Main Menu

سنتالیسویں نیشنل اتھلیٹکس چمپئن شپ آرمی نے جیت لی

9

رپورٹ: محمد قیصر چوہان

چوبیس برس بعد بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں منعقد ہونے والی

 سنتالیسویں نیشنل اتھلیٹکس چمپئن شپ آرمی نے جیت لی

خواتین کے مقابلوں میں واپڈا نے ٹرافی اپنے نام کی

2

کھیل اور ان سے متعلقہ سرگرمیاں کسی بھی قوم کے افراد کو صحت مند تفریح فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے کردار اور رویوں کی تعمیرمیں بھی بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں اسی لیے آج دنیا کے نہ صرف ترقی یافتہ بلکہ ترقی پذیر ملک بھی کھیلوں اور جسمانی صحت کے تحفظ اور نشوونماکےلئے خصوصی اقدامات کو اپنی ترجیحات میں شامل کرتے ہیں ۔ وہ یہ بات جانتے ہیں کہ قوموں کی زندگی میں جسمانی صحت کی کیا اہمیت ہے کیونکہ جس قوم کے افراد کی جسمانی صحت اچھی ہوتی ہے ان کی ذہنی صحت بھی یقینا اچھی ہوگی ۔ جسمانی اور ذہنی صحت کی نشوونما اور اسے برقراررکھنے میں کھیل اور ان سے متعلقہ سرگرمیاں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں ۔یہ ایک حوصلہ افزا بات ہے کہ دوسرے دانشمند ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی کھیلوں اور اس سے متعلق سہولتوں کو بہتر بنانے کے بارے میں ایک سوچ بیدار ہوچکی ہے اور اس جانب عملی پیش رفت کا کسی حد تک آغاز بھی ہوچکا ہے ۔ کھیل امن اور دوستی کی علامت ہوتے ہیں جبکہ صحت مند قوم ہی ترقی کی ضامن ہو تی ہے۔ اور کھےلوں کے فروغ سے دہشت گردی کی سلگتی آگ بجھائی جاسکتی ہے کھےل کے مےدان آباد کرکے ہی ہسپتال وےران کئے جاسکتے ہےں۔جہاںکھےلوں کے فروغ سے معاشرے مےں پروان چڑھتی ہوئی تنگ نظری اور انتہا پسندی کی سوچ کا خاتمہ ممکن ہے وہاں کھےلوں کے فروغ سے پاکستان کا سافٹ امےج دےنا بھر مےں امن کی خوشبو کی طرح پھےلے گا جس سے نوجوان نسل کی گرومنگ اور انکی کردار سازی بھی ہو گی۔ اسی نظریہ کے تحت اتھلیٹکس فیڈریشن آف پاکستان ملک بھر میں اتھلیٹکس کے کھیل کو فروغ دے رہی ہے۔بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں 24 برس کے طویل عرصے کے بعد نیشنل اتھلیٹکس چمپئن شپ 9تا 11 مئی منعقد ہوئی جس میں پنجاب ، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخواہ، اسلام آباد، فاٹا، گلگت بلتستان، آزاد جموں وکشمیر سمیت آرمی، واپڈا، ریلویز، ہائیر ایجوکیشن کمیشن، ایئرفورس سمیت دیگر ٹیموں کے کھلاڑیوں نے شرکت کی۔ بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ کے موسیٰ سپورٹس کمپلیکس میں کھیلی جانے والی 47 ویں قومی اتھلیٹکس چمپئن شپ کا افتتاح وزیراعلیٰ بلوچستان ثناءاللہ خان زہری نے کیا اس موقع پر پاکستان اتھلیٹکس فیڈریشن کے صدر میجر جنرل (ر)اکرم ساہی ، سیکرٹری جنرل محمد ظفر ، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض، چیف سیکریٹری بلوچستان، سیف اللہ چٹھہ ، انٹرنیشنل ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کے ٹیکنیکل آفیشل سابق انٹرنیشنل ویٹ لفٹر محمد زبیر یوسف بٹ، صوبائی وزرائ، اراکین صوبائی اسمبلی، سیاسی و قبائلی عمائدین اور چمپئن شپ میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں اور لوگوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان ثناءاللہ خان زہری نے کہا کہ 24 برس کے بعد 47 ویں نیشنل اتھلیٹکس چمپئن شپ 2016 کا بلوچستان میں انعقاد ہمارے لیے باعث فخر ہے۔ کھیلوں کے اس بڑے ایونٹ سے بلوچستان کے نوجوانوں میں کھیلوں میں حصہ لینے کا جذبہ پیدا ہو گا اور یہ چمپئن شپ ملکی یکجہتی کو پروان چڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔1
47ویں قومی اتھلیٹکس چمپئن شپ 35 میڈلز کے ساتھ پاکستان آرمی نے جیتی جبکہ خواتین کے مقابلوںمیں 34 میڈلز کے ساتھ واپڈا کی لڑکیوںنے پہلی مرتبہ ٹرافی اپنے نام کی۔چمپئن شپ میں دونئے ریکارڈ بھی قائم ہوئے تاہم مردوں کے مقابلوں میں سندھ ، بلوچستان ،خیبرپختونخواہ ،فاٹا ، اسلام آباد اور گلگت بلتستان کے مرداتھلیٹس کوئی میڈل حاصل کرنے میں نامرادرہے۔ خواتین مقابلوں میں بھی پنجاب ، سندھ ، بلوچستان ، خیبر پی کے ، اسلام آباد ، آزاد جموں کشمیر ، فاٹا اورگلگت بلتستان کی اتھلیٹس میڈل تک رسائی میں ناکام رہیں ۔چمپئن شپ کے آخری روز دو ریکارڈ بنے۔ پہلا ریکارڈ 400×100 میٹر ریلے ریس میں پاکستان آرمی کے اتھلیٹس نے 40.24 سیکنڈ کانیا ریکارڈ بناجبکہ پرانا ریکارڈ 40.36 سیکنڈ تھا۔ دوسرا ریکارڈ 400 میٹر مینز ریس میں آرمی کے محبوب علی نے بنایا۔انہوں نے مقررہ فاصلہ 46.75 سیکنڈ میں طے کیا۔ چمپئن شپ میں پاکستان آرمی کے اتھلیٹس 440 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست رہے ۔ آرمی کے مرد اتھلیٹس کے حصہ میں آنے والے 35میڈلز میں سے 14 سونے ،13 چاندی اور 8 کانسی کے تمغے شامل تھے ۔ دوسرے نمبر پر واپڈا کے مرد اتھلیٹس رہے جنھوں نے 281 پوائنٹس حاصل کیئے ۔ واپڈا کے میڈلز کی تعداد 21 رہی جن میں 8گولڈ ،6سلور اور 7 براونز میڈل شامل تھے ۔ وکٹری سٹینڈ پر پہنچنے والی تیسری ٹیم پاکستان ایئرفورس رہی جس نے91 1پوائنٹس حاصل کیئے اور1 گولڈ ،1 سلور اور 5 براونز میڈل سمیت کل 7 میڈلز اپنے نام کیئے ۔ سندھ ، بلوچستان ،خیبرپختونخواہ ،فاٹا ، اسلام آباد اور گلگت بلتستان نے کوئی میڈل حاصل نہیں کیا۔ آزاد جموں کشمیر نے ایک سلور میڈل حاصل کیا ، ہائرایجوکیشن کمیشن نے دو میڈل حاصل کیئے ایک سلور اور ایک براونز میڈل حاصل کیا ۔ پاکستان ریلویز نے بھی ایک سلور اور ایک براونز میڈل حاصل کیا۔ پنجا ب نے بھی ایک براونز میڈل حاصل کیا۔2623
