Main Menu

کھیلوں کے قومی اداروں میں بھی ”تبدیلی “آکے رہے گی

پاکستان تحریک انصاف کی حالیہ عام انتخابات میں کامیابی نے جس طرح اپنے مخالفین کی کئی دہائی سے جمی ہوئی سیاست کو ہلا کے رکھ دیا ہے اسی طرح پاکستان کے کھیلوںکے اداروں کی مسندوں پر براجمان اعلی عہدیداروں کی نیندیں بھی اڑا کر رکھ دی ہیں۔

انہیں محسوس ہونے لگا ہے کہ تبدیلی کی لہر اب یہاں بھی آ کر رہے گی۔

خاص طور پر پاکستان کے منافع بخش ادارے پاکستان کرکٹ بورڈ( پی سی بی) کے سربراہ نجم سیٹھی، جن کی تقرری سابق وزیراعظم نواز شریف کی مکمل آشیر باد سے ممکن ہوئی ،نے اپنا سامان باندھنا شروع کر دیا ہے۔ ان کی جگہ لینے کے لیئے بہت سی شخصیات عمران کی نظر کرم کی منتظر دکھائی دے رہی ہیں۔

وسیم اکرم، رمیز راجہ، ذاکر خان، محسن حسن خان، احسان مانی اور جاوید میانداد پی سی بی کا نیا چیئرمین بننے کے لیئے خود کو امیدوار سمجھ رہے ہیں۔ عمران کے پرانے ریکارڈ کو مدِ نظر رکھا جائے تو ان کا انتخاب رمیز راجہ اور ذاکر خان میں کوئی بھی ہو سکتا ہے۔

عمران ، وسیم اکرم کو پسند کرتے ہیں لیکن وسیم پر ماضی میں میچ فکسنگ کے الزامات لگ چکے ہیں لہذا بہت مشکل ہے کہ وہ انہیں پی سی بی کے اہم عہدے کے لیئے سپورٹ کریں۔

جاوید میانداد کو سندھ کا گورنر لگائے جانے کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔

دوسری جانب پاکستان ہاکی فیڈریشن ، پاکستان فٹ بال فیڈریشن، اور پاکستان اور صوبوںکے سپورٹس بورڈ ز کے اعلی عہدوں پر اہل شخصیات کی تقرریاں ناگزیر ہو چکی ہیں۔

یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کھیلوں کی اتنی بڑی شخصیت کے ہاتھ میں ملک کی باگ ڈور ہو اور وہ کھیلوں کے اداروں میں نااہل افراد کو برداشت کرے۔






Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*