Main Menu

کالم

شہریار کی ڈپلومیسی

تحریر: اشفاق حسین مغل

پاکستان کرکٹ بورڈ نے عالمی کپ میں قومی کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی کے بعد تینوں طرز کی ٹیموں کو نئے سرے سے تیارکرنے کا اچھا فیصلہ کیا جس کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔

زمبابوے کے خلاف ہوم سیریز سے قبل قومی ون ڈے ٹیم دوسٹار کھلاڑیوں بوم بوم آفریدی اور کپتان مصباح الحق کے مستعفی ہونے اور تجربہ کار بلے بازیونس خان کو سلیکٹرز کی جانب سے مسلسل نظر انداز کیئے جانے کے بعد کمزور پڑگئی تھی لیکن شہریار خان کے فیصلوں کی تعریف یہاں اس لیئے ضروری ہے کیونکہ انہوں نے ایک طرف پاکستان کرکٹ بورڈ کے فیصلوں میں اثرانداز ہونے والے معروف صحافی کی چڑیا کو نارض کیا اور دوسرا پی سی بی کی ہرسیریز میں بڑھ چڑھ کر پیسہ لگانے والے ہائرگروپ آف کمپنیز کے سی ای او جاوید آفریدی کو کہ جن کی خواہش تھی کہ شاہد آفری نہیں تو کم از کم احمد شہزاد پاکستان ون ڈے ٹیم کا کپتان بن جائے ۔

ان دونوں پارٹیوں کے دباو¿ کے باوجود اتنا سمجھداری کا فیصلہ کرنا شہریار خان کا ہی کام تھا جو ڈپلومیسی کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔

.ان کے اس فیصلے کے پیچھے کیا وجوہات تھیں وہ اپنے قارئین کے ساتھ شیئرکرنا چاہوں گا

 شہریار خان پی سی بی کے دوبارہ چیئرمین مقرر کیئے گئے تو مجھے ان کے گھر جانے کا اتفاق ہوا اور وہاں ان سے پاکستان کے مستقبل کے کپتان بارے گفت و شنید کرنے کا شرف حاصل ہوا۔

وہاں جن کرکٹرز کے نام زیر غور رہے ان میں احمد شہزاد، عمراکمل ، وہاب ریاض ، اظہرعلی، عمرامین ، یونس خان ، شاہد آفری اور محمد حفیظ تھے ۔ یونس ، آفریدی اور حفیظ کیونکہ پہلے آزمائے جاچکے تھے اس لیئے شہریارخان انہیں موقع دینے کے حق میں نہیں تھے ۔ احمد شہزاد اور عمراکمل کے رویے میں شوخی اور لچھا پن ان کی کپتانی کی راہ میں سب سے بڑی روکاوٹ بنا جبکہ وہاب ریاض کا جذباتی پن بھی شہریارخان کو متاثر نہ کرسکا۔ بات دوکرکٹرز پر آکررکی جس میں عمرامین اور اظہرعلی تھے ۔

دونوں ایک ہی طرز کے کھلاڑی تھے لیکن اظہرعلی زیادہ تجربے اور مزاج میں تحمل کے باعث کپتانی کے حق دار ٹھہرے ۔ اظہر علی نے شہریار خان کی چوائس درست ثابت کردی اور ٹیم میں جونیئراور سینئر کھلاڑیوں کی موجودگی سے اس ٹیم نے پہلے زمبابوے کو آوٹ کلاس کیا اور اب سری لنکن شیروں کے منہ سے نو سال بعد فتح چھین کر اپنے حوصلے مزید بلند کرلیئے ہیں۔اگر اظہر علی قومی کرکٹ ٹیم کو چیمپنز ٹرافی تک رسائی دلوانے میں کامیاب ہوگئے تو کامیابیوں کا نیا تاج ان کے سر سج جائے گا جو آئندہ چندسالوں تک ضرور ان کے سر پرسجارہے گا۔ 

کہنا یہ ہے کہ جس طرح مصباح الحق اور اظہر علی نے ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیم کھڑی کرلی ہے اسی طرح اب ٹی ٹونٹی ٹیم کے کپتان شاہد خان آفری کی باری ہے کہ وہ نئے اور تجربہ کار کھلاڑیوں کے امتزاج سے آئندہ سال بھارت میں ہونے والے ٹی ٹونٹی عالمی کپ کے لیئے اپنی ٹیم کھڑی کریں۔

سلیکٹرز نے ان کی مشاورت سے ٹیم میں نئے آل راونڈر کھلاڑی متعارف کروادیئے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ بار بار آزمائے ہوئے سہیل تنویر جیسے کھلاڑیوں کی بجائے ان نوجوان کھلاڑیوں کو آزمائیں اور ورلڈ کپ کے لیئے ایک اچھا کمپنیشن تیار کرنے کے موقع سے فائدہ اٹھائیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked as *

*