Main Menu

لاہور میرا عشق ہے : لاہور قلندر کے مالک” فواد رانا“ کا خصوصی انٹرویو

 

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ”خواب“ پاکستان سپرلیگ (پی ایس ایل ) کو تعبیر کا روپ دینے والے لاہورقلندر کے چیئرمین فواد نعیم رانا جنھیں دنیا بھر میں کرکٹ کے شیدائی رانا فواد کے نام سے جانتے ہیں ایک کثیرالجہتی شخصیت کے مالک ہیں۔ پاکستان سپر لیگ کی سپورٹ میں پہلا قدم رانا فواد نے ہی اٹھایا اورلاہور ی ہونے کے ناطے لاہور قلندرزکی ذمہ داری اپنے ذمہ لی ۔ پاکستان میں 1لاکھ 60 ہزار نوجوان کرکٹرز کو اپنا ٹیلنٹ دکھانے کا موقع فراہم کیا جس سے متعدد باصلاحیت کھلاڑیوں کو نہ صرف لاہور قلندرز میں جگہ ملی بلکہ قومی کرکٹ ٹیم میں جگہ بنانے کا بھی موقع ہاتھ لگ گیا۔ رانا فواد پاکستان سپرلیگ کے مقبول ترین فرنچائزآنرز ہیں اوران کی مقبولیت کا اندازہ سٹیڈیم میں ”رانا صاحب وی لو یو“کے فلک شگاف نعروں اور سوشل میڈیا پر ان کی مقبولیت سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔ کرکٹ کے علاوہ رانا فواد ایک کامیاب بزنس مین کے طور پر بھی اپنی صلاحیتوں کو منواچکے ہیں ۔ پاکستان سپر لیگ کے تیسرے ایڈیشن کے دوران دبئی ڈاون ٹاون کے ایک نجی ہوٹل میں لاہور قلندر زکے اس بڑے قلندر سے جیت پاکستان کے ایڈیٹر اشفاق مغل کی ہونے والی ملاقات کا احوال پیش خدمت ہے ۔

