Main Menu

سونے میں تولنے والے پانچ پاکستانی

گولڈ کوسٹ کھیلیں آسٹریلیا کی برتری پر اختتام پزیر ہوئیں جس میں میزبان ملک نے کل  198 تمغے جیتے جن میں سونے کے80 شامل ہیں۔ دوسرے نمبر پر انگلستان نے 45 طلائی تمغے جیتے جبکہ بھارت 26 تمغوں کے ساتھ تیسرے درجہ پر رہا۔

پاکستان بھی تمغے جیتنے والوں کی صف میں شامل ہوا اس کے ایتھلیٹس نے 5 تمغے جیتے جن میں ایک سونے کا تمغہ بھی شامل ہے۔ پاکستان کی چوبیسیویں پوزیشین رہی۔ سری لنکا اور بنگلہ دیش کا درجہ پاکستان سے کم رہا۔

پاکستان کے دستے میں شامل ایتھلیٹس میں سے سب سے زیادہ توقعات قومی کھیل ہاکی کے کھلاڑیوں سے وابستہ تھیں لیکن اس ایونٹ کے تمام مقابلوں میں مخالفین کے ہاتھوں شکستوں سے بچنے کے باوجود ہمارے کھلاڑی ساتویں پوزیشن سے آگے نہ بڑھ سکے۔شکست قبول نہ کرنا اچھا لیکن فتح کے چوبوترےپر کھڑا ہونے کے لیئے جس قسم کی کارکردگی کی ضرورت ہوتی ہے اس سے وہ دور دکھائی دیے۔

ادھر ہاکی کے اٹھارہ کھلاڑیوں کے دستے کی خالی ہاتھ واپسی ہوئی لیکن دوسری جانب پاکستان کے ایک شہر کےتین ایتھلیٹس نے تین تمغے جیت کر قوم کے پژمردہ چہرے پر تازگی بکھیر دی۔

پانچ تمغوں میں سے تین پاکستان کے شہر گجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے ایتھلیٹس نے جیتے۔ سب سے اہم طلائی تمغہ پاکستان کے معروف پہلوان انتیس سالہ محمد انعام نے جیتا۔ اس کے علاوہ پاکستان نے دو مختلف کھیلوں میں کانسی کے چار تمغے حاصل کیئے۔

گجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے انعام نے 86 کے جی فری سٹائل کشتی کے فائنل میں نائجیریائی پہلوان میلون بیبو کو صفر کے مقابلے پر چھ پوائنٹس سے شکست دے کر فتح کے چوبوترے پر سب سے اوپر کھڑے ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔

انعام نے پری کوارٹر فائنل میں آسٹریلوی حریف جیڈن لارنس کو شکست دی۔ کوارٹر فائنل میں ان کا سامنا بھارتی پہلوان سوم ویر سے ہوا جسے منہ کی کھانا پڑی۔ سیمی فائنل میں کینیڈا کے الیگزینڈر مور کو ہراکر انعام نے فائنل کے لیئے کوالیفائی کیا۔

انعام نے اس کامیابی کے لیئے اپنی مدد آپ کے تحت تیاری کی۔ فیڈریشن کی حمایت انہیں حاصل تھی لیکن حکومتی سطح پر اس ہونہار پہلوان کو تیاری کے لیئے درکار مالی مدد فراہم نہ کی جا سکی۔

انعام اور ان کے ساتھی کامیا ب پہلوانوں کا وطن واپسی پر شاندار استقبال کیا گیا ۔ اس خوشی کے موقع پر انعام نے ایک بار پھر پہلوانی کے بارے میں حکومتی عدم توجہی کی جانب توجہ مبذول کرائی اور کہا کہ حکومت کی نامہربانی کے باوجود انہوںنے سونے کا تمغہ وطن کے ماتھے کا جھومر بنایا۔

گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے پہلوان محمد بلال نے 57 کلو گرام کیٹیگری مقابلے میں انگلستان کے پہلوان کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ اپنے سینے پر سجایا۔ بائیس سالہ محمد بلال نے ، جو ماضی میں پاکستان کے لیئے ایشیائی کھیلوں میں بھی کانسی کا تمغہ جیت چکے تھے، برطانوی ریسلر جارج رام کو 5-1 سے چت کر کے اپنے وطن کے لیئے یہ اعزاز جیتا۔

پاکستان کے ایک اور پہلوان طیب رضا نے بھی ایک سو پچیس گرام فری سٹائل میں ملک کے لیئے کانسی کا تمغہ جیتا ۔