خواتین مقابلوں میں واپڈا 413 پوائنٹس کے ساتھ پہلے نمبر پر رہی ۔ واپڈا کی خواتین اتھلیٹس نے16 گولڈ ،11سلور اور7 براونز میڈلز حاصل کیئے ۔ آرمی کی اتھلیٹس 177 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہیں ۔ آرمی کی خواتین نے 2 گولڈ، 5 سلور اور 7 براونزمیڈلز حاصل کیئے ۔ ہائرایجوکیش کمیشن نے 106 پوائنٹس کے ساتھ تیسری پوزیشن پر قبضہ کیا ۔ ایچ ای سی کی اتھلیٹس کے حصہ میں ایک گولڈ ، 2 سلور اور 3 براونز میڈل آئے ۔ خواتین کے مقابلوں میں پنجاب ، سندھ ، بلوچستان ، خیبر پی کے ، اسلام آباد ، آزاد جموں کشمیر ، فاٹا ، گلگت بلتستان کی اتھلیٹس نے کوئی میڈل حاصل نہیں کیا جبکہ ریلویز کی اتھلیٹس ایک سلور اور دو بروانز میڈل حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔834
47 ویں نیشنل اتھلیٹکس چمپئن شپ میں واپڈا کے گوہر شہزاد 100 میٹر دوڑ کے نئے چمپئن بن گئے آرمی کے لیاقت علی اپنے اعزاز کا دفاع کرنے میں ناکام رہے جبکہ خواتین کے مابین 100 میٹر دوڑ میں بھی واپڈا کی کھلاڑی گولڈ اور سلور میڈلز حاصل کرنے میں کامیاب رہیں جبکہ سلور میڈل آرمی کی کھلاڑی کے ہاتھ آیا۔ شارٹ پٹ میں آرمی کے محمد وسیم جونیئرگولڈ میڈل کے حقدار ٹھہرے اور پول والٹ میں آرمی کی سدرہ بشیرنے سونے کا تمغہ اپنے سینے پر سجایا۔کوئٹہ کے موسیٰ سپورٹس کمپلیکس میں کھیلی جانے والی 47 ویں قومی اتھلیٹکس چمپئن شپ کے پہلے دوروز آرمی اور واپڈا کے کھلاڑی چھائے رہے ۔میزبان بلوچستان اتھلیٹکس ایسوسی ایشن کے زیراہتمام منعقدہ اس چمپئن شپ کے پہلے روز جیولن تھرو ویمنز مقابلوں میں واپڈا کی فاطمہ حسین نے 36.77 میٹرتھروکرکے گولڈ میڈل حاصل کیا۔ ہائرایجوکیشن کی گل ناز نے 36.23میٹر تھروکرکے سلور اور واپڈا کی طاہرہ پروین نے 35.55میٹر تھروکرکے براونز میڈل حاصل کیا ۔ مردوں کے جیولن تھرو مقابلوں میں ارشد ندیم واپڈا نے 69.88میٹر تھروکرکے گولڈ میڈل حاصل کیا جبکہ ہائرایجوکیشن کے محمد یاسر نے 69.38میٹر تھروکرکے سلور اور آرمی کے ثناءاللہ نے 68.14میٹر تھروکرکے براونز میڈل حاصل کیا۔ پول والٹ ویمنز مقابلوں میں سدرہ بشیر آرمی نے گولڈ میڈل حاصل کیا انہوں نے 02.95میٹر جبکہ آرمی ہی کی مہناز نے سلور اور واپڈا کی بلقیس نے براونز میڈل حاصل کیا۔ پول والٹ مینزمقابلوں میں آرمی کے ریحان انجم نے 04.65 میٹر جمپ لگاکرگولڈ میڈل حاصل کیا جبکہ آرمی کے گل فراز دوسرے اور پی اے ایف کے جاوید تیسرے نمبر پر رہے ۔ شارٹ پٹ ویمنزایونٹ میں واپڈا کی زینت پروین نے گولڈ میڈل حاصل کیا جبکہ واپڈا ہی کی نازہ کوثر نے سلور اور ہائرایجوکیشن کمیشن کی قندیل نے براونز میڈل حاصل کیا۔ شارٹ پٹ مینزایونٹ میں آرمی کے محمد وسیم جونیئرنے گولڈ ، واپڈا کے شفاقت علی نے سلور اور آرمی کے محمد وسیم سینئر نے براونز میڈل حاصل کیا۔ 