کے لئے خریدا گیا 60درہم کا کیک متحدہ عرب امارات میں میری جیب سے ہونے والا پہلا خرچہ تھا ۔ کیک 100درہم کا تھا لیکن میرے عزیز شازم کی وجہ سے مجھے 60 درہم میں ملا ۔ گھر پہنچے تو دعوت کا اہتمام کیا گیا تھا ۔ سٹیڈیم سے پیٹ بھر کر کھانا کھایا ہواتھا لیکن پھر بھی وہاں جاکر اتنے اہتمام کو دیکھتے ہوئے رہا نہ گیا اور خوب سیر ہوکر کھایا۔ کھانے کے بعد چائے پیتے ہوئے ایک انکل سے ملاقات ہوئی جو 25 سال وہاں کی فوج میں رہے اور آج کل کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں اکاونٹس کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں ۔ باتوں باتوں میں میرے منہ سے نکل گیا کہ اب کس نے دوبارہ آنا ہے کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ میں کیسے حالات میں سفر کے لئے تیار ہوا اور اس کے لئے مجھے کیا کیا جتن کرنا پڑے لیکن جب ان انکل نے یہ بات سنی تو مجھے کہنے لگے کہ بیٹا ایسی بات نہیں بولنی چاہئے ۔ مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ مجھے کچھ اور کہنا چاہئے تھا ۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ اور بولتا وہ انکل بولے کہ بیٹا جہاں جہاں قسمت میں لکھا ہوتا ہے وہاں تو پہنچنا ہی پڑتا ہے ۔ انہوں نے دعا دی کہ جو میرے حق میں بہتر ہومجھے وہاں کا سفر کرنا نصیب ہو۔ انکل کی باتیں کافی انفورمیٹو تھیں جنہیں سنتے سنتے وقت کا احساس ہی نہیں ہوا اور رات کے تقریبا 2 بجنے والے تھے ۔ رنگ باز میرا انتظار کررہا تھا کیونکہ وہ مجھے آخری روز یواے ای گھومانااور کچھ شاپنگ کروانا چاہتا تھا اس لئے میں نے اختر بھائی سے درخواست کی کہ مجھے المجاز سینٹر چھوڑ آئیں تاکہ ہم صبح جلدی اٹھ کر یواے ای کی سیر اور دوستوں اور گھروالوں کے لئے کچھ خریدار ی کرسکیں۔ اگلے روز شاپنگ کی دوپہر کو واپس لوٹے پھر اختر بھائی کو فون کیا اور عجمان میں ان کی شاپ دیکھنے چلے گئے ۔ دکان پر پہنچنے سے پہلے ہی شاپنگ پلازوں کی چمک نے ہمیں اپنی طرف متوجہ کرلیا۔ میں نے اوررنگ باز نے اپنی اپنی جیت کے مطابق شاپنگ کی اور باہر نکلنے ہی والے تھے کہ اختر بھائی اورشازم بھی وہاں پہنچ گئے پھر دوبارہ شاپنگ شروع ہوگئی ۔ دن کے وقت شاپنگ مال میں گئے تھے اور اب شام ہوچکی تھی ۔ باہر نکلے تو اختر بھائی ایک اور شاپنگ مال میں لے گئے میں نے پوچھا کہ اب کیا رہ گیا ہے جو آپ شاپنگ مال میں جارہے ہیں انہوں نے بتایا کہ ایک تو اس شاپنگ پلازہ کے اوپر جتنی بھی شاندار لائٹنگ ہوئی ہے وہ انہوں نے کی ہے دوسرا انہیں وہاں سے ایک اعلیٰ کوالٹی پرفیوم خریدنا تھا جو انہوں نے مجھے بطور تحفہ پیش کرنا تھا ۔ میرے لئے پرفیوم خریدنے کے بعد انہوں نے رنگ باز کے لئے بھی پرفیوم خریدا اور ہمیں اپنے دفتر لے گئے جو کہ عجمان کے مین روڈ پر واقع تھا ۔ آفیس کو خود اختر بھائی نے کمال مہارت سے سجارکھا تھا ۔ وہاں بیٹھنے اور چپلی کباب کھانے کا بہت مزہ آیا ۔ یادگاری تصاویربھی بنوائیں اور ان سے اجازت لے کر المجاز سینٹر واپس آگئے ۔ اس بار اختر بھائی اور شازم ہمارے ساتھ المجاز سینٹر آئے اور کچھ وقت ہمارے ساتھ گزارا۔