پاکستان کے نوح دستگیربٹ نے ویٹ لفٹنگ کے مقابلے میں کل 395 کلو گرام وزن اٹھا کر پاکستان کو دوسرا کانسی کا تمغہ دلوایا۔ گوجرانوالہ کے باسی نوح دستگیر نے مقابلے میں بھارت کے مندیب سنگھ کو شکست ۔

پاکستان کے اٹھارہ سالہ طلحہ طالب گولڈ کوسٹ دولت مشترکہ کھیلوں میں ویٹ لفٹنگ کے باسٹھ کے جی کیٹگری میں پاکستان کے لیئے پہلا( کانسی کا) تمغہ جیتنے میں کامیاب ہو ئے۔ گجرانوالہ سے تعلق رکھنے ولے طلحہ نے 62کلو گرام کی کیٹیگری میں مجموعی طور پر 283 کلو گرام وزن اٹھایا ۔

ایتھلیٹکس میں ایک پاکستانی ایتھلیٹ بھی نے خبروں میں جگہ بنائی۔ خانیوال سے تعلق رکھنے والے اکیس سالہ ارشد ندیم نے جیولن تھرو میں فائنل کے لیئے کوالیفائی کیااور بارہ ایتھلیٹس میں سے آٹھویں پوزیشن حاصل کی۔خاتون ایتھلیٹ نجمہ پروین قابل ذکر کارکردگی نہ دکھا پائیں۔

دیگر کھیلوں کا حال بہت ہی پتلا رہا۔ بیڈمنٹن کے خواتین سنگلز مقابلوں میں ماحور شہزاد راﺅنڈ سولہ تک پہنچیں جبکہ پلواشہ بشیر سنگلز مقابلوں میں ابتدائی راﺅنڈ میں ہی ہار گئیں۔ مسکڈ مقابلوں میں پاکستان گروپ میں اپنے تمام میچ بری طرح ہارا۔خواتین کے ڈبلز مقابلوں میں پاکستان راﺅنڈ بتیس تک پہنچا۔

باکسنگ میں اویس علی خان81 کے جی مقابلوں میں کوارٹر فائنل میں ہمت ہار گئے۔69 کے جی میں گل زیب راﺅنڈ سولہ میں ہارے۔ علی احمد60 کے جی میں راﺅنڈ سولہ سے آگے نہ بڑھ پائے۔52 کلو گرام میں سید محمد آصف کوارٹر فائنل میں پٹ گئے۔

سکواش میں فرحان زمان اور طیب اسلم سنگلز مقابلوں میں راﺅنڈ 32سے آگے نہ بڑھ سکے۔

مکسڈ ڈبلز اور مینز ڈبلز میں پاکستانی کھلاڑی راﺅنڈ 16 پار نہ کر سکے۔خواتین سنگلز میں فائزہ ظفر راﺅنڈ بتیس اور مدینہ ظفر راﺅنڈ 64 سے آگے نہ بڑھ سکیں۔

نشانہ بازی(شوٹنگ)،ٹیبل ٹینس اورپیراکی(سوئمنگ)میں بھی سیرو تفریح سے بڑھ کر کچھ نہ ہو سکا۔

پاکستان کے لیئے میڈل جیتنے والے پہلوانوں اور وزن اٹھانے والوں نے اپنا حق ادا کر دیا۔ سپورٹس بورڈ نے ان کے لیئے لاکھوں کے نقد انعامات کا اعلان کیاہے ۔ سونے کا تمغہ جیتنے والے انعام کو پچاس لاکھ اورکانسی کا تمغہ جیتنے والے دیگر چاروں ایتھلیٹس کو فی کس دس لاکھ دیے جا رہے ہیں۔

یہ ایتھلیٹس لاکھوں میں نہیں سونے میں تولنے کے حقدار ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت گاہوں اور تربیت کرنے والوں کے اوپر بھی نظرِ کرم کرنے کی ضرورت ہے۔ کھیلوں کے ساتھ دہائیوں سے جاری سوتیلے پن کا سلوک ترک کرکے حیران کن نتائج لیئے جا سکتے ہیں۔

شاید کوئی ہمارے متحرک چیف جسٹس کی توجہ اس طرف بھی دلوا دے۔

واضح رہے کہ چار اپریل سے پندرہ اپریل تک آسٹریلیا کے شہر گولڈ کوسٹ میں منعقدہونے والے ان کھیلوں میں 19 کھیلوں کے دو 275 ایونٹس میں 71 ممالک کے ایتھلیٹس تمغوں کے حصول کے لیئے جنگ کرتے نظر آئے۔

