Main Menu

ہوشیار۔۔بھارت پاکستان کو ہاکی عالمی کپ2018میں شرکت سے محروم کر سکتا ہے

وادی مقبوضہ کشمیر میں بھارت گردی کے واقعات تو ہر روز خبروں کی زینت بنتے رہتے ہیں ، اسی طرح پاکستان کے عوام کو بھی بھارت کے شر کا سامنا رہتا ہے ۔

چاہے یہ معاملہ سرحدوں کا ہویا کھیل کے میدان کا، بھارت اپنے ہمسائے کو آنکھیں دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ایسے میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کو چوکنا رہنے کہ ضرورت ہے کہ قومی ہاکی ٹیم کو رواں برس کے آخیر میں بھارت میں ہاکی کے چودہویں عالمی کپ میں حصہ لینا ہے۔

بھارت کے ماضی قریب کے ریکارڈز کو سامنے رکھتے ہوئے یہ خدشہ پھر سر اٹھارہا ہے کہ کہیں بھارت کوئی بہانہ بناکرقومی ٹیم کو ویزے جارے کرنے سے انکار کر دے۔

واضح رہے کہ بھارت اپنی سرزمین پر منعقدہ ایونٹس میں شرکت کے لیے پاکستانی کھلاڑیوں کو اکثر ویزا دینے سے انکار کرتا رہا ہے۔

دسمبر 2016 میں بھارت نے پاکستان کی ریسلنگ، سکواش اور کراٹے کی ٹیم کو ویزا جاری کرنے سے انکار کردیا تھا جس کے باعث وہ ایشین گیمز میں شرکت نہیں کر سکے تھے۔

اس کے بعد پاکستان کی جونیئر ہاکی ٹیم کو گزشتہ برس بھارت میں ہونے والے عالمی کپ کے لیئے ویزے جاری نہیں کیئے گئے تھے جس پر پاکستان ہاکی فیڈریشن نے پھسپھسا سااحتجاج کیا تھا جبکہ حکومتی سطح پر مکمل خاموشی رہی۔

تاہم پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ایک اعلی عہدیدار کے مطابق ماضی کے تلخ تجربات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن(ایف آئی ایچ) نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اسے رواں سال بھارت میں شیڈول ہاکی ورلڈ کپ کے لیے ویزا کے حصول میں کسی قسم کی مشکلات پیش نہیں آئیں گی۔

ہاکی ورلڈ کپ کا 14واں ایڈیشن رواں سال 28نومبر سے 16دسمبر تک بھارت کے شہر بھوبھنیشور میں منعقد ہو گا جس میں پاکستان سمیت دنیا کی 16ٹیمیں شرکت کریں گی۔

لیکن پھر بھی ہوشیار۔۔ کہ ایف آئی ایچ کا سربراہ ایک بھارتی ہے جو بھارتی حکومت کے احکامات کو ٹالنے کی جراءت نہیں کر سکتا ۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*