800 میٹر ویمنز دوڑ میں واپڈا کی رابعہ عاشق نے 2 گھنٹے 20 منٹ اور 18 سیکنڈکے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی ثومیبہ نورین 2 گھنٹے 23 منٹ اور20 سیکنڈ کے ساتھ سلور میڈل حاصل کرنے میں کامیاب رہیں جبکہ تیسری پوزیشن ہائرایجوکیشن کی بسمہ افضل کے حصہ میں آئی جنھوں نے اپنا فاصلہ 2 گھنٹے 36 منٹ اور39 سیکنڈ میں طے کیا۔1000 میٹر ویمن ایونٹ میں واپڈا کی شبانہ کوثر نے مطلوبہ فاصلہ 48:37.94 میں طے کرکے گولڈ میڈل اپنے سینے پر سجایا جبکہ آرمی کی ارم شہزادی نے دوسری اور نسرین کوثر نے تیسری پوزیشن حاصل کی ۔ ٹرپل جمپ مینزایونٹ میں آرمی کے ظفراقبال نے 15.34 میٹر جمپ لگاکر گولڈ میڈل پر قبضہ جمایا، محمد افضل نے 15.31میٹر جمپ لگاکر سلو میڈل حاصل کیا جبکہ وقاص احمد واپڈا نے 14.86میٹر جمپ لگاکر تیسری پوزیشن حاصل کی۔ 400 میٹر ویمنز ایونٹ میں نجمہ پروین واپڈا نے 56.99منٹ میں مطلوبہ فاصلہ طے کرکے پہلی پوزیشن حاصل کی ، واپڈا کی عنیقہ ہاشمی نے 57.83منٹ اور آرمی کی سمیرانے 1:05.01منٹ میں فاصلہ طے کرے براونز میڈل جیتا ۔ 400 میٹر مینزمقابلوں میں آرمی کے محبوب علی نے 46.75منٹ میں فاصلہ طے کرکے پہلی ، واپڈا کے اسد علی نے 47.38منٹ میں فاصلہ طے کرکے سلور میڈل اور آرمی کے مظہر علی نے 48.14منٹ میں فاصلہ طے کرکے براونز میڈل حاصل کیا۔ 5000 میٹر مینز ریس میں واپڈا کے سہیل عامر نے مطلوبہ ہدف 15:55.46منٹ میںطے کرکے گولڈ میڈل حاصل کیا آرمی کے عتیق الرحمن نے 15:58.58منٹ میں فاصلہ طے کرکے سلو رمیڈل حاصل کیا جبکہ آرمی ہی کے رمیز جاوید مرزا نے مطلوبہ ہدف 16:08.22منٹ میں طے کرکے براونز میڈل حاصل کیا۔ ہائی جمپ ویمنز مقابلوں میں ام حبیبہ واپڈا نے 01.60میٹر چمپ لگا کر گولڈ ، ثمیعہ سحرواپڈانے 01.50میٹر چمپ لگا کر سلور اور آرمی کی ماریہ مراتب نے 01.50میٹر چمپ لگا کر براونز میڈل حاصل کیا۔ 100 میٹر ویمنزایونٹ میں نجمہ پروین واپڈا نے گولڈ ، واپڈا ہی کی شب عشرہ نے سلور میڈل اور آرمی کی ماریہ مراتب نے براونز میڈل حاصل کیا۔ 100 میٹر مینزدوڑ میں گوہر شہزاد واپڈا نے 10.44سیکنڈ میں فاصلہ طے کرکے گولڈ میڈل حاصل کیا ، آرمی کے لیاقت علی 10.57سیکنڈ کے ساتھ سلور اور عبیدعلی آرمی 10.69سیکنڈ کے ساتھ براونز میڈل حاصل کرنے میں کامیاب رہے ۔3029

دوسرے دن کھیلے گئے مقابلوں میں 20 میٹر واک ریس مینزمیں محمد قاسم فیض آرمی نے 2:05.59منٹ میں فاصلہ طے کرکے گولڈ ، فیضان خان آرمی نے 02:06.15منٹ فاصلہ طے کرکے سلور میڈل حاصل کیا جبکہ براونز میڈل ریلویز کے محمد سلیم کے حصہ میں آیا۔ 400 میٹر ہرڈلز ریس ویمنز میں واپڈا کی نجمہ پروین 01:03.33 منٹ کے ساتھ گولڈ ، مسرت شاہین واپڈا 01:06.71منٹ کے ساتھ سلور اور آرمی کی شہلا 01:15.94منٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پررہیں ۔ 800 میٹر مینزدوڑ میں علی محمد واپڈا 01:53.84منٹ کے ساتھ گولڈ ،عمیر سعادت ہائرایجوکیشن کمیشن 01:54.65منٹ کے ساتھ سلور اور وقار یونس پنجاب 01:55.77منٹ کے ساتھ براونز میڈل کے حقدار ٹھہرے ۔ لونگ جمپ مینزایونٹ میں محمد عمران واپڈا07.63میٹر جمپ کے ساتھ گولڈ، محمد افضل آرمی 07.35میٹر جمپ کے ساتھ سلور اور سمیع اللہ ایئرفورس 07.22چمپ کے ساتھ براونز میڈل حاصل کرنے میں کامیاب رہے ۔ 1500 میٹر ویمنزایونت میں ثموبیہ نورین واپڈا 05:12.89منٹ کے ساتھ پہلی ، رابعہ عاشق واپڈا 05:13.17منٹ کے ساتھ دوسری اور بسمہ افضل ہائرایجوکیشن 05:38.58منٹ کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہی ۔ ٹرپل چمپ ویمنزمیں مریم واپڈا 11.45میٹر کے ساتھ گولڈ ، ماریہ مراتب آرمی 11.34میٹر کے ساتھ سلور اور عالیہ نور واپڈا 10.38میٹر کے ساتھ براونز میڈل حاصل کرنے میں کامیاب رہی ۔ 400 میٹر ہرڈلز ریس مینزمیں محبوب علی آرمی 51.95منٹ کے ساتھ پہلے ، شفاقت علی واپڈا 53.75منٹ کے ساتھ دوسرے اور عدیل احمد واپڈا 54.10منٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے ۔ 3000 میٹر سٹیپل چیز ایونٹ میں فیصل سلطان آرمی گولڈ میڈل حاصل کرنے میں کامیاب رہے جبکہ آرمی کے طارق سلور اور واپڈا کے عبدالصمد نے براونز میڈل حاصل کیا۔ 110 میٹر ہرڈلز مینزایونٹ میں محسن علی ایئرفورس 14.30 منٹ میں فاصلہ طے کرکے گولڈ ، محمد نواز واپڈا 14.46منٹ میں فاصلہ طے کرنے پر سلور اور صدام حسین آرمی 14.75منٹ میں فاصلہ طے کرنے پر براونز میڈل کے حقدار ٹھہرے ۔ 100 میٹر ویمنز ہرڈلزریس میں ماریہ مراتب آرمی 15.25منٹ میں فاصلہ طے کرکے پہلے ، سمیرا طیبہ واپڈا دوسرے اور غزالہ رمضان واپڈاتیسرے نمبر پر رہیں ۔ ہیمر تھرو مینز ایونٹ میں آرمی کے شکیل گولڈ میڈل حاصل کرنے میں کامیاب رہے ،واپڈا کے اظہرعباس سلور اور واپڈا ہی کے حبیب اللہ براونز میڈل حاصل کرنے میں کامیاب رہے ۔316
اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی گورنربلوچستان محمد خان اچکزئی تھے جنہوں نے آرمی کی مردوں اور واپڈا کی خواتین فاتح ٹیموںکے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے۔ کوئٹہ کی ہزارہ قبیلہ سے تعلق رکھنے والی سکول کی بچیوں نے خصوصی رقص کر کے حاضرین کے دل جیت لئے۔اتھلیٹکس فیڈریشن آف پاکستان کے صدر مےجر جنرل (ر) محمد اکرم ساہی نے 47ویں نیشنل اتھلیٹکس چمپئن شپ کے کامیاب انعقاد پر بلوچستان ایسوسی ایشن کے سیکریٹری قیصر محمود سمیت دیگر عہدیداروں کو مبارکباد دی۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ 47ویں نیشنل اتھلیٹکس چمپئن شپ کے انعقاد سے بلوچستان کی نوجوان نسل کو کھیلوں کی جانب راغب ہونے میں مدد ملے گی بلوچستان میں کھیلوں کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے تسلسل کے ساتھ مواقع ملنے سے نوجوان کھلاڑی اُبھر کر سامنے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل اتھلیٹکس چمپئن شپ میں کئی باصلاحیت کھلاڑیوںنے عمدہ کارکردگی سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ ان کھلاڑیوں کو بین الاقوامی ایونٹس میں پاکستان کی نمائندگی کا موقع ضرور دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومتی سرپرستی کے بغیر اتھلیٹکس کے بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستانی اتھلیٹس کےلئے میڈلز جیتنا ممکن نہیں ہے اگر حکومت بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق انفراسٹرکچر ، ملکی و غیر ملکی کوالیفائیڈ کوچزکی زیر نگرانی بہترین سہولیات کی موجودگی میں کھلاڑیوں کی ٹریننگ اور اتھلیٹس کے معاشی تحفظ کویقینی بنا دے تو بے پناہ صلاحیتوں کے حامل پاکستانی اتھلیٹس اپنی شاندار کارکردگی کی بدولت اتھلیٹکس کے انٹرنیشنل مقابلوں میں میڈلز جیت کر ملک و قوم کا نام روشن کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین، امریکا،جاپان، آسٹریلیا، برطانیہ،روس اور کینیڈا جیسے ممالک میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں لوگ میدانوں کارخ کرتے ہیں اوران ممالک میں کھیلوں کا بہترین انفراسٹرکچر موجود ہے، عالمی معیار کی بہترین سہولیات سے استفادہ کرکے ان ممالک کے کھلاڑی انٹرنیشنل اتھلیٹکس ایونٹس میں شاندار کارکردگی دکھا کر میڈلز جیتتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں ہزاروںکی تعداد میں لوگ میدانوں کا رخ کرتے ہیںاور بد قسمتی سے ہمارے کھلاڑیوں کو انفراسٹرکچر ، عالمی معیارکی سہولیات اورمعاشی تحفظ میسر نہیں ہے نامساعد حالات میں اتھلیٹکس کے انٹرنیشنل ایونٹس میں کھلاڑیوں سے میڈلز کے حصول کی توقعات نہیں کی جا سکتی ہے لہٰذا اگر حکومت کھیل کے میدانوں میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم بلند دیکھنا چاہتی ہے کھیلوں کا بنیادی انفراسٹرکچر، انٹرنیشنل معیار کی سہولیات اور کھلاڑیوں کا معاشی تحفظ یقینی بنانا ہو گا۔انہوں نے کہاکہ اتھلیٹکس فیڈریشن آف پاکستان اپنی مدد آپ کے تحت اتھلیٹکس کے کھیل کو فروغ دینے کےلئے بھرپورکوششیں کررہی ہے،ملکی کھیلوں کا بنیادی انفراسٹرکچرزوال پذیر ہونے کی وجہ سے نوجوان اتھلیٹس کی گرومنگ میں مشکلات کاسامنا کر نا پڑ رہاہے بلاشبہ پاکستان میں اتھلیٹکس سمیت دیگر کھیلوں کابے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے جو انٹرنیشنل معیار کی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے ضائع ہو رہاہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں موجوداتھلیٹکس کے ٹریکس اپنی مدت پوری کر چکے ہیں لہٰذا حکومت ہنگامی بنیادوں پر ملک بھر میں عالمی معیار کے مانڈو ٹریکس بچھائے تاکہ نوجوان اتھلیٹس کو گراس روٹ لیول سے گروم کیاجا سکے۔انہوں نے کہا کہ ہماری فیڈریشن پاکستان کے ٹیکنیکل آفیشلز کو اتھلیٹکس کے انٹرنیشنل مقابلے منعقد کروانے کے قابل بنا رہی ہے تاکہ بین الاقوامی ایونٹس میں پاکستان کی نمائندگی کوممکن بنایاجا سکے۔