پہلے تو یہ بتائیں کہ کراچی ، اسلام آباد،پشاوراور کوئٹہ کیوں نہیں اور لاہور فرنچائز ہی کیوں خریدی؟
نجم سیٹھی صاحب قطر آئے اور مجھے پی ایس ایل فرنچائز خریدنے کا کہا تو میں نے اپنے بھائی عاطف رانا سے کہا کہ ٹھیک ہے تیاری کرولیکن فرنچائز لینی ہے تومیں صرف لاہورہی لوں گا۔ میری بیوی اور میری فیملی کو پتاہے کہ مجھے لاہور سے عشق ہے میں لاہور کی گلیوں میں بہت پھرا ہوں ۔ ویسے بھی لاہور شہر نے بہت بڑے بڑے لوگ پیدا کیئے ۔ ملکہ ہندجہانگیر کی بیوی نورجہاں کو لاہور شہر سے اتنا پیار تھا کہ اس نے جہانگیر کی وفات کے بعد بھی اسی لاہور میں زندگی گزاری اورجہانگیر کے ساتھ اپنا بھی مقبرہ بنوایا۔ لاہور کے بارے میں نورجہاں کا کہنا تھا کہ میں نے لاہور کو اپنی جان کے برابر خریدا ہے اوریہاں جو قبر خریدی ہے وہ اپنی زندگی دے کر خریدی ہے ۔
دم دم دم دم ہر دم جیوے لاہور قلندر مست
جم جم جم جم کھیڈو لاہور قلندر مست
دم دم کھیڈو جم جم کھیڈو لاہورقلندر مست
پی ایس ایل تھری میں بھی لاہور قلندر کی کارکردگی اوپر نیچے رہی اس کے باوجود شائقین کرکٹ کی پسندیدہ ٹیم لاہور قلندرز ہی رہی اس کی کیا وجہ ہے ؟
لاہور قلندرز کی کارکردگی یقینا شائقین کرکٹ کی توقعات پوری نہیں کرسکی جس کی وجہ لاہور قلندرز کی انتظامیہ کا بڑے ناموں کی بجائے اپنے نوجوان کرکٹرز کی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار تھا ۔ لاہور قلندرزکی ٹیم میں ملک بھر سے باصلاحیت نوجوانوں کو منتخب کیا گیا تھا ۔ پی ایس ایل کی تینوں ایڈیشنز میں ان نوجوان کرکٹرز کو بھرپور موقع دیا گیا ہے جو مستقبل میں یقینا بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے ۔ شاید ہماری مقبولیت کی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم نے باصلاحیت نوجوان کرکٹرز کو زیادہ موقع دیا ہے۔
اپنی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے باوجود بھی مسکراتے رہتے ہیں کیااس کی کوئی خاص وجہ ہے ؟
جذباتی آدمی ہوں پاکستان اور لاہور کو ہارتے نہیں دیکھ سکتا ۔سمائلنگ فیس ( مسکراتا چہرہ )ہونے کے وجہ سے سب کوایسا لگتا ہے لیکن اندر سے بہت دکھی ہوتا ہوں ۔ اپنے اور اپنی ٹیم پرپورا یقین ہے ۔ ہم سچے اور قلندر زہیں ۔زندگی میں کوئی کام ایسا نہیں کیا جس سے شرمندگی ہو۔ اپنی ٹیم کو بھی یہی کہا ہے کہ کوئی غلط کام نہیں کرنا ۔ یہ لاہور کی ٹیم ہے لاہور کے سربلند ہونے چاہیں ۔
جس پایا پیت قلندر دا
راہ کھوجیااپنے اندر دا
اوواسی اے سکھ مندر دا
جتھے کوئی نہ چڑھ دی لیندی اے
نوجوان کرکٹرز پر ہی فوکس کیوں ہے اسکی کوئی خاص وجہ ہے ؟
نوجوانوں کو دنیا بھر میں مستقبل کا خزانہ سمجھا جاتا ہے کوئی بھی مستقبل میں مسلسل کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ اپنی یوتھ پر ہی توجہ دیتا ہے ۔ ہمارابھی یہ پروگرام ہے کہ یوتھ کو زیادہ پرموٹ کیا جائے اس سے ایک تو ملک میں باصلاحیت نوجوان کرکٹرز کو لاہور قلندرز کی فیملی میں شرکت کا موقع ملے گادوسرا قومی کرکٹ ٹیم کوبھی باصلاحیت کرکٹرز کی کھیپ دستیاب آرہی ہے ۔
لہویا ہونوےں، پیا کٹیویں تاں تلوارچے ڈھیویں ہو
کنگھی وانگوپیا چریویں تاں زلف محبوب بھریویں ہو
مہندی وانگو پیا کوٹیویں تے تلی محبوب رنگیویں ہو
عاشق صادق ہویں باہوتے رس پریم دا پیویں ہو
فاسٹ باولر عرفان جونیئر جوکہ لاہور قلندرز کی دریافت تھا کراچی کنگز کی طرف سے کھیل کر خطرناک باولر بن چکا ہے اس بارے کیا کہیں گے ؟
ہم نے سب کو فیملی کی طرح رکھا پی ایس ایل کا فارمیٹ ایسا ہے کہ ہمیں ہر سال کچھ کھلاڑیوں کو ریلیز کرنا پڑتا ہے اور تیسرے ایڈیشن میں ملتان سلطان کی چھٹی ٹیم بننے سے بھی کھلاڑی ریلیز کرنا تھے ۔ لاہور قلندرز نے خودغرض ہوکرکام نہیں کیا فخرزمان ، عثمان قادر ، شاہین آفریدی ، عرفان جونیئر، سلمان ارشاد ، آغا سلمان جیسے کھلاڑیوں کا لاہور قلندرز سے کھیلنا میرے لئے اطمینان کی بات ہے کہ نیا ٹیلنٹ آگے آ رہا ہے۔ سلمان کا پہلا گیند مصباح الحق کو آوٹ کرنا بہت بڑی بات ہے۔عثمان قادر کو آسٹریلیا میں کپتان بنایا لیکن اس کی قسمت کہ وہ ایسا پرفارم نہیں کرسکاجیساکہ اس سے توقع کی جارہی تھی اسے قومی کرکٹ ٹیم میں جگہ بنانے کے لئے خود کو یاسر شاہ سے بہتر ثابت کرنا ہوگا۔
عمر اکمل لاہور قلندرز کی ٹیم کا بڑا کھلاڑی ہے لیکن اس کی کارکردگی اور غیر سنجیدگی سے کرکٹ شائقین اورلاہور قلندرز کے سپورٹرزبہت مایوس ہیں کیاعمر اکمل کو لاہور قلندرز میں مزید دیکھ رہے ہیں ؟
عمراکمل لاہورقلندرز کا حصہ ہے ہر کھلاڑی کا کوئی براوقت چل رہا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہورہا ہے لیکن مجھے پورا یقین ہے کہ عمر اکمل کم بیک کرے گا۔
کیافرنچائز لاہور قلندرز کے نام کے پیچھے چھپی کہانی ہمارے قارئین کو بتانا پسند کریں گے ؟
میں لاہوری ہوں اور قلندروں سے پیار کرنے والا ہوں ۔ مجھے میری والدہ سے بھی بے انتہامحبت ہے ۔ جب میں نے لاہور فرنچائز کے لئے نام تجویز کرنا تھا تومیں کافی شش و پنچ کا شکار ہوا۔ لاہور شیردلز اور لاہور لائنزکے نام تجویز ہوئے لیکن ابھی بھی دل کو تسلی نہیں ہورہی تھی والدہ سے مشورہ ہواتو انہوں نے لاہورقلندرز کا نام تجویز کیا جو میرے دل میں گھر کرگیا۔لاہور قلندرز کا نام تجویز کرنے پر اپنی والدہ کا بہت مشکور ہوں ۔
آپ کی زندگی کا کوئی یادگار لمحہ جسے ہمارے قارئین کے ساتھ شیئر کرنا چاہیں گے ؟
قطر میں میری آنکھوں کے سامنے ایشین ہاکی چمپئن شپ کے فائنل میں پاکستان کی 2 گول کے خسارے کے باوجود بھارت کو 7 کے مقابلے میں 8 گول سے تاریخی شکست میری زندگی کا یادگار لمحہ ہے ۔
کرکٹ کو سپورٹ کرنے کے علاوہ اور کیا مشاغل ہیں ؟
قطر میں پاکستانیوں کو آگے لانے کے لئے ایک کرکٹ اکیڈمی بنائی ہے ۔پاکستان میں سکیورٹی مسائل کے باعث قطر میں ایشین ہاکی ایونٹ منعقد کروانے میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کا ساتھ دیا۔ لاہور لاہوریوں کا کے نام سے ایک ڈاکومینٹری بھی بنائی ۔ شعروشاعری سے بھی لگاو ہے ۔
آپ کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش جو پوری کرنا چاہتے ہوں ؟
ہروقت اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں اور میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش بھی یہی ہے کہ پوری پی ایس ایل لاہور یعنی پاکستان آجائے ۔

 






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*