پاکستان کے چھیالیس مرد اور دس خواتین(مجموعی56 ) ایتھلیٹس نے دس کھیلوں میں قسمت آزمائی کی۔

پاکستانی دستہ جس نے گولڈ کوسٹ مقابلوں میں سبز ہلالی پرچم کے سائے تلے ملک کی نمائندگی کی۔

ایتھلیٹکس( ایک مرد ایک خاتون) ارشد ندیم: جولین تھرو، نجمہ پروین:خواتین دو سو اور چار سو میٹردوڑ۔

بیڈمنٹن(2 مرد 2خواتین)محمد عرفان سعید بھٹی،مراد علی،ماہ حور شہزاد،پلواشہ بشیر۔

باکسنگ(4 مرد ایتھلیٹس)سید محمد آصف:52 کلو گرام ،علی احمد : 60 کلوگرام،گل زیب 69 کلو گرام،اویس علی خان : 81 کلوگرام ۔

ہاکی(18) ابو محمود، علی شان،احمد شکیل بٹ،عمران بٹ،مظہر عباس،مبشر علی، محمد ارشد، محمد ارسلان قادر،محمد عتیق ، محمد دلبر،محمد عرفان، محمد عرفان، محمد قادر، محمد رضوان،راناریاض، شفقت رسول،تصور عباس،تعظیم الحسن۔

شوٹنگ(پانچ مرد، دو خواتین) غفران عادل، محمدخلیل اختر،عامر اقبال،محمد فرخ ندیم،عثمان چاند،منہال سہیل،مہوش فرحان۔

سکواش(دو مرد، دو خواتین)فرحان زمان، طیب اسلم،فائزہ ظفر،مدینہ ظفر۔ان چاروں کھلاڑیوں نے مرد و خواتین کے سنگلز اور ڈبلز مقابلوں کے علاوہ مکسڈ ڈبلز میں بھی شرکت کی۔

سوئمنگ(ایک مرد، ایک خاتون) سید محمد حسیب طارق، بسمہ خان:یہ دونوں پیراک مردو خواتین کے پچاس و سو میٹر فری سٹائل،سو میٹر فری سٹائل،پچاس اور سو میٹر بیک سٹروکس ایونٹس میں شرکت کی۔

ٹیبل ٹینس(دو مرد، دو خواتین)فہد خواجہ،محمد رمیز،فاطمہ خان،حریم انور علی:ان چاروں کھلاڑیوں نے مردو خواتین کے سنگلز، ڈبلز اور مکسڈ مقابلوں میں حصہ لیا۔

ویٹ لیفٹنگ(5مرد)عبداللہ غفور56کے جی،طلحہ طالب62کے جی،ابو سفیان69 کے جی،عثمان امجد راٹھور94 کے جی،محمد نوح دستگیر بٹ 105 پلس کے جی۔

ریسلنگ(6مرد)محمد بلال فری سٹائل 57کے جی،عبدالواہاب 65کے جی،محمد اسد بٹ 74 کے جی،محمد انعام 86 کے جی،عمیر احمد97 کے جی،طیب رضا 125 کے جی۔

یہ بھی یاد رہے کہ سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں دو سو چودہ کی کھیلوں میں پاکستان کے باسٹھ رکنی دستے نے تین کانسی اور ایک چاندی کے تمغے سمیت کل چار تمغے جیتے تھے۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*

Warning: Use of undefined constant WP_PB_URL_AUTHOR - assumed 'WP_PB_URL_AUTHOR' (this will throw an Error in a future version of PHP) in /customers/b/5/3/jeetpakistan.com/httpd.www/wp-content/plugins/adsense-box/includes/widget.php on line 164 Warning: Use of undefined constant WP_PB_URL_AUTHOR - assumed 'WP_PB_URL_AUTHOR' (this will throw an Error in a future version of PHP) in /customers/b/5/3/jeetpakistan.com/httpd.www/wp-content/plugins/adsense-box/includes/widget.php on line 164 Warning: Use of undefined constant WP_PB_URL_AUTHOR - assumed 'WP_PB_URL_AUTHOR' (this will throw an Error in a future version of PHP) in /customers/b/5/3/jeetpakistan.com/httpd.www/wp-content/plugins/adsense-box/includes/widget.php on line 164