اس سلسلہ میں اتھلیٹکس فیڈریشن آف پاکستان نے انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف اتھلیٹکس فیڈریشن (آئی اے اے ایف) کے خصوصی تعاون سے اتھلیٹکس کے ٹےکنےکل آفیشلز لیول ون کا پانچ روزہ کورس گزشتہ دنوں واپڈا سپورٹس کمپلیکس میں منعقد کروایا ، کوالیفائیڈ ٹیکنیکل آفیشلز کی تیاری سے ہی نئے اتھلیٹس کی گرومنگ اور اتھلیٹکس کے ایونٹس کا بہترین انداز میں انعقاد ممکن ہوتاہے۔ انہوں نے کہا کہ اتھلےٹکس کے کھےل کی پروموشن کےلئے ہم ایک کمےٹی تشکےل دی ہے جس کے چےئرمےن برےگےڈئےر سلطان محمود ستی ہیںجبکہ دےگر ممبران مےں مےجر غلام شبےر انجم(آرمی)، رفےق احمد (واپڈا)، مسعود جاوےد ملک (پنجاب)، حمےرا خان (سندھ)، وےمن ونگ سے شاہدہ خانم شامل ہیں کمےٹی کے ارکان اتھلےٹکس فےڈرےشن آف پاکستان سے ملحقہ اداروں ، اےسو سی اےشنوں اور ملک کے نامور اتھلیٹس سے مشاورت کرنے کے بعدرپورٹ مرتب کرکے آئندہ جنرل کونسل کی مےٹنگ مےں پےش کرےں گے،پھر اس رپورٹ کی روشنی میں ایک ماسٹر پلان تیار کیاجائے گا جس پر عملدرآمد کے نتیجے میں سامنے آنے والے ٹیلنٹ کو گروم کیاجائے گا،علاوہ ازیں اتھلیٹکس کے کھیل کو ملک بھر میں گراس روٹ لیول سے فروغ دینے کیلئے ایک جامعہ منصوبہ بنایاہے جس کے تحت ڈسٹرکٹ کی سطح پر اتھلیٹکس کی ٹیموں کو فعال بنا کر انٹرڈسٹرکٹ اتھلیٹک چمپئن شپ منعقد کروائی جائے گی اسی طرح ملک بھر کے سکول، کالج اوریوینورسٹی کی سطح پر بھی اتھلیٹکس کے کھیل کو فعال بنا کر مقابلے منعقد کروائے جائےں گے ان مقابلوں میں شاندار کارکردگی کامظاہرہ کرنے والے نوجوان اتھلیٹس کو اسلام آباد میں کیمپ لگا کر کوالیفائیڈ کوچزکی زیر نگرانی ٹریننگ دی جائے گی جبکہ بہترین کھلاڑیوں کو مختلف محکموں میںنوکریاںبھی دلوانے کی کوشش کریں گے تاکہ وہ فکر معاش سے آزاد ہوکر تمام ترتوجہ کھیل پر مرکوز رکھیںاور اپنے شاندار کھیل کے ذریعے عالمی سطح پر ملک و قوم کانام روشن کریں۔

3 (3)پاکستان وےٹ لفٹنگ فےڈرےشن کے سےنئر نائب صدر،انٹرنیشنل ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کے ٹیکنیکل آفیشل سابق انٹرنےشنل وےٹ لفٹر محمد زبےر ےوسف بٹ نے کہا ہے کہ47 وےں نےشنل اتھلےٹکس چمپئن شپ سے صحت مندانہ سرگرمےوں کو فروغ ملے گا،اتھلیٹکس فیڈریشن آف پاکستان کے صدر میجر جنرل (ر) محمد اکرم ساہی اور سیکریٹری جنرل محمد ظفر کامشن اتھلیٹکس کے ذرےعے پاکستان کے سافٹ امےج ، خوبصورت پاکستان اور پاکستانےوں کے پرامن روےوں کی عکاسی کو ےقےنی بنانا ہے اتھلیٹکس فیڈریشن آف پاکستان کے صدر میجر جنرل (ر) محمد اکرم ساہی اور سیکریٹری جنرل محمد ظفر سے اتھلیٹکس کے کھےل کو فروغ دے کر معاشرے مےں پروان چڑھتی ہوئی تنگ نظری اور انتہا پسندی کی سوچ کو ختم کر کے امن،محبت،دوستی اور برداشت کے جذبوں کو پروان چڑھا رہے ہیں۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*