اگلے روز مجھے دبئی ایئرپورٹ سے ایئربلیوکی فلائٹ سے وطن واپس پہنچنا تھا ۔ میرے سب دوستوں کو اب صرف یہی فکر تھی کہ مجھے وقت سے پہلے بغیر کسی خواری کے ایئرپورٹ پہنچادیں تاکہ میں اپنے کامیاب ٹور کے بعد خوشی خوشی گھر پہنچ سکوں ۔ شبیر بھائی نے اپنے ایک دوست کو بلوالیااور ادھر رنگ باز نے بھی وہاںدبئی میں موجود روزنامہ ایکسپریس کے نمائندے ضیاءعبدالرحمن کو بلوالیا تاکہ مجھے وقت پر ایئر پورٹ پہنچا سکیں۔ مزے کی بات یہ تھی کہ دونوں دوست گاڑیاں لے کر المجاز سینٹر کے نیچے انتظار کررہے تھے اور ہم مزے سے بیٹھے شبیر بھائی کے ہاتھوں کی بنی چائے پی رہے تھے ۔ دوستوں نے مجھے خواری سے بچانے کے لئے دودوگاڑیوں کا انتظام کردیا لیکن ایئر بلیووالوں نے فلائٹ دو گھنٹے لیٹ کرکے مجھے دبئی ایئر پورٹ پر مزید بیٹھے رہنے پر مجبور کیا۔واپسی پر ایئربلیو کی سروس بہت اعلیٰ رہی شاید وہ مسافر کو اگلی بار پھر ایئربلیو کا انتخاب کرنے کے لئے تیار کررہے ہوں ۔ میں نے جہاز میں اپنی کرسی 16 اے پر جو کہ جہاز کے درمیان میں کھڑکی والی سیٹ تھی بیٹھ کر سفر کا خوب لطف لیا اور لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر خیریت سے لینڈ کرنے پر اللہ کا شکر ادا کیا ۔ ایئر پورٹ سے باہر آیا تو خالہ زاد بھائی مصطفی اپنی گاڑی کے سامنے کھڑے میرا انتظار کررہے تھے ۔ ایئرپورٹ سے گھر تک تقریبا ایک گھنٹے کا سفر تھا جس میں پورے سفر کا خلاصہ میرے ذہن میں آتا گیا ۔ میرے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر ناصر جمال اور ایڈیٹر جناب مزمل سہروردی نے مجھے دبئی جانے کے لئے تیار کیا ۔بڑے بھائی کی ماند میرے فٹ بال کوچ سلیم احمد خان دبئی سے میراویزہ نکلواکر مجھے موقع فراہم کیا اور دبئی میں شبیر بھائی کے کندھوں پر میرے قیام وطعام کی ذمہ داری ڈالی ۔میرے ایک اور مہربان فیم فٹ بال کلب کے صدر ضیا ڈوگر صاحب ہیں جن کے تعاون کے بغیر تو یہ سفر تقریبا ناممکن تھا ۔ فیڈریشن آف رئیلٹرز پاکستان کے صدر میجر (ریٹائرڈ ) رفیق حسرت بھی میرے محسنوں میں سے ہیں کہ جن کی مدد سے میرا یہ سفر آسان بنا۔ میرے دوست  عمران سہیل نے مجھے دبئی میں کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی اور اپنے تجربہ کی بنیاد پر ہر جگہ میری راہنمائی کی ۔

ٓآپ سوچ رہے ہوں گے کہ  عمران سہیل کا نام بیچ میں کہاں سے آ گیا ، جی یہی تو میرا دوست ”رنگ باز “ہے۔

متحدہ عرب امارات میں گیارہ روز تک زندگی ایک مشین کی طرح چلتی رہی ۔ سونے کودل تو بہت چاہامگر کبھی تو وقت نہ ملا اورکبھی نیند بھی نہیں آئی ۔پھر بھی دبئی ٹور کا بہت لطف اٹھایا ۔ سری لنکا کے ٹور کے بعد دبئی کا ٹور میری زندگی کے یادگار لمحات والی کتاب کا اہم باب بن چکا ہے۔ اس دورے پراور اس کے حوالے سے ملنے والی دوستوں کی محبت کی خوشبو ہر دم میرے ساتھ رہے گی۔


۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*